نیتی آیوگ
نیتی آیوگ نے “موثر شہری حکمرانی کی جانب پیش رفت – دس لاکھ سے زائد آبادی والے شہروں کے لیے ایک خاکہ” کے عنوان سے رپورٹ جاری کی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 APR 2026 9:21PM by PIB Delhi
رہائش و شہری امور کے مرکزی وزیر جناب منوہر لال کھٹر نے 25 اپریل 2026 کو نئی دہلی میں واقع انڈیا ہیبیٹیٹ سینٹر میں نیتی آیوگ کی جانب سے تیار کردہ “موثر شہری حکمرانی کی جانب پیش رفت – دس لاکھ سے زائد آبادی والے شہروں کے لیے ایک خاکہ” رپورٹ جاری کی۔ اس پروگرام میں 10 سے زائد ریاستوں کے شہری ترقی کے وزراء نے شرکت کی، جو شہری حکمرانی میں اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لیے وسیع شمولیت اور عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
سال 2047 تک ’وکست بھارت‘ کے ہدف کے حصول اور 30 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کی سمت میں پیش رفت کے لیے بھارت کی شہرکاری نہایت اہم ہے۔شہر اقتصادی ترقی کو رفتار دینے، اختراع کو فروغ دینے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم، ان کی صلاحیتیں متعدد ساختی چیلنجوں کی وجہ سے محدود رہ جاتی ہیں، جیسے کہ ادارہ جاتی نظام کا بکھراؤ، اختیارات کی محدود منتقلی، کمزور مالی خودمختاری اور جوابدہی کی عدم وضاحت۔ اس لیے شہروں کو مؤثر طریقے سے کام کرنے کے قابل بنانے کے لیے شہری حکمرانی کو مضبوط کرنا انتہائی ضروری ہے۔
نیتی آیوگ کی رپورٹ “موثر شہری حکمرانی کی جانب پیش رفت – دس لاکھ سے زائد آبادی والے شہروں کے لیے ایک خاکہ” ان چیلنجوں کے حل کے لیے ایک مربوط لائحہ عمل پیش کرتی ہے۔ یہ رپورٹ شعبہ جاتی اصلاحات کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی بنیاد کو مستحکم کرنے کی اہمیت پر زور دیتی ہے اور بھارت کے دس لاکھ سے زائد آبادی والے شہروں کو بڑے اقتصادی مراکز کے طور پر ترجیح دیتی ہے، جو قومی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ رپورٹ حکمرانی سے متعلق دیرینہ مسائل کی نشاندہی کرتی ہے، جن میں کمزور اور منتشر قیادت کے ڈھانچے، محدود مالی صلاحیت اور استعداد کی کمی شامل ہیں، جو خدمات کی فراہمی اور شہری نظم و نسق کو متاثر کرتی ہیں۔ رپورٹ شہر کی سطح پر اختیارات، ذمہ داریوں اور وسائل کی واضح تنظیمِ نو کے ذریعے بااختیار حکومتوں کی طرف پیش رفت کا مطالبہ کرتی ہے۔ ایسی تبدیلی کا عمل شہروں کو مؤثر ترقی کے محرک اور جوابدہ خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے طور پر فعال بنانے کے لیے نہایت ضروری ہے۔
رپورٹ کی اہم سفارشات میں شامل ہیں:
- شہری قیادت کو مضبوط بنانے کے لیے ایک مقررہ مدت کے ساتھ براہِ راست منتخب میئر کا نظام قائم کیا جائے، جسے ایک مؤثر ’میئر اِن کونسل‘ نظام کی حمایت حاصل ہو، تاکہ فیصلہ سازی میں تسلسل، وضاحت اور جوابدہی یقینی بنائی جا سکے۔
- ہم آہنگی اور جوابدہی کو بہتر بنانے کے لیے پانی کی فراہمی، صفائی ستھرائی اور عوامی نقل و حمل جیسی اہم خدمات کو شہری حکومتوں کے دائرۂ اختیار میں لانے کی سفارش کی گئی ہے۔
- بلدیاتی مالیات کو مستحکم کرنے کے لیے خود کے ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی میں اضافہ، مضبوط ریاستی مالیاتی کمیشنوں کے ذریعے زیادہ قابلِ پیش گوئی اور بروقت مالی منتقلی کو یقینی بنانا اور میونسپل بانڈز جیسے بازار پر مبنی مالیاتی ذرائع تک رسائی فراہم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
- خدمات کی فراہمی میں شامل متعدد نیم سرکاری اداروں کو شہری حکومت کے ماتحت لا کر ادارہ جاتی تنظیمِ نو کی سفارش کی گئی ہے، جس میں کرداروں کی واضح تعین اور بہتر ہم آہنگی کا نظام شامل ہو۔
مؤثر نفاذ کے لیے رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ریاستیں اپنے بلدیاتی قوانین میں ترمیم کریں تاکہ ان حکمرانی اصلاحات کو شامل کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، رہائش اور شہری امور کی وزارت سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ ’ بلدیاتی قانون سے متعلق ماڈل‘ میں اصلاح کرے اور ان اصلاحات کو اپنانے کے لیے رہنمائی اور ترغیبات فراہم کرے۔
رپورٹ کے نفاذ کے لیے مرحلہ وار طریقہ کار تجویز کیا گیا ہے، جس سے آزمائش، سیکھنے اور قابلِ توسیع ڈھانچوں کی تیاری میں مدد ملے گی۔ یہ طریقہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اصلاحات عملی اور پائیدار ہوں۔ مجموعی طور پر، یہ رپورٹ بھارت میں شہری حکمرانی کو مضبوط بنانے کے لیے ایک جامع خاکہ پیش کرتی ہے اور اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ ملک کی اگلی ترقیاتی منزل معاشی طور پر متحرک، اچھی طرح منظم اور رہنے کے قابل شہروں کے ذریعے ہی ممکن ہوگی۔ اس لیے شہری حکومتوں کو مضبوط بنانا صرف ایک انتظامی ترجیح نہیں بلکہ قومی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے ایک اسٹریٹجک ضرورت بھی ہے۔
نیتی آیوگ کے رکن راجیو گوبا نے رپورٹ کی اہم خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ وسیع مشاورت، شواہد پر مبنی تجزیے اور ماہرین کے ایک گروپ کے ساتھ عالمی بہترین طریقوں کے مطالعے کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ “موثر شہری حکمرانی کی جانب پیش رفت” دراصل شہری حکومتوں کے قیام کی ضرورت پر زور دیتی ہے، جو اب بھی ایک بڑی کمی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مضبوط شہری حکومتوں کے بغیر بھارت اپنے شہروں کی معاشی صلاحیت سے مکمل فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور ان سفارشات کا مؤثر نفاذ ہی ’وکست بھارت‘ کے وژن کو حقیقت میں بدلنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

*****
(ش ح ۔ع ح۔ م ش)
U. No.6329
(ریلیز آئی ڈی: 2255788)
وزیٹر کاؤنٹر : 7