خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعتوں کی وزارت
ڈبہ بند خوراک کا بنیادی ڈھانچہ اور پی ایم-ایف ایم ای اسکیم
پی ایم ایف ایم ای اسکیم کے تحت 1.72 لاکھ سے زائد چھوٹے پیمانے کی خوراک کی صنعتوں کو مدد فراہم کی گئی: بھارت کے ڈبہ بند خوراک کے شعبے کو فروغ حاصل ہوا
प्रविष्टि तिथि:
27 MAR 2026 9:46PM by PIB Delhi
پردھان منتری فارملائزیشن آف مائیکرو فوڈ پروسیسنگ انٹرپرائزز (پی ایم ایف ایم ای) اسکیم کے تحت 31 دسمبر 2025 تک 1,72,707 مائیکرو فوڈ پروسیسنگ اداروں کے لیے قرضوں کی منظوری دی گئی ہے۔ ریاست وار تفصیلات ضمیمہ I میں دی گئی ہیں۔
ڈبہ بند خوراک کی صنعتوں کی وزارت (ایم او ایف پی آئی) وقتاً فوقتاً ملک میں مختلف زرعی اجناس کے بعد از برداشت نقصانات کا تخمینہ بنیادی سرویز پر مبنی مطالعات کے ذریعے لگاتی ہے۔ اس سلسلے میں وزارت نے دو مطالعات کروائیں: (i) انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) - سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف پوسٹ ہارویسٹ انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (سی آئی پی ایچ ای ٹی) کے ذریعے 2015 میں، جس کا حوالہ سال 14-2012 تھا، اور (ii) نبارڈ کنسلٹنسی سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ(این اے بی سی او این ایس) کے ذریعے 2022 میں، جس کا حوالہ سال 22-2020تھا۔ ان مطالعات کی بنیاد پر بھارت میں مختلف زرعی اجناس کے سپلائی چین کے مختلف مراحل میں کاشت اور بعد از کاشت کے نقصانات کے تخمینے کی فیصد تفصیلات ضمیمہ II میں دی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ، اس وزارت کی جانب سے ایم/ایس اے ایم ایس، نئی دہلی کے ذریعے “انٹیگریٹڈ کولڈ چین اینڈ ویلیو ایڈیشن انفراسٹرکچر(آئی سی سی اور وی اے آئی)” پر کی گئی ایک تحقیق کے مطابق ملک بھر میں اس انفراسٹرکچر کے نفاذ کے ذریعے 45.76 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ پروسیسنگ کی گئی ہے، جس کی مالیت 25,525.88 کروڑ روپے ہے۔
پردھان منتری کسان سمپدا یوجنا (پی ایم کے ایس وائی) کے تحت میگا فوڈ پارک اسکیم کے سلسلے میں 2012، 2014 اور 2015 میں اس اسکیم کی باقاعدہ تھرڈ پارٹی کے ذریعے جانچ/اثر کا جائزہ لیا گیا، جبکہ آخری جائزہ 21-2020 میں کیا گیا۔ اثراتی جائزہ رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ اس اسکیم کا ازسرِنو جائزہ لے کر اسے اہم تبدیلیوں کے ساتھ دوبارہ شروع کیا جائے یا صنعت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ایک نئی اسکیم تیار کی جائے جو موجودہ میگا فوڈ پارک منصوبوں کی تکمیل کرے اور ملک میں فوڈ پروسیسنگ شعبے کو مزید فروغ دے۔
اس اسکیم کے تحت کم از کم 50 ایکڑ زمین کی ضرورت ہوتی تھی، جو پہاڑی اور مشکل علاقوں میں اکثر رکاوٹ بنتی تھی۔ مختلف ریاستی حکومتوں اور 12ویں مالیاتی کمیشن کی ورکنگ گروپ کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے، پی ایم کے ایس وائی کے تحت “ایگرو پروسیسنگ کلسٹر” نامی نئی اسکیم شروع کی گئی تاکہ نسبتاً چھوٹے 10 ایکڑ رقبے میں مشترکہ بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جا سکے۔ چونکہ میگا فوڈ پارک اسکیم کا مقصد پہلے ہی ایگرو پروسیسنگ کلسٹر اسکیم کے ذریعے پورا کیا جا چکا تھا، اس لیے فیصلہ کیا گیا کہ میگا فوڈ پارک اسکیم کو 01.04.2021 سے بند کر دیا جائے، البتہ اس سے متعلق واجب الادا ذمہ داریاں برقرار رہیں گی۔
پی ایم ایف ایم ای اسکیم کے تحت انفرادی مائیکرو فوڈ پروسیسنگ اداروں، فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف پی اوز)، کوآپریٹیوز اور سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جیز) کو کریڈٹ سے منسلک سرمایہ جاتی سبسڈی، صلاحیت سازی، برانڈنگ اور مارکیٹنگ معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ سرمایہ جاتی سبسڈی کے تحت مائیکرو فوڈ پروسیسنگ اداروں کو پلانٹ اور مشینری کی خریداری اور تکنیکی تعمیراتی کام کے لیے مدد دی جاتی ہے تاکہ جدیدیت اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دیا جا سکے۔ صلاحیت سازی کے پروگرامز کے ذریعے مصنوعات کے معیار، پیکیجنگ اور فوڈ سیفٹی و برآمدی معیار کے تقاضوں کو بہتر بنایا جاتا ہے۔
