ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وزارتِ ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی اور قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی کی طرف سے تمل ناڈو اور میگھالیہ میں نچلی سطح پر حیاتیاتی تنوع کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کے لیے پانچ سالہ منصوبہ شروع

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 26 APR 2026 8:48AM by PIB Delhi

نچلی سطح پر حیاتیاتی تنوع کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے، مقامی برادریوں اور اداروں کو بااختیار بنانے، گرام پنچایت ترقیاتی منصوبوں (جی پی ڈی پیز) کو سرسبز بنانے اور جدید مالی وسائل کے فروغ کے لیے مرکزی وزارتِ ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی (ایم او ای ایف سی سی) اور قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی (این بی اے) نے ایک اہم پانچ سالہ منصوبہ شروع کیا ہے، جس کا عنوان ’’حیاتیاتی تنوع کے تحفظ سے متعلق وعدوں کی تکمیل کے لیے ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا‘‘ ہے۔ یہ منصوبہ حکومتِ ہند، عالمی ماحولیاتی سہولت (جی ای ایف) اور اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کا مشترکہ اقدام ہے، جس کے لیے 2025 تا 2030 کے عرصے میں 4.88 ملین امریکی ڈالر کی گرانٹ فراہم کی گئی ہے۔

یہ منصوبہ دو ماحولیاتی اعتبار سے نہایت اہم علاقوں پر مبنی ہے۔ تمل ناڈو میں ستیہ منگلم کا علاقہ، جہاں مغربی اور مشرقی گھاٹ آپس میں ملتے ہیں، مدوملائی ٹائیگر ریزرو اور ستیہ منگلم ٹائیگر ریزرو پر مشتمل ہے۔ یہاں جنگلاتی سرحدی علاقوں کی برادریاں طویل عرصے سے جنگلی حیات کی گزرگاہوں کی محافظ رہی ہیں۔ ان کے گہرے ماحولیاتی علم کو (جی پی ڈی پیز) میں شامل کیا جائے گا تاکہ مقامی نظم و نسق میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو نمایاں مقام حاصل ہو۔

میگھالیہ کے گارو ہلز میں نوکریک بایوسفیر ریزرو، بلپکرم نیشنل پارک اور سیجو وائلڈ لائف سینکچری مل کر سرکاری جنگلات اور محفوظ جنگلات کا ایک خوبصورت مجموعہ تشکیل دیتے ہیں، جو برادری کی قیادت میں تحفظ کے لیے موزوں ماحول فراہم کرتا ہے۔ یہاں اس عمل کو ویلیج ایمپلائمنٹ کونسلز (وی ای سیز) کے ذریعے آگے بڑھایا جائے گا، جو گرام پنچایتوں کے مساوی ادارے ہیں۔

منصوبے کا ایک اہم مقصد مقامی ترقیاتی منصوبوں میں حیاتیاتی تنوع کو مرکزی حیثیت دینا ہے، تاکہ پنچایتی راج اداروں (پی آر آئیز) اور حیاتیاتی تنوع انتظامی کمیٹیوں (بی ایم سیز) کو مضبوط بنایا جا سکے اور ایسے علاقائی سطح کے مشترکہ پلیٹ فارم قائم کیے جائیں جن میں محکمہ جنگلات، محکمہ مال، منتخب نمائندے اور سول سوسائٹی شامل ہوں تاکہ برادری کی ملکیت والے اور مالی معاونت یافتہ حیاتیاتی منصوبے تیار کیے جا سکیں۔

دوسرا بڑا مقصد جدید مالیاتی ذرائع کو فروغ دینا ہے، جس میں رسائی اور فائدہ کی شراکت (اے بی ایس)، کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے تحت مالی تعاون اور سبز چھوٹے کاروبار شامل ہیں، جو تحفظِ ماحول کے بدلے پائیدار روزگار فراہم کریں گے۔ تیسرا مقصد علم کے انتظام اور صلاحیت سازی پر مرکوز ہے، تاکہ دونوں علاقوں کے کامیاب تجربات کو محفوظ کر کے این بی اے اور ایم او ای ایف سی سی کے پلیٹ فارمز کے ذریعے ملک بھر میں نافذ کیا جا سکے، خاص طور پر خواتین، درج فہرست ذاتوں اور قبائلی برادریوں کے معاشی اور انتظامی کردار کو مضبوط بنانے پر زور دیا جائے گا۔

منصوبے کا انتظامی ڈھانچہ نچلی سطح سے اوپر کی جانب پیش رفت کے اصول پر مبنی ہے، جس میں پنچایتی راج ادارے کلیدی انتظامی کردار ادا کریں گے۔ یہ منصوبہ بھارت کی تازہ قومی حیاتیاتی تنوع حکمتِ عملی و عملی منصوبہ (این بی ایس اے پی 2024-2030)، کنمنگ-مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک کے اہم 30x30 ہدف، پیرس معاہدے کے تحت بھارت کے قومی تعین شدہ اہداف (این ڈی سیز) اور تمل ناڈو ویژن 2030 و میگھالیہ ویژن 2030 کے مقاصد کے نفاذ کو آگے بڑھاتا ہے۔ یہ منصوبہ ’’پورے حکومت‘‘ اور ’’پورے سماج‘‘ کے نقطۂ نظر کو اپناتا ہے تاکہ تمام شعبوں اور برادریوں کی بھرپور شرکت یقینی بنائی جا سکے۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-6308


(ریلیز آئی ڈی: 2255666) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Assamese