صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
مرکزی وزیر صحت جناب جے پی نڈا نے نئی دہلی میں 18ویں سول سروسز ڈے کی تقریبات کے دوران ”ہندوستان میں غیر متعدی امراض سے نمٹنا: احتیاطی تدابیر سے علاج تک“ کے عنوان سے ایک سیشن کی صدارت کی
جناب نڈا نے بڑھتے ہوئے غیر متعدی امراض سے نمٹنے کے لیے ہندوستان کی جامع صحت پالیسی کی جانب منتقلی پر روشنی ڈالی؛ پالیسی سے لے کر عمل تک، مرکزی حکومت نے بنیادی ڈھانچے میں توسیع، بڑے پیمانے پر اسکریننگ اور ملک گیر طرز زندگی مہمات کے ذریعے این سی ڈی کنٹرول کی رفتار کو تیز کیا
ملک گیر وسیع اسکریننگ مہم کے ذریعے 41.5 کروڑ افراد کی ہائی بلڈ پریشر، 41.3 کروڑ کی ذیابیطس، 35.3 کروڑ کی منہ کے کینسر اور 16.5 کروڑ کی چھاتی کے کینسر کے لیے اسکریننگ کی گئی: جناب نڈا
جناب نڈا نے ثانوی اور اعلیٰ سطحی طبی نگہداشت میں توسیع پر زور دیا: 880 میڈیکل کالج، 23 ایمس اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کے لیے 64,000 کروڑ روپے کا فروغ
جناب نڈا نے اس بات پر زور دیا کہ غیر متعدی امراض کے 70 فیصد خطرے کے عوامل طرز زندگی سے وابستہ ہیں؛ انھوں نے احتیاط، صحت مند غذا اور فعال طرز زندگی اپنانے کی وزیر اعظم کی اپیل کی حمایت کی
صحت کے مرکزی سیکریٹری نے ہندوستان کی کثیر جہتی این سی ڈی حکمت عملی پر روشنی ڈالی؛ احتیاط، رویّوں میں تبدیلی اور اجتماعی اقدام کی ضرورت پر زور دیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
21 APR 2026 6:37PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود، جناب جگت پرکاش نڈا نے آج یہاں 18ویں سول سروسز ڈے کی تقریبات کے دوران ”ہندوستان میں غیر متعدی امراض سے نمٹنا: احتیاطی تدابیر سے علاج تک“ کے عنوان سے ایک اجلاس کی صدارت کی۔ اس موقع پر مرکزی سیکریٹری صحت، محترمہ پُنیا سلیلا سریواستو بھی موجود تھیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب جے پی نڈا نے سیشن کے موضوع کی اہمیت پر زور دیا اور ہندوستان کے صحت کے نظام میں احتیاطی تدابیر سے معالجاتی نگہداشت تک منتقلی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ”2017 میں ہم ایک جامع اور ہمہ گیر صحت پالیسی کے ساتھ سامنے آئے، جس میں ہم نے احتیاطی، معالجاتی، بزرگوں کی نگہداشت، بحالی اور تسکینی نگہداشت پر توجہ مرکوز کی۔“
جناب نڈا نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ متعدی امراض کے محاذ پر ملک نے بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، جبکہ غیر متعدی امراض (این سی ڈی) پر مزید توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ ان کے نتائج ظاہر ہونے میں زیادہ وقت لگتا ہے اور اس حوالے سے معلوماتی خلا بھی موجود ہے جسے دور کرنا ضروری ہے۔
ملک میں این سی ڈی کے مسئلے کو تسلیم کرتے ہوئے جناب نڈا نے کہا کہ ”چونکہ ملک میں ہونے والی کل اموات میں سے 60 فیصد این سی ڈی کی وجہ سے ہوتی ہیں، اس لیے اس شعبے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور اسے ترجیح دی جا رہی ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”قومی پروگرام برائے انسداد و کنٹرول غیر متعدی امراض کے تحت بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، ابتدائی تشخیص اور بروقت شناخت، صحت کے فروغ، بیماری کے نظم و نسق اور بروقت ریفرل پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔“ انہوں نے کہا کہ ”صحت کا فروغ یقیناً ایک اہم شعبہ ہے، جبکہ بیماری کا مؤثر انتظام اور بروقت ریفرل بھی نہایت اہم ہیں۔ یہی وہ بنیادی پہلو ہیں جن پر ہم غیر متعدی امراض کے حوالے سے توجہ دے رہے ہیں۔“
حکومت کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب نڈا نے کہا کہ ”گزشتہ چھ برسوں میں ہم نے 1.85 لاکھ سے زائد آیوشمان آروگیہ مندر قائم کیے ہیں، جو 1.45 ارب عوام اور صحت کے اداروں کے درمیان پہلا رابطہ نقطہ ہیں۔ ان میں سے ہر ایک مرکز میں ایک آشا کارکن موجود ہے، اور جہاں ممکن ہو دیگر فرنٹ لائن صحت کارکن بھی تعینات کیے گئے ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”2017 میں ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ رضاکارانہ اور وسیع پیمانے پر اسکریننگ کی جائے گی۔“