پی ایم ایف ایم ای اسکیم کے تحت برانڈنگ اور مارکیٹنگ سپورٹ میں اہل منصوبے کی لاگت کا 50 فیصد تک گرانٹ فراہم کی جاتی ہے، جو ایف پی اوز/ایس ایچ جیزکوآپریٹیوز کے گروپس یا اسپیشل پرپز وہیکل (ایس پی وی) کو کلسٹر اپروچ کے تحت مشترکہ برانڈ تیار کرنے کے لیے دی جاتی ہے، جس میں کوالٹی کنٹرول، معیاری سازی، پیکیجنگ اور فوڈ سیفٹی معیار کی پابندی شامل ہوتی ہے تاکہ مصنوعات کو ریٹیل مارکیٹ میں فروخت کیا جا سکے۔ پروسیسڈ فوڈ مصنوعات کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے خریدار و فروخت کنندگان کی میٹنگیں، میلوں اور نمائشوں میں شرکت اور منظم ریٹیل و ای-کامرس پلیٹ فارمز سے انضمام کے ذریعے مارکیٹ سے رابطہ فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، زرعی و ڈبہ بند خوراک کی مصنوعات کی تیاری سے متعلق ترقیاتی اتھارٹی (اے پی ای ڈی اے) مختلف اسکیموں کے تحت مائیکرو فوڈ پروسیسرز سمیت پروسیسڈ فوڈ ایکسپورٹرز کو انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ، معیار اور مارکیٹ ڈیولپمنٹ وغیرہ کے لیے مراعات فراہم کرتی ہے۔
ضمیمہ I
31 دسمبر 2025 تک پی ایم ایف ایم ای اسکیم کے تحت منظور کیے گئے قرضوں کی ریاست کے لحاظ سے تعداد
|
نمبر شمار
|
ریاست/مرکز کے زیرانتظام علاقے
|
مائیکرو انٹرپرائزز کی تعداد
|
|
1
|
انڈمان اور نکوبار جزائر
|
18
|
|
2
|
آندھرا پردیش
|
8651
|
|
3
|
اروناچل پردیش
|
149
|
|
4
|
آسام
|
5194
|
|
5
|
بہار
|
28648
|
|
6
|
چندی گڑھ
|
5
|
|
7
|
چھتیس گڑھ
|
1442
|
|
8
|
دادر اور نگر حویلی اور دمن اور دیو
|
12
|
|
9
|
دہلی
|
378
|
|
10
|
گوا
|
141
|
|
11
|
گجرات
|
1217
|
|
12
|
ہریانہ
|
1737
|
|
13
|
ہماچل پردیش
|
2628
|
|
14
|
جموں و کشمیر
|
2121
|
|
15
|
جھارکھنڈ
|
4665
|
|
16
|
کرناٹک
|
8402
|
|
17
|
کیرالہ
|
8478
|
|
18
|
لداخ
|
96
|
|
19
|
مدھیہ پردیش
|
13221
|
|
20
|
مہاراشٹر
|
27360
|
|
21
|
منی پور
|
310
|
|
22
|
میگھالیہ
|
237
|
|
23
|
میزورم
|
67
|
|
24
|
ناگالینڈ
|
440
|
|
25
|
اوڈیشہ
|
3075
|
|
26
|
پڈوچیری
|
203
|
|
27
|
پنجاب
|
3108
|
|
28
|
راجستھان
|
1444
|
|
29
|
سکم
|
66
|
|
30
|
تمل ناڈو
|
17869
|
|
31
|
تلنگانہ
|
7345
|
|
32
|
تریپورہ
|
286
|
|
33
|
اتر پردیش
|
22060
|
|
34
|
اتراکھنڈ
|
1087
|
|
35
|
مغربی بنگال
|
547
|
| |
کل
|
172707
|
ضمیمہ II
اہم فصلوں اور اجناس کی کاشت کے بعدہونے والے نقصانات
|
فصلیں / اجناس
|
نقصان(فیصد)
|
|
آئی سی اے آر-سی آئی پی ایچ ای ٹی مطالعہ (2015) کے مطابق *
|
این اے بی سی او این ایس کے مطالعہ کے مطابق (2022**)
|
|
اناج
|
4.65 - 5.99
|
3.89-5.92
|
|
دالیں
|
6.36 - 8.41
|
5.65-6.74
|
|
تیل کے بیج
|
3.08 - 9.96
|
2.87-7.51
|
|
پھل
|
6.70-15.88
|
6.02-15.05
|
|
سبزیاں
|
4.58-12.44
|
4.87-11.61
|
|
باغبان کی فصلیں اور مصالحے
|
1.18-7.89
|
1.29-7.33
|
|
دودھ
|
0.92
|
0.87
|
|
ماہی گیری (اندرونی)
|
5.23
|
4.86
|
|
ماہی گیری (سمندری)
|
10.52
|
8.76
|
|
گوشت
|
2.71
|
2.34
|
|
مرغی
|
6.74
|
5.63
|
|
انڈا
|
7.19
|
6.03
|
ماخذ: *ہندوستان میں بڑی فصلوں اور اجناس کی کاشت اور کاشت کے بعد کے ہونے والے نقصانات کے تخمینے پر رپورٹ، 2015۔ ** این اے بی سی او این ایس اسٹڈی 2022
یہ معلومات ڈبہ بند خوراک کی صنعتوں کے وزیر مملکت جناب روونیت سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔
*****
(ش ح ۔ع ح۔ م ش)
U. No.6347
(रिलीज़ आईडी: 2255859)
आगंतुक पटल : 19