شہری ہوابازی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

شہری ہوا بازی کے وزیر جناب رام موہن نائیڈو نے آج دہلی ہوائی اڈے پر تمام اہم شراکت داروں کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی


شہری ہوازا بازی کے وزیر نے ہب –اینڈ-ا سپوک آپریشنز کی تیاریوں کا جائزہ لیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 23 APR 2026 10:04PM by PIB Delhi

شہری ہوا بازی کے وزیر جناب رام موہن نائیڈو نے آج دہلی ہوائی اڈے پر تمام اہم شراکت داروں کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی تاکہ ہب –اینڈ- اسپوک آپریشنز کے نفاذ کے لیے ہوائی اڈے کی تیاریوں کا جائزہ لیا جا سکے۔ میٹنگ میں شہری ہوابازی کے سکریٹری اور وزارت داخلہ (ایم ایچ اے)، شہری ہوا بازی کی وزارت (ایم او سی اے)، بیورو آف امیگریشن (بی او آئی)، بیورو آف سول ایوی ایشن سیکورٹی (بی سی اے ایس)، کسٹمز، ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (اے اے آئی)، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن،(ڈی جی سی اے)، سی آئی ایس ایف ، ڈیجی یاترا، دہلی انٹر نیشل ایئر پورٹ لیمیٹد (ڈی آئی اے ایل) اور سرکردہ ایئر لائنس کمپنیوں کے نمائندوں سمیت سینئر حکام نے شرکت کی۔

وزیر نے زمینی سطح پر مسافروں  کی آمد و رفت کے نظام کا جائزہ لینے کے لیے ایک وفد کی قیادت بھی کی اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے دہلی ہوائی اڈے کے ٹرمینل 3 پر سیکورٹی ویٹنگ ایریا (ایس ایچ اے) کا معائنہ کیا۔

شہری ہوا بازی سے متعلق قومی پالیسی (این سی اے پی 2016) ، جو وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی فیصلہ کن اور بصیرت انگیز قیادت میں تیار کی گئی ہے، نے 2030 تک ہندوستان کو ہندوستانی مسافروں کے لیے اور 2047 تک دنیا کے لیے پسندیدہ ہوابازی کے مرکز کے طور پر قائم کرنے کے لیے ایک واضح روڈ میپ تیار کیا ہے۔ اس وژن کو آگے بڑھانے کے لیے، حکومت نے اس حکمت عملی کے تحت کئی اہم اقدامات کئے گئے ہیں، جن میں غیر ملکی ایئر لائنز کو کال پوائنٹس فراہم کرنے کے لیے ایک منظم انداز اپنانا، خاص طور پر غیر میٹرو منزلوں کے لیے، دو طرفہ معاہدوں پر اس طرح نظر ثانی کرنا جس سے ہندوستانی ایئر لائنز کو تقویت ملے اور گھریلومراکز کو فروغ ملے اور گھریلو کوڈ شیئر کے انتظامات کو آزاد کرنا تاکہ ہندوستانی ایئر لائنز اپنی عالمی رسائی کو وسعت دے سکیں۔

بات چیت کے دوران وزیر رام موہن نائیڈو نے کہا کہ مشرقی اور مغربی نصف کرہ کے درمیان ہندوستان کا منفرد جغرافیائی محل وقوع عالمی ٹرانزٹ ہب کے طور پر ابھرنے میں فطری فائدہ فراہم کرتا ہے۔ ہم نے تمام شراکتداروں کے ساتھ وسیع مشاورت کے بعد یہ حکمت عملی تیار کی ہےاور میں اس تجویز کو آگے بڑھانے میں فعال تعاون کے لیے عزت مآب وزیر داخلہ جناب امت شاہ کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔

ہب- اینڈ-ا سپوک ماڈل کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر نے کہا کہ یہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دور اندیش اڑان اسکیم اور بین الاقوامی مقامات کے ذریعے تیار کردہ ٹیئر-II اور ٹیئر-III ہوائی اڈوں کے درمیان ہموار کنیکٹیویٹی کو قابل بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف مسافروں کو سفر کا وقت کم کرکے فائدہ پہنچے گا بلکہ ملک بھر میں پہلے سے ترقی یافتہ بنیادی ڈھانچے کا زیادہ سے زیادہ استعمال بھی ہوگا۔

ہب –اینڈ-اسپوک حکمت عملی ہندوستان کے ہوابازی کے منظر نامے میں تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے، جو بنیادی طور پر ایک عالمی ٹرانزٹ ہب میں تبدیل ہو رہا ہے۔ اس سے ہندوستانی ہوائی اڈوں کو ٹرانسفر ٹریفک کا ایک بڑا حصہ حاصل کرنے کا موقع ملے گا جو فی الحال بیرون ملک مرکزوں کے ذریعے چل رہا ہے۔

حکومت کے ہب ویژن کا اشتراک کرتے ہوئے وزیر رام موہن نائیڈو نے کہا کہ فی الحال ہندوستان سے سفر کرنے والے تقریباً 35 فیصد بین الاقوامی مسافر دبئی، لندن اور سنگاپور جیسے غیر ملکی مرکزوں سے گزرتے ہیں۔ ہمارا مقصد دہلی، ممبئی، بنگلورو، حیدرآباد، کولکتہ اور چنئی جیسے عالمی سطح پر مسابقتی ہندوستانی مرکزوں کو تیار کرکے اس رجحان کو تبدیل کرنا ہے۔

