کیمیائی صنعتوں اور کھاد کی وزارت: کھاد سے متعلق محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

حکومت نے کسانوں کے لیے کھاد کے وافر مقدار میں ذخائر کی تصدیق کی


یوریا-موجودہ اسٹاک 53.08 ایل ایم ٹی، ڈی اے پی- 21.80 ایل ایم ٹی،ایم او پی-7.98 ایل ایم ٹی ، اور این پی کے ایس 48.38 ایل ایم ٹی موجودہیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 MAR 2026 6:42PM by PIB Delhi

حکومت ہند نے یقین دلایا ہے کہ جاری ربیع 26-2025سیزن اور اس کے بعد کسانوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کھاد کا مناسب ذخیرہ دستیاب ہے۔ آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں کیمیکل اور کھاد کی وزیر مملکت محترمہ انوپریہ پٹیل نے بتایا کہ 23 ​​مارچ 2026 تک، ملک کے پاس 53.08 ایل ایم ٹی یوریا ، ڈی اے پی21.80 ایل ایم ٹی، ایم او پی7.98 ایل ایم ٹی اور این پی کے ایس 48.38 ایل ایم ٹی کافی مقدار میں موجود ہے جو زرعی ضروریات کے لیے کافی ہے۔

اس کے مطابق، ملک میں جاری ربیع 2025-26 کے سیزن کے دوران کھادوں کی ضرورت، دستیابی، فروخت اور دستیاب اسٹاک یعنی یوریا، ڈی اے پی، ایم او پی اور این پی کے ایس کے بارے میں معلومات درج ذیل ہیں:

 

ل ہیں:

ربیع26-2025 کے لیے کل ہند فرٹیلائزر کی صورتحال (23/03/26 تک)

اعداد ایل ایم ٹی میں

نمبر شمار

مصنوعات

مناسب شرح کی ضرورت 01/10/25 سے 23/03/26 تک

دستیابی 01/10/25 سے 23/03/26 تک

سے 01/10/25 23/03/26 تک فروخت

23/03/26 کو اسٹاک

1

یوریا

192.20

250.26

197.21

53.08

2

ڈی اے پی

52.80

74.74

52.94

21.80

3

ایم او پی

15.23

19.07

11.10

7.98

4

این پی کے ایس

80.57

114.96

66.61

48.38

 

 

بھارت اپنی یوریا اور فاسفیٹک کھادوں کی مانگ پوری کرنے کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ اس انحصار کے پیش نظر مستحکم اور یقینی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے محکمۂ کھاد نے بھارتی کمپنیوں یعنی کے آر آئی بی ایچ سی او، آئی پی ایل اور سی آئی ایل اور سعودی عرب کی کمپنی ایم /ایس مادین کے درمیان طویل مدتی معاہدات(لانگ ٹرم ایگریمنٹ-ایل ٹی اے) کے انعقاد میں سہولت فراہم کی ہے۔ ان معاہدوں کے تحت سال 26-2025 سے 30-2029 تک پانچ سال کی مدت میں بھارت کو سالانہ 31 لاکھ میٹرک ٹن (ایل ایم ٹی)  ڈی اے پی/این پی کے کی فراہمی ہوگی۔

مزید برآں،23-2022 سے 26-2025 (فروری 2026 تک) کے دوران کھادوں (یوریا، ڈی اے پی، ایم او پی اور این پی کے) کی ملک وار درآمدات کی تفصیلات ضمیمہ میں فراہم کی گئی ہیں۔

یوریا کے حوالے سے حکومت نے 2 جنوری 2013 کو نئی سرمایہ کاری پالیسی نیو انویسٹمنٹ پالیسی (این آئی پی) 2012  کا اعلان کیا تھا اور 7 اکتوبر 2014 کو اس میں ترمیم کی گئی، تاکہ یوریا کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے اور بھارت کو یوریا کے شعبے میں خود کفیل بنایا جا سکے۔ این آئی پی-2012 کے تحت مجموعی طور پر 6 نئی یوریا یونٹس قائم کی گئی ہیں، جن میں 4 یونٹس نامزد پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگز (پی ایس یو)  کی جوائنٹ وینچر کمپنیوں (جے وی سی) کے ذریعے اور 2 یونٹس نجی کمپنیوں کے ذریعے قائم کی گئی ہیں۔

جے وی سی کے ذریعے قائم کردہ یونٹس میں تلنگانہ میں رام گنڈم فرٹیلائزرز اینڈ کیمیکلز لمیٹڈ (آر ایف سی ایل)  کا رام گنڈم یوریا یونٹ اور ہندستان اُروورک اینڈ رسائن لمیٹڈ (ایچ یو آر ایل) کے تین یوریا یونٹس شامل ہیں، جو بالترتیب اتر پردیش (گورکھپور)، جھارکھنڈ (سندری) اور بہار (بارونی) میں واقع ہیں۔

