سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
کھیتوں کی باقیات کو مقامی سطح پر تیار کردہ بایو بٹومین ٹیکنالوجی کے ذریعے بایو بٹومین میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جس سے بھارت ہر سال تقریباً 40,000 کروڑ روپے کی درآمداتی لاگت کی بچت کرسکتا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
ڈاکٹر جتندر سنگھ نے بتایا کہ بھارت میں ہر سال تقریباً 600 ملین ٹن زرعی باقیات پیدا ہوتی ہیں، جسے جلانے سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے لیکن انہیں بایو بٹومین میں تبدیل کیا جا سکتا ہے؛ اور بایو بٹومین کے ذریعے سالانہ تقریباً 88 لاکھ ٹن بٹومین کی ضرورت کا ایک حصہ پورا کیا جاسکتا ہے، جس میں سے 50 سے 58 فی صد درآمد کیا جاتا ہے
انہوں نے مزید کہا کہ ’’ فضلہ جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی ‘‘ اور ویسٹ ٹو ویلتھ ماڈل بھارت کی ترقی کا ایک اہم انجن بن رہا ہے
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ مختلف اداروں اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو مضبوط بنا کر بھارت کے اختراعی نظام کو مزید فروغ دیا جا رہا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 MAR 2026 5:55PM by PIB Delhi
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ فصلوں کی باقیات کو بایو بٹومین میں تبدیل کرنے سے بھارت ہر سال تقریباً 40,000 کروڑ روپے کی درآمداتی بچت کر سکتا ہے۔ یہ کامیابی سی ایس آئی آر – سینٹرل روڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ( سی آر آر آئی ) ، نئی دلّی اور سی ایس آئی آر – انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پیٹرولیم ( آئی آئی پی ) ، دہرہ دون کی مقامی طور پر تیار کردہ بایو بٹومین ٹیکنالوجی کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ اگر روایتی بٹومین کا جزوی متبادل بھی بایو بٹومین سے کیا جائے تو اس سے درآمداتی انحصار نمایاں طور پر کم ہوگا، معیشت زیادہ مستحکم ہوگی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی عالمی سپلائی میں رکاوٹوں سے محفوظ رہے گی۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ایک ٹیکنالوجی ٹرانسفر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی ، جو کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ ( سی ایس آئی آر ) کے ذریعے منعقد کی گئی تھی ۔ اس تقریب میں ’’ لگنو سیلو لوسک بایو ماس سے بایو – بٹومین ‘‘ ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر صنعتوں میں اپنانے پر زور دیا گیا۔ اس موقع پر زراعت و کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر جناب شیو راج سنگھ چوہان، سی ایس آئی آر کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر این کلائی سیلوی اور دیگر اعلیٰ حکام، سائنسدان اور صنعتی نمائندگان بھی موجود تھے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت میں ہر سال تقریباً 600 ملین ٹن زرعی باقیات پیدا ہوتی ہیں، جس کی بڑی مقدار جلائی جاتی ہے اور فضائی آلودگی میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوتا ہے۔ دوسری طرف بھارت کو ہر سال تقریباً 88 لاکھ ٹن بٹومین کی ضرورت ہوتی ہے، جس میں سے 50 سے 58 فیصد درآمد کیا جاتا ہے ، جس پر تقریباً 25,000 سے 30,000 کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی ایک ساتھ دو بڑے مسائل کا حل فراہم کرتی ہے: زرعی فضلے کو کارآمد وسائل میں بدلنا اور سڑکوں کی تعمیر کے لیے ایک متبادل خام مال فراہم کرنا۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس اقدام کو ’’ ویسٹ ٹو ویلتھ ‘‘ کی ایک حقیقی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید، اختراعی اور ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت میں ’’ فضلہ ‘‘ کا تصور تیزی سے غیر متعلق ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر سائنس اور ٹیکنالوجی کو صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو ہر چیز میں قدر موجود ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھان کے بھوسے جیسے زرعی باقیات ، اب آلودگی کا سبب بننے کے بجائے کسانوں کے لیے اضافی آمدنی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ وزیر اعظم نریندر مودی کے اس ویژن کی عکاسی کرتا ہے ، جس میں 2014 ء سے ہی خود کفالت حاصل کرنے اور درآمداتی انحصار کو کم کرنے پر زور دیا گیا ہے ۔ ان کے مطابق کووڈ-19 کے دوران ، بھارت کی تیاری، جیسے ملک میں ہی مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری اور ڈیجیٹل طریقے سے فائدے کی راست منتقلی کا نظام، اس بات کی مثال ہے کہ بروقت پالیسی فیصلے ملک کی قوت میں کیسے بدل جاتے ہیں۔ اسی سوچ کے تحت اب بھارت ، پائیدار اور کاربن کا کم اخراج کرنے والے بنیادی ڈھانچے کی جانب طرف بڑھ رہا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس ٹیکنالوجی کے کئی پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنا لوجی ، فصلوں کی باقیات جلانے سے ہونے والی آلودگی میں کمی کرنے کے ساتھ ساتھ درآمداتی بل میں کمی لانے ، کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے ، سرکلر اکانومی کو فروغ دینے اور بھارت کے کاربن کے صفر اخراج کے اہداف کی طرف پیش رفت میں بیک وقت کئی قومی اہداف کو پورا کرنے میں مدد کرتی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کامیابی میں مختلف وزارتوں، اداروں اور صنعتوں کے درمیان مضبوط تعاون نظر آتا ہے، جو حکومت کے روش سے ہٹ کر اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دینے کے ویژن کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے مزید مثالیں دیتے ہوئے بتایا کہ استعمال شدہ کھانے کے تیل کو حیاتیاتی ایندھن میں تبدیل کرنا اور اسٹیل سلیگ جیسے صنعتی فضلے کو سڑکوں کی تعمیر میں استعمال کرنا ایک نیا معاشی ماحولیاتی نظام بنا رہا ہے، جہاں فضلہ اب آمدنی کا ذریعہ بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو فصل کی باقیات جلانے کے بجائے اسے سپلائی کرنے کی ترغیب دینا فضائی آلودگی کے مسئلے میں ایک ’’ گیم چینجر ‘‘ ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ سائنسی اختراعات کو عام لوگوں اور متعلقہ فریقوں تک آسان اور قابلِ فہم انداز میں ، خاص طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے پہنچانا انتہائی ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ وَن ویک وَن لیب ‘‘ جیسے اقدامات نے سائنسی اداروں، صنعت، کسانوں اور عوام کے درمیان رابطہ مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
زراعت کے مرکزی وزیر جناب شیو راج سنگھ چوہان نے ، اس منصوبے کو زراعت، سائنس اور صنعت کے درمیان ایک تاریخی اشتراک قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجی فصلوں کے باقیات جلانے کے مسئلے کا عملی اور قابلِ عمل حل فراہم کرتی ہے، ساتھ ہی کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرتی ہے اور ماحولیاتی نقصان میں کمی لاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں بنیادی ڈھانچے جیسے اہم شعبوں میں خود کفالت نہایت ضروری ہے اور بایو بٹومین جیسی اختراعات اس ہدف کے حصول میں اہم کردار ادا کریں گی۔
سی ایس آئی آر کی ڈائریکٹر جنرل اور ڈی ایس آئی آر کی سیکریٹری ڈاکٹر این۔ کلائی سیلوی نے بتایا کہ یہ ٹیکنالوجی تیزی سے اپنائی جا رہی ہے اور مختصر وقت میں متعدد صنعتیں اسے اختیار کر چکی ہیں، جب کہ پیداوار اور عملی طور پر اس کے استعمال کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی پیٹرولیم پر مبنی بائنڈرز سے ایک پائیدار بایو بیسڈ متبادل کی طرف ایک بڑی تبدیلی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہی زرعی بایوماس صرف بایو بٹومین تک محدود نہیں ہے بلکہ اسے کیڑے مار ادویات، جدید کاربن میٹریلز اور توانائی ذخیرہ کرنے جیسے شعبوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جو اس کی وسیع صنعتی افادیت کو ظاہر کرتا ہے۔
بایو بٹومین ٹیکنالوجی میں چاول کے بھوسے، گندم کے بھوسے اور دیگر زرعی باقیات کو تھرمو کیمیکل (پائرو لیسس ) عمل کے ذریعے قابلِ تجدید بائنڈر میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ یہ روایتی بٹومین کا 30 فی صد تک متبادل بن سکتا ہے اور اس سے نہ صرف کارکردگی برقرار رہتی ہے بلکہ سڑکوں کی پائیداری میں اضافہ ہوتا ہے اور کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی بھی آتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے پہلے ہی کئی سڑکوں کی آزمائشی تعمیر مکمل کی جا چکی ہے اور اب اسے بڑے پیمانے پر نافذ کرنے کی طرف پیش رفت جاری ہے۔
سی ایس آئی آر کے عہدیداروں نے کہا کہ ادارہ صنعت کے شراکت داروں، سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت اور دیگر متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا تاکہ اس ٹیکنالوجی کی معیار سازی ، فیلڈ جانچ اور صلاحیت میں اضافے کو یقینی بنایا جا سکے اور اسے پورے ملک میں بڑے پیمانے پر اپنایا جا سکے۔
بھارت کو پائیدار بنیادی ڈھانچے کی اختراع میں سب سے آگے رکھتے ہوئے ، توقع ہے کہ اس پہل سے سڑک کی تعمیر کے طریقوں کو سر سبز ، زیادہ کفایتی اور مستقبل کے لیے تیار بنا کر تبدیل کیا جائے گا ، جب کہ آتم نربھر بھارت اور وکست بھارت ، 2047 کے بڑے ویژن میں تعاون حاصل ہو گا ۔



..................................................... ...................................................
) ش ح – ض ر - ع ا )
U.No. 6167
(ریلیز آئی ڈی: 2254548)
وزیٹر کاؤنٹر : 17