آئی جی آئی ہوائی اڈے کی مثال دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ دہلی ہوائی اڈہ سالانہ 100 ملین سے زیادہ مسافروں کی گنجائش کے ساتھ منفرف پہچان رکھتا ہے، جو شمالی علاقہ میں کل مسافروں کی آمدورفت کا تقریباً 50 فیصد اور روزانہ تقریباً 50,000 منتقلی کو سنبھالتا ہے، جس سے یہ ایک قدرتی ہب ہوائی اڈہ ہے۔

مسافروں کی سہولت کے علاوہ، حکمت عملی ایک عالمی فضائی مال برداری کےمرکز کے طور پر ہندوستان کی پوزیشن کو مضبوط بنانے پر بھی مرکوز ہے۔ مال برداری کے دوبارہ معائنہ کی ضرورت کو ختم کرنے اور مال برداری سے متعلقہ منظوری اور دستاویزات کے عمل کو ڈیجیٹل کرنے جیسے اقدامات سے کارکردگی میں نمایاں اضافہ اور پروسیسنگ کے وقت میں کمی آنے کی توقع ہے۔

اس ماڈل کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر رام موہن نائیڈو نے کہا کہ ہب –اینڈ-ا سپوک ماڈل نہ صرف تمام خطوں میں کنیکٹوٹی کو بڑھا کر بلکہ دور رس اقتصادی اثرات مرتب کرے گا۔ ایک اندازے کے مطابق 2047 تک اس اقدام کے مجموعی اثرات سے تقریباً 16 ملین براہ راست اور بالواسطہ ملازمتیں پیدا ہوں گی اور ہندوستانی معیشت میں تقریباً 1.4 ٹریلین امریکی ڈالر کا حصہ ہوگا۔

ہب –اینڈ- اسپوک ماڈل کا نفاذ ایئر لائنز کو بین الاقوامی آپریشنز کے لیے اپنے طیاروں کو زیادہ موثر انداز میں تعینات کرنے کے قابل بنائے گا، جبکہ اسپوک مقامات پر کسٹم اور امیگریشن کے عمل کو غیر مرکزیت کے ذریعے بڑے ہوائی اڈوں پر بھیڑ کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

تمام شراکتداری کی فعال شرکت کی تعریف کرتے ہوئے، وزیر رام موہن نائیڈو نے اس بات کی بھی تعریف کی کہ ہندوستانی ایئر لائنز نے وائڈ-باڈی والے ہوائی جہاز کے لیے اہم آرڈرز دیے ہیں، جس سے طویل فاصلے تک رابطے میں اضافہ ہوگا اور ہب آپریشنز کوحمایت ملے گی ۔ دہلی ہوائی اڈے نے تیز رفتار اور زیادہ موثر مسافروں کی منتقلی کی سہولت کے لیے ایک سلاٹ بینک بنانے پر بھی کام شروع کر دیا ہے۔ ٹیکنالوجی سے چلنے والے حل کو اپنانا، بشمول ڈیجی یاترا ، مسافروں کی نقل و حرکت کو مزید ہموار کرے گا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو ملکی اور بین الاقوامی راستوں کے درمیان منتقل ہوتے ہیں۔

ہب –اینڈ-ا سپوک ماڈل کے تحت، مختلف چھوٹے شہروں سے آنے والے مسافروں کو مربوط طریقے سے اکٹھا کیا جائے گا اور آگے کی بین الاقوامی پروازوں کے لیے دہلی جیسے بڑے ہوائی اڈوں کے ذریعہ بھیجا جائے گا۔ ایسی پروازوں میں گھریلو مسافر اور بین الاقوامی ٹرانزٹ مسافر دونوں شامل ہوں گے۔ مسافروں کو متعلقہ ہوائی اڈے پر دو الگ الگ بورڈنگ پاس جاری کیے جائیں گے، جن پر واضح طور پر "ڈی" (گھریلو) اور "آئی" (بین الاقوامی) اشارے ہوں گے۔ باہر جانے والے مسافروں کے لیے کسٹمز اور امیگریشن کی رسمی کارروائیاں باہر نکلنے کے پہلے مقام پر مکمل کی جائیں گی، جو کہ اسپوک ایئرپورٹ ہو گا اور ایسے باہر جانے والے مسافروں کو ٹرانزٹ کے دوران کسٹم ڈیکلریشن کی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہوگی۔

ملک میں آنے والے مسافروں کے لیے کسٹم اور امیگریشن کے طریقہ کار داخلے کے آخری مقام پر کیے جائیں گے، جوکہ پھرسے مرکزی ہوائی اڈہ ہوگا۔ یہ ماڈل تصور کرتا ہے کہ بین الاقوامی مسافروں کی آمد اور روانگی دونوں کے سامان کو ہب ہوائی اڈے پر ایئر سائیڈ آپریشنز کے ذریعے بغیر کسی رکاوٹ کے منتقل کیا جائے گا، جس سے مسافروں کی مداخلت کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ آپریشنل کارکردگی اور انضباطی وضاحت کو برقرار رکھنے کے لیے، مشترکہ پروازوں کی اجازت نہیں ہوگی، اور ہب –اینڈ-اسپوک آپریشنز کے گھریلو اور بین الاقوامی حصوں کے لیے الگ الگ طیارے تعینات کیے جائیں گے۔

ہندوستان کے اسٹریٹجک محل وقوع اور تیزی سے بڑھتی ہوئی ہوائی ٹریفک کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے، شہری ہوا بازی کی وزارت 2047 تک ملک کو ایک سرکردہ عالمی ہوا بازی کے مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

*******

 (ش ح ۔  م ش ۔م ش)

U. No. 6255


(ریلیز آئی ڈی: 2255221) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Telugu