وزارت دفاع
برلن میں وزیر دفاع کا جرمن پارلیمنٹرینز سے خطاب کے دوران ہندوستان-جرمنی دفاعی صنعتی شراکت داری بڑھانے پر زور
ابھرتے ہوئے سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے آتم نر بھر بھارت کے تحت جرمن صنعت کو مشترکہ تخلیق، تعاون اور مشترکہ اختراعات کی دعوت میں توسیع
مربوط جوابات، بھروسے مند اسٹریٹجک شراکت داری اور بدلتے ہوئے ماحول سے ہم آہنگ ہونے کی خواہش وقت کی ضرورت ہے: جناب راج ناتھ سنگھ
‘‘مغربی ایشیا کی صورتحال کے پیش نظر ہندوستان کی فعال اور مربوط حکمت عملی اس کی عالمی بحرانوں کا پرامن، دور اندیش اور موثر ادارہ جاتی ہم آہنگی کے ساتھ جواب دینے کی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے’’
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
21 APR 2026 9:30PM by PIB Delhi
وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے 21 اپریل 2026 کو برلن میں جرمن پارلیمنٹیرین سے اپنے خطاب میں کہا-‘‘آتم نر بھر بھارت محض ایک پروکیورمنٹ پروگرام نہیں ہے؛ یہ ایک ساتھ تخلیق کرنے، مشترکہ ترقی کرنے اور مشترکہ اختراع کرنے کی دعوت ہے’’۔ اپنے خطاب میں انہوں نے جرمنی کے دفاعی صنعتی نظام اور ہندوستان کے جرمن صنعتی اداروں کے درمیان بہتر تعاون کے لیے ایک مضبوط پیش کش کی۔ یوروپی ملک کے اپنے تین روزہ دورے کے پہلے دن جرمنی کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے دفاع اور سلامتی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے زور دے کر کہا کہ آج دنیا کو نئے سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے اور تکنیکی تبدیلی نے صورتحال کو انتہائی پیچیدہ اور پرپیچ بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے ماحول سے ہم آہنگ ہونے کی خواہش کے ساتھ ایک نیا نقطہ نظر وقت کی ضرورت ہے۔

وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا نے زور دے کر کہا کہ ‘‘ہندوستان، وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں دفاعی شعبہ میں ایک بے مثال تبدیلی کا مشاہدہ کر رہا ہے، اور جرمن صنعت کے ساتھ بڑھی ہوئی شراکت داری سے اہم باہمی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔’’ جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہم جرمنی کے سرکردہ صنعتی اداروں کی قائم کردہ طاقتوں کو تسلیم کرتے ہیں، جبکہ ہم جدید اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں معروف جرمن مٹل اسٹیڈ (چھوٹے اور درمیانے درجے کی کمپنیوں) کی طاقت اور حرکیات کو بھی سراہتے ہیں۔ ہندوستان میں بھی، ہمارے اسٹارٹ اپس اور کاروباری نجی کمپنیاں تیزی سے بڑھا رہی ہیں اور یہ ہمارے دفاعی شعبے میں داخل ہونے اور دفاعی صلاحیتوں کو بڑھا رہی ہے اور اس کی تکمیل کر رہی ہے۔ جرمنی قدرتی طور پر ایک دوسرے کی تکمیل کرتا ہے جس سے ہماری شراکت داری مزید گہرا ہو سکتی ہے ۔
جدید دور کے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جناب راج ناتھ سنگھ نے مربوط ردعمل اور قابل اعتماد اسٹریٹجک شراکت داری کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا‘‘وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور جرمن چانسلر مسٹر فریڈرک مرز نے اس اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو آگے بڑھانے پر زور دیا ہے۔ ہم یوروپی یونین کی سطح پر بھی خیالات کا واضح ہم آہنگی دیکھتے ہیں، جس کی عکاسی ہندوستان کے ساتھ شمولیت کی بڑھتی ہوئی رفتار سے ہوتی ہے، جس میں ہندوستان-یوروپی یونین دفاعی اور اسٹریٹجک پارٹنرشپ شامل ہیں’’۔
VWWY.jpeg)