جناب نڈا نے ان اقدامات کے مثبت نتائج کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم نے ضلعی سطح پر تقریباً 107 غیر متعدی امراض کلینک اور 233 کارڈیک کیئر یونٹ قائم کیے ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”اسی بجٹ میں اعلان کیا گیا ہے کہ ہر ضلع میں ایک ڈے کیئر کینسر سینٹر قائم کیا جائے گا۔“
مرکزی وزیر صحت نے ملک میں این سی ڈی سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر اسکریننگ کی کوششوں پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ”2017 سے اب تک 41.5 کروڑ افراد کی ہائی بلڈ پریشر کے لیے اسکریننگ کی جا چکی ہے، جن میں سے 7.1 کروڑ کی تشخیص ہوئی اور 5.7 کروڑ افراد کو رجسٹر کیا گیا ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”ہم نے ابتدائی تشخیص کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے تاکہ ہندوستان کو صحت مند بنایا جا سکے۔ مثال کے طور پر، 41.3 کروڑ افراد کی ذیابیطس کے لیے اسکریننگ کی گئی، جن میں سے 4.7 کروڑ افراد میں ذیابیطس کی تشخیص ہوئی اور 3.4 کروڑ افراد زیر علاج ہیں۔ منہ کے کینسر کے لیے اب تک 35.3 کروڑ افراد کی اسکریننگ کی جا چکی ہے، جن میں سے 2.3 لاکھ افراد میں کینسر کی تشخیص ہوئی اور تقریباً 2 لاکھ افراد کا علاج جاری ہے۔ جبکہ 16.5 کروڑ سے زائد افراد کی چھاتی کے کینسر کے لیے اسکریننگ کی جا چکی ہے۔“
جناب نڈا نے مزید کہا کہ ”سروائیکل کینسر کے لیے 8.73 کروڑ اسکریننگ کی جا چکی ہیں، جن میں سے 1.1 لاکھ خواتین میں کینسر کی تشخیص ہوئی اور تقریباً 97 ہزار زیرِ علاج ہیں۔“ انہوں نے ابتدائی مرحلے میں کینسر کی تشخیص، قلبی امراض کے بوجھ میں کمی، گردوں کی ناکامی، جگر کے مسائل اور دیگر پیچیدگیوں کو کم کرنے میں حکومت کے فعال کردار کو بھی اجاگر کیا۔
جناب نڈا نے ثانوی اور اعلیٰ سطحی طبی نگہداشت کے استحکام اور توسیع کے لیے کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ”آج ہمارے پاس 880 میڈیکل کالج ہیں، جو ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں، اور 23 آل انڈیا انسٹی ٹیوٹس آف میڈیکل سائنسز (ایمس) ہیں، جن میں سے 20 پہلے ہی فعال ہو چکے ہیں۔ ان اداروں میں مکمل کارڈیالوجی شعبے اور مکمل سپر اسپیشلٹی کینسر ڈپارٹمنٹ موجود ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”ہیلتھ انفراسٹرکچر مشن کے تحت، ہم نے بنیادی اور ثانوی صحت کی دیکھ بھال کے درمیان خلا کو پُر کرنے کے لیے 64,000 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔“
جناب نڈا نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ”ٹیلی کنسلٹیشن ایک ایسا شعبہ ہے جہاں ای سنجیونی نے نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ سہولت فراہم کنندہ سے فراہم کنندہ اور مریض سے فراہم کنندہ دونوں انداز میں دستیاب ہے۔ جب ہم فراہم کنندہ سے فراہم کنندہ کی بات کرتے ہیں تو ہیلتھ اینڈ ویلنس سینٹر میں تعینات کمیونٹی ہیلتھ آفیسر رابطہ قائم کرنے، ترجمانی کرنے، تصاویر فراہم کرنے اور ماہر ڈاکٹر کے ساتھ مریض کی براہ راست بات چیت کو ممکن بناتا ہے۔ اسی طرح مریض سے ڈاکٹر رابطے میں مریض براہ راست اس پلیٹ فارم کے ذریعے ڈاکٹر سے بات کرتا ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”اب تک 46.4 کروڑ سے زائد مریض ٹیلی کنسلٹیشن خدمات سے فائدہ اٹھا چکے ہیں اور ہم اس کے ذریعے دیہی علاقوں میں بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔“
جناب نڈا نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ”تقریباً 70 فیصد این سی ڈی کے خطراتی عوامل طرز زندگی سے وابستہ ہیں اور اگر ہم احتیاطی پہلو پر توجہ مرکوز کریں تو ہم اس بوجھ کے ایک بڑے حصے کو کم کر سکتے ہیں جس پر ہم کام کر رہے ہیں۔“ انہوں نے طرز زندگی سے متعلق بیماریوں سے نمٹنے کے لیے حکومت کے مختلف اقدامات، جیسے ”ایٹ رائٹ انڈیا“ اور ”فٹ انڈیا“ کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے معزز وزیر اعظم کی اس پُرزور اپیل کو دہرایا کہ ہم اپنے تیل کے استعمال میں 10 فیصد کمی لائیں اور نمک و چینی کا استعمال کم کریں۔ انہوں نے معلومات، تعلیم اور ابلاغ کی اہمیت پر بھی زور دیا اور بتایا کہ تمباکو کے استعمال کے حوالے سے بڑے پیمانے پر بیداری پیدا کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ”سگریٹ اور دیگر تمباکو مصنوعات سے متعلق قانون سازی میں بھارت دنیا کے سرکردہ ممالک میں شامل ہے اور سگریٹ نوشی میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم تمباکو کے دیگر استعمالات پر ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔“
