وزارت دفاع
آپریشن سندور نے ہندوستان کے اس پختہ عزم کوظاہر کرتا ہے کہ دہشت گردی کے مراکز اب انصاف پر مبنی سزا سے محفوظ نہیں ہیں:کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) وزرائے دفاع کی میٹنگ میں وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کا بیان
جناب راج ناتھ سنگھ نے دہشت گردی ، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے اور کسی بھی سیاسی استثناء کو مسترد کرتے ہوئے ایک متحدہ محاذ قائم کرنے پر زور دیا
‘‘دہشت گردی کی کوئی قومیت نہیں ہوتی ، کوئی مذہب نہیں ہوتا ؛ ملکوں کو دہشت گردی کی لعنت کے خلاف پختہ اور اجتماعی موقف اختیار کرنا چاہیے’’
‘‘ایس سی او کو دہشت گردوں کو مدد ، پناہ اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے والوں کے خلاف مناسب کارروائی کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں کرنی چاہیے’’
‘‘علاقائی اور عالمی امن و استحکام کو یقینی بنانا ایس سی او کی ذمہ داری ہے’’
‘‘عالمی اتفاق رائے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے جہاں افراتفری ، مسابقت اور تنازعات پر بقائے باہمی ،اکٹھے رہنےاور ہمدردی کو ترجیح دی جائے’’
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 APR 2026 12:49PM by PIB Delhi
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ‘‘آپریشن سندور نے بھارت کے اس پختہ عزم کوظاہر کیا کہ دہشت گردی کے مراکز اب انصاف پر مبنی سزا سے محفوظ نہیں ہیں”۔ انہوں نے 28 اپریل 2026 کو کرغزستان کے شہر بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او)کے وزرائے دفاع کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہاپسندی جیسی “برائیوں” سے نمٹنے کے لیے ایک متحدہ محاذ قائم کرنا ضروری ہے، جس کے لیے محفوظ ٹھکانوں کا خاتمہ اور کسی بھی سیاسی استثنا کو مسترد کرنا لازمی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاستی سرپرستی میں ہونے والی سرحد پار دہشت گردی جو کسی ملک کی خودمختاری پر حملہ کرتی ہے، اس منظر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس معاملے میں دوہرے معیار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

وزیرِ دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ ایس سی او کو ان افراد کے خلاف مناسب کارروائی کرنے سے نہیں ہچکچانا چاہیے جو دہشت گردوں کی مدد کرتے ہیں، انہیں پناہ دیتے ہیں اور ان کے لیے محفوظ ٹھکانے فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہاپسندی کا بلا استثنا مقابلہ کر کے ہم علاقائی سلامتی کو ایک چیلنج سے بدل کر امن اور خوشحالی کی بنیاد بنا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی ایس سی او کا ایک بنیادی اصول ہے اور تنظیم نے ان خطرات اور نظریات کے خلاف مشترکہ جدوجہد میں ہمیشہ ان کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال کے تیانجن اعلامیے کا حوالہ دیا جس میں دہشت گردی کے خلاف بھارت کے مضبوط اور اجتماعی مؤقف کو اجاگر کیا گیا تھااور اسے دہشت گردی اور اس کے مرتکب افراد کو بالکل بھی برداشت نہ کرنے کے بھارت کے مؤقف کا ثبوت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اجتماعی ساکھ کا اصل امتحان تسلسل میں ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ دہشت گردی کا نہ کوئی ملک ہوتا ہے اور نہ کوئی مذہب۔ تمام ممالک کو دہشت گردی کے خلاف مضبوط اور مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
وزیرِ دفاع نے ایس سی او کے علاقائی انسداد دہشت گردی بنیادی ڈھانچے کے اہم کردار کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ بھارت کی صدارت کے دوران جاری ہونے والا سربراہان مملکت کا مشترکہ اعلامیہ “انتہا پسندی، علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کی طرف لے جانے والی شدت پسندی کے خلاف” مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر ایس سی او کا کردار انتہائی اہم ہے کیونکہ آج کی دنیا کا منظر نامہ مختلف دکھائی دیتا ہے اور ممالک تیزی سے اندرونی ترجیحات کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

