کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

پی ایل آئی اسکیم کے ذریعہ الیکٹرانکس کے شعبے میں 15,554 کروڑ روپے اور آٹوموبائل کے شعبے میں 2,377.56 کروڑ روپےکے مراعات  کی تقسیم

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 MAR 2026 4:42PM by PIB Delhi

حکومت نے ملک میں گھریلو پیداوار کو فروغ دینے، سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے، برآمدات میں اضافہ کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے 14 شعبوں میں پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (پی یل آئی) اسکیمیں نافذ کی ہیں۔31 دسمبر 2025 تک، ان اسکیموں کے تحت مجموعی طور پر 2.16 لاکھ کروڑ سے زائد کی سرمایہ کاری ہوئی، 20.41 لاکھ کروڑ روپےسے زیادہ کی پیداوار/فروخت ریکارڈ کی گئی اور 8.3 لاکھ کروڑ روپےسے زائد کی برآمدات ہوئیں، جبکہ ان 14 شعبوں میں براہِ راست اور بالواسطہ طور پر 14.39 لاکھ روپے سے زیادہ افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے گئے۔

  1. الیکٹرانکس کے شعبے (بڑے پیمانے پر الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ اور آئی ٹی ہارڈویئر 2.0) کے تحت تقریباً 15,554 کروڑ روپےکی مراعات تقسیم کی جا چکی ہیں۔
  2. آٹوموبائل اور آٹو کمپوننٹس کے شعبے کے تحت تقریباً 2,377.56 کروڑ روپےکی مراعات تقسیم کی گئی ہیں۔

 

الیکٹرانکس اور آٹوموبائل کے شعبوں میں گھریلو مینوفیکچرنگ صلاحیت:

  1. الیکٹرانکس کے شعبے (بڑے پیمانے پر الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ اور آئی ٹی ہارڈویئر 2.0) کے تحت، مالی سال 2025 کے دسمبر تک 59 کمپنیوں کی جانب سے تقریباً 2,45,375 کروڑ روپےکی اضافی پیداوار درج کی گئی ہے۔
  2. آٹوموبائل اور آٹو کمپوننٹس کے شعبے کے تحت، مالی سال 2025 کے دسمبر تک 72 کمپنیوں کی جانب سے تقریباً 13,126 کروڑ روپےکی اضافی پیداوار درج کی گئی ہے۔
  3. مجموعی طور پر،پی ایل آئی اسکیموں نے 2.16 لاکھ کروڑ سے زائد کی سرمایہ کاری کو متوجہ کیا ہے۔ ان اسکیموں کے تحت مالی سال 2025 کے دسمبر تک تقریباً 4,20,581 کروڑ روپےکی اضافی پیداوار حاصل ہوئی ہے۔ اپنے آغاز سے اب تک، ان اسکیموں کے ذریعے 14 شعبوں میں مجموعی پیداوار/فروخت 20.41 لاکھ کروڑروپے سے تجاوز کر چکی ہے۔

پی ایل آئی اسکیموں کے علاوہ، جن کا مقصد گھریلو مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنانا، درآمدات پر انحصار کم کرنا اور ملک میں سپلائی چین کو زیادہ مستحکم بنانا ہے، حکومت نے دیگر اقدامات بھی کیے ہیں جیسے کہ:

  1. سیمیکان انڈیا پروگرام کا نفاذ، جس کا مقصد ملک میں سیمی کنڈکٹر کا ایک مقامی ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تیار کرنا ہے، تاکہ عالمی سپلائی چین پر درآمدی انحصار کم کیا جا سکے؛
  2. الیکٹرانکس کمپوننٹ مینوفیکچرنگ اسکیم (ای سی ایم اایس)، ایس پی ای سی ایس، ای ایم سی اور ایم-ایس آئی پی ایس، جو الیکٹرانک پرزہ جات کی مقامی تیاری کو فروغ دیتی ہیں اور کلسٹر پر مبنی ماحولیاتی نظام کی تشکیل میں مدد کرتی ہیں، اس طرح الیکٹرانکس سپلائی چین کو مضبوط بناتی ہیں؛
  3. پی ایم گتی شکتی – جو مربوط انفراسٹرکچر منصوبہ بندی اور ملٹی موڈل کنیکٹیویٹی کو ممکن بناتی ہے، جس سے لاجسٹکس لاگت اور ٹرانزٹ وقت میں کمی آتی ہے اور سپلائی چین کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے؛
  4. نیشنل لاجسٹکس پالیسی – جو عمل کی بہتری، ڈیجیٹلائزیشن اور لاجسٹکس لاگت میں کمی پر توجہ دیتی ہے، اس طرح سپلائی چین کی قابلِ اعتمادیت اور مسابقت میں اضافہ ہوتا ہے؛
  5. سینٹرڈ ریئر ارتھ مستقل مقناطیس  کی تیاری کو فروغ دینے کی اسکیم، جس کا مقصد خود انحصاری کو بڑھانا اور بھارت کو عالمی آر ای پی ایم مارکیٹ میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر مستحکم کرنا ہے؛
  6. نیشنل کریٹیکل مینرل مشن – جو ملکی اور غیر ملکی ذرائع سے معدنیات کی دستیابی کو یقینی بنا کر بھارت کی اہم معدنی سپلائی چین کو محفوظ بناتا ہے۔

یہ معلومات آج راجیہ سبھا میں وزارتِ  صنعت وتجارت  کے وزیر مملکت، جناب جتِن پرساد نے فراہم کیں۔

 

 

***************

 

ش ح۔ ع و۔ ج ا

 (U: 6203)

                        


(ریلیز آئی ڈی: 2254771) وزیٹر کاؤنٹر : 11