جناب نڈا نے جسمانی سرگرمی کی اہمیت اور اس سے متعلق حکومتی اقدامات پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے آگاہی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ”آگاہی کا آغاز ہم خود سے کریں گے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ہمارا طرز زندگی بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور ہمیں خود کو، اپنے اہل خانہ کو اور اپنی کمیونٹی کو اس بارے میں بیدار کرنا ہوگا۔“ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت جسمانی اور ذہنی صحت کے فروغ کے لیے یوگا کے دائرہ کار کو وسعت دے رہی ہے اور اسے مستحکم کر رہی ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی سیکریٹری صحت، محترمہ پُنیا سلیلا سریواستو نے غیر متعدی امراض (این سی ڈی) سے نمٹنے کے لیے بھارت کی حکمت عملی اور موٹاپے کے مسئلے سے نمٹنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ”بھارت میں متعدی امراض سے غیر متعدی امراض جیسے قلبی بیماریوں، کینسر، ذیابیطس اور سانس کی بیماریوں کی جانب رجحان بڑھ رہا ہے، جنہیں این پی-این سی ڈی کے تحت کثیر جہتی، حکومتی و سماجی سطح کے جامع نقطۂ نظر کے ذریعے حل کیا جا رہا ہے، جس میں آگاہی، آبادی کی بنیاد پر اسکریننگ اور تسلسل کے ساتھ علاج شامل ہیں۔“
انہوں نے ”75x25 اقدام“ اور ”سواستھ ناری، سشکت پریوار ابھیان“ جیسے اہم اقدامات پر بھی روشنی ڈالی، جن میں احتیاط، ابتدائی تشخیص اور کمیونٹی کی شمولیت پر زور دیا گیا ہے۔ موٹاپے کو این سی ڈیز کا ایک بڑا سبب قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ این ایف ایچ ایس-5 کے اعداد و شمار کے مطابق 24 فیصد خواتین اور 23 فیصد مرد زائد وزن یا موٹاپے کا شکار ہیں، جبکہ شہری رجحانات اور بچوں میں بڑھتا ہوا موٹاپا اہم تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر صحت بخش غذائی عادات اس کی بڑی وجہ ہیں اور انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے ایک مطالعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ چکنائی، تیل اور پراسیسڈ غذاؤں کا زیادہ استعمال اس میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ملک گیر سطح کی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ”معزز وزیر اعظم نے موٹاپے کے خلاف اجتماعی اقدام کی اپیل کی ہے، جس میں خوردنی تیل کے استعمال میں کمی بھی شامل ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ وزارت، فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈ اتھارٹی آف انڈیا، راشٹریہ بال سواستھیا کاریہ کرم اور آگاہی مہمات کے تعاون سے مہمات، عوامی رسائی اور اسکولوں پر مبنی اقدامات کے ذریعے رویوں میں تبدیلی کو فروغ دے رہی ہے۔ اپنے اختتامی کلمات میں انہوں نے کام کی جگہ پر صحت مندی، صحت مند طرز زندگی اور باقاعدہ اسکریننگ کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ روزمرہ کی چھوٹی تبدیلیاں عوامی صحت میں نمایاں بہتری لا سکتی ہیں۔
پروفیسر (ڈاکٹر) ایس کے سرین، ڈائریکٹر، انسٹی ٹیوٹ آف لیور اینڈ بلیئری سائنسز (آئی ایل بی ایس) نے بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے اور مجموعی صحت کے نتائج کو بہتر بنانے کے لیے ابتدائی اسکریننگ اور احتیاطی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈاکٹر ایل سواستی چرن، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز، جناب پشپیندر راجپوت، جوائنٹ سیکریٹری، وزارت صحت و خاندانی بہبود اور مرکزی حکومت کے سینیئر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔
***********
ش ح۔ ف ش ع
U: 6140
(ریلیز آئی ڈی: 2254302)
وزیٹر کاؤنٹر : 11