نجی کمپنیوں کے تحت قائم کردہ یونٹس میں مغربی بنگال میں میٹکس فرٹیلائزر اینڈ کیمیکل لمیٹڈ  کا پاناگڑھ یوریا یونٹ اور راجستھان میں کیمبل فرٹیلائزر اینڈ کیمیکل لمیٹڈ(سی ایف سی ایل)  کا گاڈیپن-III یوریا یونٹ شامل ہیں۔

ان تمام یونٹس کی تنصیبی پیداواری صلاحیت 12.7 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ (ایل ایم ٹی پی اے) ہے۔ یہ یونٹس جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی ہونے کی وجہ سے انتہائی توانائی مؤثر ہیں۔ اس طرح ان یونٹس نے مجموعی طور پر 76.2 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ یوریا پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک کی نظرثانی شدہ یوریا پیداواری صلاحیت(آر اے سی15-2104) میں 207.54 ایل ایم ٹی سے بڑھ کر 24-2023 میں 283.74 ایل ایم ٹی ہو گئی ہے۔

مزید برآں،ایف سی آئی ایل کے تالشیر یونٹ کی بحالی کے لیے خصوصی پالیسی منظور کی گئی ہے، جس کے تحت نامزد پی ایس یو کی جوائنٹ وینچر کمپنی ٹیلچر فرٹیلائزر لمیٹڈ (ٹی ایف ایل) کے ذریعے کوئلہ گیسفی کیشن روٹ پر ایل ایم ٹی 12.7 سالانہ صلاحیت کا نیا گرین فیلڈ یوریا پلانٹ قائم کیا جائے گا۔ حال ہی میں مرکزی کابینہ نے آسام کے نامروپ میں موجود برہم پترا ویلی برہم پترا ویلی فرٹیلائزر کارپوریشن لمیٹڈ (بی وی ایف سی ایل) کے احاطے میں 12.7 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ یوریا پیداوار کی صلاحیت والے نئے براون فیلڈ امونیا-یوریا کمپلیکس کے قیام کی منظوری دی ہے، جسے آسام ویلی فرٹیلائزر اینڈ کیمیکل کمپنی لمیٹڈ (اے وی ایف سی سی ایل)کہا جاتا ہے۔

مزید یہ کہ حکومت نے 25 مئی 2015 کو موجودہ 25 گیس پر مبنی یوریا یونٹس کے لیے نئی یوریا پالیسی (این یو پی 2015) نافذ کی، جس کا مقصد آر اے سی سے زیادہ ملکی یوریا پیداوار کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا ہے۔ اس پالیسی کے نتیجے میں 15-2014 کے مقابلے میں سالانہ 20 سے 25 لاکھ میٹرک ٹن اضافی یوریا پیداوار حاصل ہوئی ہے۔

ان تمام اقدامات کے نتیجے میں یوریا کی پیداوار 15-2014 میں 225 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ سے بڑھ کر 24-2023 میں ریکارڈ 314.07 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ سال 25-2024 کے  دوران ملک میں 306.67 لاکھ میٹرک ٹن یوریا پیدا کیا گیا۔

مزید برآں، حکومت نے یکم اپریل 2010 سے فاسفیٹک اور پوٹاشیئم (پی اینڈ کے) کھادوں کے لیے نیوٹریئنٹ بیسڈ سبسڈی (این بی ایس) اسکیم نافذ کی ہے۔ اس اسکیم کے تحت پی اینڈ کے کھادیں اوپن جنرل لائسنس(او جی ایل) کے تحت آتی ہیں اور کمپنیوں کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنی کاروباری حکمت عملی کے مطابق ان کھادوں کی درآمد یا تیاری کر سکیں۔

درآمدی فاسفیٹک کھادوں پر انحصار کم کرنے اور ملک کو خود کفیل بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے درج ذیل اقدامات کیے گئے ہیں:

  1. محکمۂ کھاد نے 18 جنوری 2024 کو ہدایات جاری کی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ قیمت (ایم آر پی) کی معقولیت کو یقینی بنایا جا سکے اور ملکی پیداوار کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔
  2. درخواستوں کی بنیاد پر، نئی پیداواری یونٹس یا موجودہ یونٹس کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کو این بی ایس (نیوٹریئنٹ بیسڈ سبسڈی) اسکیم کے تحت تسلیم کیا گیا ہے یا ریکارڈ میں شامل کیا گیا ہے۔
  3. این بی ایس پالیسی کے تحت شامل پی اینڈ کے کھادوں کی اقسام کی تعداد 2021 میں 22 گریڈز سے بڑھ کر 28 گریڈز تک پہنچ گئی ہے۔
  4. سنگل سپر فاسفیٹ (ایس ایس پی) ، جو ایک مقامی طور پر تیار کی جانے والی کھاد ہے، پر مال برداری (فریٹ) سبسڈی خریف 2022 سے منظور کی گئی ہے تاکہ مٹی میں فاسفیٹک یا ‘پی’ غذائی اجزاء کی فراہمی کے لیے ایس ایس پی کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔

