سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے اور کنکٹویٹی کو بہتربنانےکے لئےدہرادون بائی پاس کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 23 APR 2026 4:43PM by PIB Delhi

دہرادون میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے اور علاقائی کنکٹویٹی کو بہتر بنانے کے مقصد سے، بھارتی شاہراہوں کی قومی اتھارٹی (این ایچ اے آئی) اتراکھنڈ میں 12 کلومیٹر طویل گرین فیلڈ چار لین ایکسیس کنٹرولڈ بائی پاس تعمیر کر رہی ہے جو دہلی–دہرادون اکنامک کوریڈور سے منسلک ہوگا۔

یہ منصوبہ جھاجھرا سے شروع ہو کر این ایچ-7 کے نئے پاؤنتا صاحب–بالوپور سیکشن کو جوڑتا ہے اور دہرادون ضلع میں آشاروری چیک پوسٹ کے قریب دہلی–دہرادون اکنامک کوریڈور پر ختم ہوتا ہے۔ اس منصوبے پر تقریباً 716  کروڑ روپے کی لاگت آئے گی اور اس کا عملی طور پر تقریباً 44  فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ اس کی تکمیل اپریل 2027  تک متوقع ہے۔

اسے ایک مکمل رسائی والی قومی شاہراہ کے طور پر اسٹریٹجک انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے، جو ایک متبادل جنوب مغربی راستے کے طور پر کام کرے گا اور غیر مقامی ٹریفک کو دہرادون شہر کے مرکزی حصے سے ہٹا کر سلیاکی انڈسٹریل ایریا، وکاس نگر، ہربرت پور (اتراکھنڈ) اور پاؤنتا صاحب (ہماچل پردیش) کی طرف منتقل کرے گا۔ یہ منصوبہ دہرادون میں ٹریفک جام اور گاڑیوں کی آلودگی میں نمایاں کمی کا باعث بنے گا اور دہلی–دہرادون اکنامک کوریڈور کے ذریعے ہریانہ، پنجاب اور ہماچل پردیش جیسے شمالی خطوں سے بین ریاستی رابطہ بہتر کرے گا۔

اس منصوبے کو طویل مدتی پائیداری کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اگرچہ اس کی ڈیزائن اسپیڈ 100  کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی، لیکن بعض حصوں میں جنگلاتی زمین پرپڑنے والے اس کے اثر کو کم کرنے کے لیے رفتار 80 کلومیٹر فی گھنٹہ تک محدود رکھی گئی ہے۔ ماحولیاتی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہائی وے کے رائٹ آف وے (آراو ڈبلیو) کو 30 میٹر تک محدود کیا گیا ہے، جو روایتی 60  میٹر سے کم ہے، تاکہ جنگلاتی درخت محفوظ رہیں اور ماحولیاتی توازن برقرار رہے۔

چونکہ یہ منصوبہ جنگلاتی علاقوں سے گزرتا ہے، اس لیے جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کئی حفاظتی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں 350 میٹر طویل ویہیکولر اوور پاس (وی او پی) شامل ہے جو بڑے جانوروں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنائے گا، اور ایک مویشیوں کے لئے  مخصوص اوور پاس (سی او پی) بھی بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ سات چھوٹے پل اور 21 باکس کلورٹس تعمیر کیے جائیں گے تاکہ جنگلی حیات کی آمدورفت کو سہولت دی جا سکے۔ چھوٹے جانوروں جیسے رینگنے والے اور آبی حیات کی نقل و حرکت کے لیے پانچ مخصوص ہوم پائپ کلورٹس بھی بنائے جائیں گے۔

مزید برآں، اس منصوبے سے متصل مسلسل باڑ لگائی جا رہی ہے اور مناسب سائن بورڈز نصب کیے جا رہے ہیں جن میں رفتار کی حد اور جنگلی حیات کے زونز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد انسانوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان ٹکراؤ کو کم کرنا اور جنگلاتی علاقوں میں محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانا ہے۔ یہ منصوبہ مسوری جیسے اہم سیاحتی مقامات تک رسائی کو بھی بہتر بنائے گا، جس سے خطے میں سیاحت کو فروغ ملے گا۔

اس منصوبے کی تکمیل کے بعد دہرادون کے رہائشیوں کو بھاری اور ٹرانزٹ ٹریفک کے شہر سے باہر منتقل ہونے کی وجہ سے بڑی راحت ملے گی، شہری نقل و حرکت بہتر ہوگی اور مجموعی طور پر معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی۔

******

( ش ح ۔ ش ب ۔ م ا )

Urdu.No-6224


(ریلیز آئی ڈی: 2254925) وزیٹر کاؤنٹر : 12
یہ ریلیز پڑھیں: हिन्दी , English , Telugu