وزر دفاع نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہندوستان اور جرمنی نہ صرف اسٹریٹجک شراکت دار ہیں بلکہ موجودہ وقت کے عالمی مباحثے کی تشکیل میں نتیجہ خیز آوازیں بھی ہیں۔ انہوں نے‘‘ہم مشترکہ اقدار کے پابند جمہوریتیں ہیں اور لچک، اختراع اور ایک پرعزم صنعتی جذبے سے چلنے والی متحرک معیشتیں ہیں۔ قانون سازوں اور کمیٹی کے معزز اراکین کی حیثیت سے آپ کی رہنمائی، آواز اور حمایت ہمارے دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون کے مستقبل کے لائحہ عمل کو مزید تقویت بخش سکتی ہے۔ سفارت کاری کا نمونہ، بحران کے جواب میں نہیں بلکہ دو پختہ جمہوریتوں کے مستحکم عزم کے ذریعے تیار کیا گیا ہے جو اس راستے پر ایک ساتھ چلنے کا انتخاب کرتے ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔
جناب راج ناتھ سنگھ نے نشاندہی کی کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی عدم استحکام کو اب علاقائی معاملات کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے نتائج دائرہ کار میں عالمی سطح پر ہیں، انہوں نے انہیں مقامی خلفشار کے طور پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کی حفاظت، خوراک کی حفاظت، اور عالمی اقتصادی استحکام کیلئے دور رس مضمرات کے ساتھ سنگین پیش رفت، اس کے علاوہ ان پر پڑنے والی بے پناہ انسانی قیمت کے علاوہ۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک کیلئے جو اپنی توانائی کی ضروریات کے اہم حصے کے لیے مغربی ایشیائی خطے پر انحصار کرتا ہے، آبنائے ہرمز میں رکاوٹیں دور کی بات نہیں، یہ ہماری سلامتی اور اقتصادی استحکام کے لیے براہ راست مضمرات کے ساتھ واضح حقائق ہیں’’۔
F7NR.jpeg)
ہندوستانی وزیر دفاع نے نے روشنی ڈالی کہ ان چیلنجوں اور ان کے براہ راست اثرات کے پیش نظر ہندوستان نے ایک فعال اور مربوط حکمت عملی اپنائی۔ انہوں نے پارلیمنٹیرینز کو بتایا کہ مغربی ایشیا پر وزراء کا ایک گروپ مسلسل بدلتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے اور اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے بروقت اقدامات کی سفارش کر رہا ہے۔ جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ‘‘ ادارہ جاتی کوآرڈی نیشن موثر ہے،اہم وزارتوں کو ایک ساتھ لاتے ہوئے ہماری بات چیت میں توانائی کی فراہمی کی حفاظت، ضروری اشیاء کی دستیابی کو برقرار رکھنے، افراط زر کے دباؤ پر قابو پانے اور شہریوں کے ساتھ ساتھ صنعت کو بیرونی رکاوٹوں سے بچانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس سے عالمی بحرانوں کا مقابلہ کرنے کی ہندوستان کی صلاحیت کی عکاسی ہوتی ہے’’۔
ممبر پارلیمنٹ اور کمیٹی کے چیئرمین مسٹر تھامس رووکیم نے ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ بات چیت کے لئے جناب راج ناتھ سنگھ کا استقبال کیا، جس میں ہندوستان اور جرمنی کے درمیان پائیدار ثقافتی اور فکری تعلقات پر زور دیا گیا۔ قبل ازیں،وزیر دفاع نے برلن میں ہمبولڈ یونیورسٹی کے کیمپس میں نصب گرودیو رابندر ناتھ ٹیگور کے مجسمہ پر پھولوں کا ہار چڑھایا۔
RQHI.jpeg)
گرودیو رابندر ناتھ ٹیگور نے 20 ویں صدی کے اوائل میں جرمنی کے ساتھ ایک گہرا اور بامعنی تعلق کااشتراک کیا، جس میں شاعر اور جرمن مفکرین، فنکاروں اور سامعین کے درمیان باہمی تعریف وستائش سے ہوتی تھی تھی۔ جرمنی کے ساتھ ان کی مصروفیت ثقافتی تبادلے، فکری مکالمے اور باہمی احترام پر مبنی تھی۔ جرمنی نے یوروپ بھر میں ان کے کام کو متعارف کرانے اور اسے مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کی آمد پر وزیر دفاع کا برلن ہوائی اڈے پر فوجی اعزاز کے ساتھ استقبال کیا گیا۔ میونخ سے برلن کی پرواز کے دوران اسے جرمن فضائیہ کے خصوصی طیارے میں اتارا گیا، جس میں لڑاکا طیا روں نے سکیورٹی فراہم کی۔
SK6N.jpeg)
E0RT.jpeg)
********
ش ح- ظ الف-م ش
UR-6147
(ریلیز آئی ڈی: 2254371)
وزیٹر کاؤنٹر : 11