بجلی کی وزارت
بجلی کی فراہمی کے شعبے میں اصلاحات اور ڈسکامس کی مالی پائیداری
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 MAR 2026 4:15PM by PIB Delhi
حکومتِ ہند نے سال 2021 میں ری ویمپڈ ڈسٹری بیوشن سیکٹر اسکیم (آر ڈی ایس ایس) کا آغاز کیا، جس کا مقصد بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کی عملی کارکردگی اور مالی مضبوطی کو بہتر بنانا ہے۔ اس اسکیم کے تحت فراہمی کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق کاموں، بشمول اسمارٹ میٹرنگ، کے لیے تقریباً 2.83 لاکھ کروڑ روپے کے منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔اس اسکیم کا ہدف یہ ہے کہ پورے ملک میں مجموعی تکنیکی و تجارتی نقصانات کو کم کر کے 12 سے 15 فیصد کی سطح تک لایا جائے اور بجلی کی اوسط فراہمی لاگت (اے سی ایس) اور حاصل ہونے والی اوسط آمدنی(اے آر آر) کے درمیان فرق کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔
اس اسکیم کے تحت ریاستوں کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کی بنیاد پر نقصانات میں کمی کے لیے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر 1.53 لاکھ کروڑ روپے اور اسمارٹ میٹرنگ کے لیے 1.31 لاکھ کروڑ روپے کی منظوری دی جا چکی ہے۔ نقصانات میں کمی کے اقدامات میں پرانے کنڈکٹرز کی تبدیلی، سب اسٹیشنز اور ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمرز(ڈی ٹی) کی استعداد میں اضافہ، نئے سب اسٹیشنز کا قیام، نئے ڈی ٹیز کی تنصیب، فیڈر سیگریگیشن اور حقیقی وقت میں نگرانی کے لیے ایس سی اے ڈی اے / ڈی ایم ایس نظام کا نفاذ شامل ہے۔ یہ تمام کام آر ڈی ایس ایس کے تحت نقصانات کم کرنے اور بجلی کی فراہمی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
مزید برآں، اسمارٹ میٹرز کی تنصیب اس اسکیم کا ایک اہم جز ہے، جو ڈسکامس کے مالی نظم و ضبط کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے، کیونکہ اس سے ریونیو کی وصولی میں اضافہ ہوتا ہے اور بجلی کے نظام کا بہتر حساب کتاب ممکن ہوتا ہے۔ ریاستوں/ڈسٹری بیوشن یوٹیلٹیز کی تجاویز کے مطابق 19.79 کروڑ صارفین، 2.11 لاکھ فیڈرز اور 52.53 لاکھ ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمرز کے لیے مجموعی طور پر 20.33 کروڑ اسمارٹ میٹرز کی منظوری دی جا چکی ہے، جن میں سے 4.69 کروڑ اسمارٹ میٹرز نصب کیے جا چکے ہیں۔ دیگر اسکیموں سمیت ملک بھر میں اب تک مجموعی طور پر 6.13 کروڑ اسمارٹ میٹرز نصب کیے جا چکے ہیں۔
اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کے عمل کو تیز کرنے کے لیے وزارت نے صارفین کا اعتماد بڑھانے کی غرض سے مختلف ہدایات اور معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پیز) جاری کیے ہیں، جن میں شامل ہیں:
-
سرکاری اداروں، تجارتی و صنعتی صارفین اور زیادہ لوڈ رکھنے والے صارفین کے لیے پری پیڈ اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کو ترجیح دینا اور بعد ازاں فوائد کے عملی مظاہرے کی بنیاد پر دیگر صارفین تک اس کا دائرہ بڑھانا۔
-
پری پیڈ میٹر لگوانے پر صارفین کو بل میں رعایت دے کر حوصلہ افزائی کرنا۔
-
اسمارٹ میٹر میں ریکارڈ ہونے والی زیادہ سے زیادہ طلب کی بنیاد پر صارفین پر کوئی جرمانہ عائد نہ کرنا۔
-
سابقہ بقایاجات کی وصولی کے لیے آسان اقساط پر مشتمل نظام فراہم کرنا۔
-
اسمارٹ میٹرز کی درستگی پر اعتماد بڑھانے کے لیے چیک میٹرز کی تنصیب کرنا۔
اس اسکیم کے تحت ڈسٹری بیوشن یوٹیلٹیز کی کارکردگی کا باقاعدہ ادارہ جاتی نظام کے ذریعے جائزہ لیا جاتا ہے۔ آر ڈی ایس ایس کے تحت منظور شدہ کاموں، بشمول اسمارٹ میٹرنگ، کی نگرانی نامزد ایجنسیوں یعنی پی ایف سی لمیٹڈ اور آر ای سی لمیٹڈ کے ذریعے مسلسل کی جا رہی ہے۔ مزید برآں، ریاستی سطح پر چیف سکریٹری کی سربراہی میں ڈسٹری بیوشن ریفارمز کمیٹی اور مرکزی سطح پر سکریٹری (بجلی) کی سربراہی میں بین وزارتی مانیٹرنگ کمیٹی قائم کی گئی ہے، جو اسکیم کے تحت منظور شدہ منصوبوں کے نفاذ کا جائزہ لیتی ہیں اور نگرانی کرتی ہیں۔
اس کے علاوہ، اسکیم کے تحت فنڈز کا اجرا مختلف عملیاتی اور مالیاتی اشاریوں میں بہتری سے مشروط ہے۔ حکومتِ ہند اور ریاستوں کی دیگر کاوشوں کے ساتھ مل کر اس عمل نے ڈسکامس کی کارکردگی میں بہتری لانے میں مدد دی ہے۔ ان اقدامات میں سرکاری سبسڈی اور سرکاری محکموں کے بقایاجات کی بروقت ادائیگی، ٹیرف آرڈرز کا باقاعدہ اجرا، مالی حسابات کی اشاعت، ریگولیٹری اثاثوں کے عدم قیام وغیرہ شامل ہیں۔
آر ڈی ایس ایس اور دیگر اصلاحی اقدامات کے نتیجے میں قومی سطح پر ڈسٹری بیوشن یوٹیلٹیز کے مجموعی تکنیکی و تجارتی نقصانات میں نمایاں کمی آئی ہے، جو مالی سال 2021 میں 21.91 فیصد سے گھٹ کر مالی سال 2025 میں 15.04 فیصد رہ گئے ہیں۔ اسی طرح، بلنگ کی کارکردگی قومی سطح پر 84.08 فیصد سے بڑھ کر 87.59 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ وصولی کی کارکردگی بھی 92.9 فیصد سے بڑھ کر 97 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
یہ معلومات وزارتِ بجلی کے وزیرِ مملکت جناب شری پد نائک نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
*****
(ش ح ۔ ک ح۔ع ن)
U. No. 6154
(ریلیز آئی ڈی: 2254386)
وزیٹر کاؤنٹر : 26