وزیرِ دفاع نے کہا کہ “کیا ہمیں ایک نئے عالمی نظام کی ضرورت ہے یا ایک ایسا نظام چاہیے جو زیادہ منظم ہو؟ ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں دنیا کے ہر شہری کے ساتھ عزت اور احترام کے ساتھ سلوک کیا جائے۔ ہمیں ایسا نظام چاہیے جس میں اختلافات تنازعات نہ بنیں اور تنازعات تباہی کا پیش خیمہ نہ ثابت ہوں۔ آج کا اصل بحران کسی غیر موجود نظام کا نہیں بلکہ اس رجحان کا ہے جو قائم شدہ اصولوں پر مبنی عالمی نظام پر سوال اٹھاتا ہے۔ ہمیں ایک ایسے عالمی اتفاقِ رائے پر توجہ دینی چاہیے جہاں بقائے باہمی، ہم آہنگی اور ہمدردی کو افراتفری، مقابلہ بازی اور تصادم پر ترجیح دی جائے۔”
جناب راجناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ ایس سی او کی ذمہ داری ہے کہ وہ علاقائی اور عالمی امن و استحکام کو یقینی بنائے۔ “ہمیں مسلسل طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے راستے پر چلنا چاہیے۔ ہمیں یہ نہیں ہونے دینا چاہیے کہ یہ دور تشدد اور جنگ کا دور بن جائے بلکہ یہ امن اور خوشحالی کا دور ہونا چاہیے۔ میں مہاتما گاندھی کا یہ پیغام یاد دلاتا ہوں کہ آنکھ کے بدلے آنکھ سب کو اندھا کر دیتی ہے۔ ہر عمل سے پہلے ہمیں سوچنا چاہیے کہ وہ عمل کسی غریب اور ضرورت مند کی زندگی پر کیا اثر ڈالے گا۔ دفاع اور سلامتی کے ذمہ دار افراد کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم بھائی چارے اور ہم آہنگی کے اس جذبے کو برقرار رکھیں۔ طاقت کا اصل امتحان اسے کمزوروں کے خلاف استعمال کرنے میں نہیں بلکہ ان کے مفاد میں استعمال کرنے میں ہے جو اپنا دفاع نہیں کر سکتے۔”

وزیرِ دفاع نے کہا کہ بھارت کا یہ یقین ہے کہ ایس سی او کے پاس وہ ضروری قوت اور عزم موجود ہے جو امن اور استحکام میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدیم بھارتی فلسفہ “وسودھیو کٹم بکم” (پوری دنیا ایک کنبہ ہے) اسی بقائے باہمی اور یکجہتی کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے، جو نسل اور مذہب کے تمام اختلافات سے بالاتر ہے۔
جناب راجناتھ سنگھ نے بھارت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ایس سی او کے دائرہ اختیارات کے مؤثر نفاذ میں تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ رکن ممالک کے درمیان برابری، باہمی احترام اور گہری تفہیم کی بنیاد پر زیادہ تعاون اور باہمی اعتماد اس تنظیم کو امن اور امید کی علامت بنا سکتا ہے۔
اجلاس کے دوران وزیرِ دفاع نے رکن ممالک کے ساتھ خطے کی سلامتی، دہشت گردی اور انتہاپسندی سے متعلق امور پر تفصیلی بات چیت کی اور اس کے عالمی امن و سکون پر اثرات پر بھی غور کیا گیا۔ ایس سی او کے اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ سال 2026 کی علامتی اہمیت ہے، کیونکہ یہ تنظیم کے قیام کی 25ویں سالگرہ کا سال ہے اور بڑھتی ہوئی غیر یقینی اور عدم استحکام کے باعث اس کا کردار پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔

***
ش ح۔م ع۔ م ذ
UR. No. 6403
(ریلیز آئی ڈی: 2256317)
وزیٹر کاؤنٹر : 11