 

وزیر موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ سبسڈی کے نظام کے ذریعے کسانوں کو قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ یوریا بدستور مقررہ قانونی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت(ایم آر پی242روپے) فی45 کلوگرام بوری پر فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ این بی ایس اسکیم کے تحت خصوصی انتظامات کے ذریعے ڈی اے پی اور دیگر پی اینڈ کے کھادوں کی قیمتیں قابلِ برداشت رکھی گئی ہیں۔ان انتظامات میں لاجسٹکس، جی ایس ٹی اور مناسب منافع کو پورا کرنے کے لیے اضافی 3,500 روپے فی میٹرک ٹن شامل ہیں، جو خریف 2025 اور ربیع 26-2025 کے دوران درآمدی اور ملکی دونوں قسم کے ڈی اے پی اور درآمدی ٹی ایس پی پر لاگو کیے گئے ہیں۔

Annexure

Country Wise Import of Fertilizers (Urea, DAP, MOP and NPK) during 2022-23 to 2025-26 ( Till Feb 2026)

<Figures in Lakh MT)

Country Name

2022-23

2023-24

2024-25

2025-26 (Till FEB-2026)

Urea

DAP

MOP

NPK

Urea

DAP

MOP

NPK

Urea

DAP

MOP

NPK

UREA

DAP

MOP

NPK

Algeria

3.07

 

 

 

0.35

 

 

 

 

 

 

 

2.17

0.26

 

 

Australia

 

1.51

 

 

 

 

 

 

 

1.82

 

 

 

3.80

 

 

Bahrain

1.77

 

 

 

0.94

 

 

 

1.17

 

 

 

2.04

 

 

 

Brunei

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

1.51

 

 

 

Canada

 

 

7.20

 

 

 

7.39

 

 

0.09

8.83

 

 

 

4.82

 

China

12.80

12.17

 

0.83

18.65

22.28

 

0.30

0.99

8.47

 

0.77

21.24

5.11

0.28

9.61

Egypt

2.63

 

 

 

0.92

0.18

 

 

0.47

0.44

 

 

1.93

0.44

 

 

Estonia

0.09

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Finland

7.69

 

 

 

1.41

0.33

 

 

 

 

 

 

5.45

 

 

 

Germany

 

 

 

 

 

 

0.64

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Georgia

1.98

 

 

 

 

 

 

 

0.44

 

 

 

1.24

 

 

 

Indonesia

1.34

 

 

0.27

2.16

 

 

2.14

0.97

 

 

0.28

6.14

 

 

1.21

Israel

 

0.44

6.38

 

 

 

3.08

 

 

 

2.80

 

 

 

2.57

 

Jordan

 

1.65

4.09

0.12

 

1.74

4.31

 

 

2.39

3.01

 

 

1.72

2.39

 

Libya

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

0.42

 

 

 

Nigeria

1.39

 

 

 

 

 

 

 

2.83

 

 

 

3.59

 

 

 

Malaysia

1.59

 

 

 

1.42

 

 

 

1.91

 

 

 

3.50

 

 

 

Morocco

 

17.47

 

 

 

11.13

 

 

 

10.74

 

 

 

17.56

 

 

Oman

19.60

 

0.14

 

19.53

 

 

 

26.13

 

 

 

15.50

 

 

 

Qatar

5.02

 

 

 

1.70

 

 

 

3.70

 

 

 

8.42

 

 

 

Russia

6.26

9.24

0.85

22.21

15.73

3.41

12.36

17.04

9.23

2.69

18.00

18.27

13.99

7.55

12.97

21.00

Saudi-Arabia

4.61

21.22

 

2.70

2.36

16.29

 

2.69

5.38

19.05

 

3.40

5.27

24.36

 

1.99

Senegal

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

0.06

 

 

South Korea

 

 

 

1.07

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

1.37

Turkey

 

 

 

0.32

 

 

 

 

 

 

 

 

 

0.41

 

0.28

Turkmenistan

 

 

 

 

 

 

0.41

 

 

 

2.77

 

 

 

4.69

 

TUNISIA

 

0.85

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

UAE

4.16

 

 

 

5.08

 

 

 

3.25

 

 

 

3.04

 

 

 

USA

0.49

1.28

 

 

 

0.31

0.5

 

 

 

 

 

 

0.40

 

 

Vietnam

1.31

 

 

 

0.17

 

 

 

 

 

 

 

2.54

 

 

 

Grand Total:

75.80

65.83

18.66

27.52

70.42

55.67

28.69

22.17

56.47

45.69

35.41

22.72

97.99

61.67

27.72

35.46

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

******

ش ح۔ش ب۔ ج ا

U-6350


(ریلیز آئی ڈی: 2255930) وزیٹر کاؤنٹر : 27
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी