امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
حکومت نے چھتیس گڑھ میں ایم ایس پی کے تحت خریداری کو مزید مضبوط کیا؛ آتم نربھر مشن کے تحت بہار میں پہلی مرتبہ اسٹرکچرڈ دالوں کی خریداری کا آغاز
بہار میں 100 میٹرک ٹن سے زائد خریداری مکمل؛ چھتیس گڑھ میں آپریشنز 12,000 میٹرک ٹن سے تجاوز کر گئے، این سی سی ایف اور این اے ایف ای ڈی نے کسانوں تک رسائی اور خریداری کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنایا
ڈجیٹل پلیٹ فارمز، توسیع شدہ پی اے سی ایس نیٹ ورک اور کوآپریٹیو اداروں کی قیادت میں خریداری مہم کے ذریعہ کسانوں کی شمولیت اور قیمتوں کے تحفظ میں اضافہ کیا گیا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
23 APR 2026 12:53PM by PIB Delhi
حکومتِ ہند کا پی ایم-آشا ( پی ایم- اے اے ایس ایچ اے) کے تحت خریداری نظام کو نمایاں طور پر وسعت دینا؛ آتم نربھر پلسز مشن کے تحت بہار میں پہلی مرتبہ اسٹرکچرڈ دالوں کی خریداری کا آغاز،نیشنل کوآپریٹیو کنزیومرز فیڈریشن آف انڈیا لمیٹڈ (این سی سی ایف) اور نیشنل ایگریکلچرل کوآپریٹیو مارکیٹنگ فیڈریشن آف انڈیا لمیٹڈ (این اے ایف ای ڈی) نے چھتیس گڑھ میں مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے خریداری کے عمل کو مضبوط بنایا ہے، جبکہ بہار میں آتم نربھر پلسز مشن کے تحت پہلی بار منظم دال خریداری کا آغاز بھی کیا گیا ہے۔
ایک اہم پیش رفت میں این سی سی ایف نے بہار میں پہلی بار مسور (مسور کی دال) کی منظم خریداری شروع کی ہے، جو دالوں میں خود کفالت کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ اس اقدام کو سنٹرل ویئر ہاؤسنگ کارپوریشن کے اشتراک سے ڈبلیو ڈی آر اے سے منظور شدہ گوداموں کے ذریعے سائنسی ذخیرہ کاری کی سہولت حاصل ہے۔
22 اپریل 2026 تک بہار کی صورتحال:
· خریداری ہدف: 32,000 میٹرک ٹن (مسور)
· 16 رجسٹرڈ پی اے سی ایس/ایف پی او ایس
· شامل کسان: 59
· مکمل خریداری: 100.4 میٹرک ٹن
این اے ایف ای ڈی بھی ریاست بھر میں اپنے کوآپریٹیو نیٹ ورک کے ذریعہ پرائس سپورٹ اسکیم کے تحت آپریشنز کو وسعت دینے کی تیاری کر رہا ہے۔
چھتیس گڑھ: ایم ایس پی خریداری میں توسیع
چھتیس گڑھ میں پی ایم-آشا کے تحت خریداری کو رفتار ملی ہے، جہاں ای-سمیوکتی پورٹل کے ذریعے کسانوں کی ڈجیٹل شمولیت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی زمینی سطح پر آگاہی مہمات بھی چلائی جا رہی ہیں، جن میں دوردرشن کے ذریعے رابطہ مہم بھی شامل ہے۔
فی الحال 85 پی اے سی ایس مراکز فعال ہیں اور خریداری مختلف اضلاع میں جاری ہے جن میں دھمتری، دُرگ، بالود، بالودابازار، رائے پور، رائے گڑھ اور سرگوجہ شامل ہیں، جبکہ اس دائرہ کار کو سرگوجہ، کونڈاگاؤں اور کوریا تک بڑھایا جا رہا ہے۔
این سی سی ایف کارکردگی (22 اپریل 2026 تک):
· چنا: ہدف 63,325 میٹرک ٹن
· مسور: ہدف 5,360 میٹرک ٹن
· رجسٹرڈ کسان: چنا 16,012 | مسور 451
· حاصل شدہ خریداری: چنا 9,032 میٹرک ٹن | مسور 7.98 میٹرک
· مستفید کسان: چنا 6,129 | مسور 28
این اے ایف ای ڈی-نیفیڈ کارکردگی (22 اپریل 2026 تک):
· مراکز: 137 (اسٹیٹ لیول ایجنسیز کے ذریعے)
· اضافی مراکز: چنا 7 | مسور 3
· رجسٹرڈ کسان: چنا 39,467 | مسور 510
· خریداری: چنا 3,850 میٹرک ٹن | مسور 109 میٹرک ٹن
· مستفید کسان: چنا 2,645 | مسور 281
یہ اقدامات حکومت کی اس مسلسل توجہ کی عکاسی کرتے ہیں جس کا مقصد ایم ایس پی پر مبنی خریداری نظام کو مضبوط بنانا، کسانوں کو بہتر قیمت دلوانا، اور انہیں رسمی سپلائی چین سے جوڑنا ہے۔ خریداری کے بنیادی ڈھانچے اور ڈجیٹل پلیٹ فارمز کی توسیع سے شفافیت، کارکردگی اور رسائی میں مزید بہتری متوقع ہے۔
این سی سی ایف اور این اے ایف ای ڈی- نیفیڈ دونوں ادارے ان ریاستوں میں اپنے آپریشنز کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں، جو نہ صرف قومی غذائی تحفظ اور قیمتوں کے استحکام میں کردار ادا کریں گے بلکہ آتم نربھر بھارت کے اہداف کو بھی آگے بڑھائیں گے۔
******
ش ح-ظ الف-ع د
UR- 6208
(ریلیز آئی ڈی: 2254815)
وزیٹر کاؤنٹر : 17