وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

قومی دفاعی صنعتوں کے کانکلیو 2026  میں وزیرمملکت برائے دفاع نے کہا کہ ایم ایس ایم ایز اور اسٹارٹ اپس دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنا کر قومی مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں اور خود انحصاری کے وژن کو عملی جامہ پہنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 20 MAR 2026 6:35PM by PIB Delhi

محکمۂ دفاعی پیداوار (ڈی ڈی پی) کے زیرِ اہتمام “ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجیز” کے موضوع پر منعقدہ نیشنل ڈیفنس انڈسٹریز کانکلیو (این ڈی آئی سی) 2026  20 مارچ 2026 کو نئی دہلی کے مانیک شا سینٹر میں دو روزہ تفصیلی تبادلہ خیال کے بعد اختتام پذیر ہوا۔ اس دوران جدید مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجیز اور دفاعی پیداوار میں صنعت کی شمولیت پر بھرپور تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس کانکلیو میں ایم ایس ایم ایز، دفاعی شعبے کے سرکاری ادارے (ڈی پی ایس یوز)، نجی دفاعی کمپنیاں، موجدین، پالیسی ساز اور ماہرینِ تعلیم نے شرکت کی، جہاں بھارت کے دفاعی مینوفیکچرنگ نظام کو مضبوط بنانے اور نئی و ابھرتی ٹیکنالوجیز کو تیزی سے اپنانے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔

اختتامی اجلاس میں وزیرِ مملکت برائے دفاع، جناب سنجے سیٹھ نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے بھارت کے صنعتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور دفاع میں خود انحصاری (آتم نربھرتا) کے وژن کو آگے بڑھانے میں ایم ایس ایم ایز، اسٹارٹ اپس اور موجدین کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے دفاعی افواج کی صلاحیتوں کو مستحکم بنانے میں ان کے اہم تعاون کو سراہا، جو ملک کو مختلف نوعیت کے خطرات سے محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔

جناب سنجے سیٹھ نے ایم ایس ایم ایز اور اسٹارٹ اپس کو جدّت کے “برانڈ ایمبیسیڈر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھارت کو عالمی دفاعی مینوفیکچرنگ کا مرکز اور وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے تصور کے مطابق “وکست بھارت” کی تعمیر میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس مقصد کے حصول میں حکومت کی مکمل معاونت کا یقین دلاتے ہوئے 2030 تک 50 ہزار کروڑ روپے کی دفاعی برآمدات اور 3 لاکھ کروڑ روپے کی دفاعی پیداوار کا ہدف حاصل کرنے پر اعتماد ظاہر کیا۔

وزیرِ مملکت برائے دفاع نے نجی شعبے، خصوصاً ایم ایس ایم ایز اور اسٹارٹ اپس کی شرکت بڑھانے کے لیے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے متعدد اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی بجٹ 2026-27 میں وزارتِ دفاع کے لیے ریکارڈ 7.85 لاکھ کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے، جو ایم ایس ایم ایز اور اسٹارٹ اپس کے لیے ملک کو خود کفیل بنانے کا سنہری موقع فراہم کرتی ہے۔

اس موقع پر سکریٹری (دفاعی پیداوار) جناب سنجیو کمار نے دو روزہ کانکلیو کے دوران ہونے والی نشستوں اور مباحث کا جامع جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان سیشنز نے ایم ایس ایم ایز کو ڈی پی ایس یوز، صنعتی رہنماؤں اور پالیسی سازوں کے ساتھ براہِ راست رابطے کا موقع فراہم کیا، جس سے اشتراکِ عمل، ٹیکنالوجی کی ترقی اور سپلائی چین کے انضمام کے امکانات کی نشاندہی ہوئی۔

سکریٹری (دفاعی پیداوار) نے اس بات پر زور دیا کہ اس کانکلیو نے حکومت، صنعت اور تعلیمی حلقوں کے درمیان وسیع تعامل کو فروغ دیا، جس سے دفاعی مینوفیکچرنگ کے پورے ویلیو چین میں ٹیکنالوجی کے خلا، صلاحیتوں کی ضروریات اور تعاون کے مواقع کی نشاندہی ممکن ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان مباحث نے بھارت کی دفاعی پیداوار کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور عالمی مسابقت میں اضافہ کرنے کے لیے جدّت، جدید مینوفیکچرنگ اور ایم ایس ایم ایز کی شمولیت کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔

تکنیکی بات چیت

دو دنوں کے دوران ، کانکلیو میں متعدد موضوعاتی اور ڈومین سیشنز کی میزبانی کی گئی جس میں دفاعی مینوفیکچرنگ کے اہم شعبوں کا احاطہ کیا گیا جن میں شامل ہیں:

  • توپ خانے کی بندوقیں ، چھوٹے ہتھیار اور پیدل فوج کے ہتھیار
  • دفاعی دھات کاری ، خصوصی مرکب اور صحت سے متعلق مینوفیکچرنگ
  • اعلی درجے کا مواد اور دفاعی مرکب
  • بحری پلیٹ فارم اور جہاز سازی کی ٹیکنالوجیز
  • بکتر بند گاڑیاں اور لاجسٹک پلیٹ فارم
  • گولہ بارود ، دھماکہ خیز مواد اور پروپیلنٹ
  • میزائل سسٹم اور فضائی دفاعی ٹیکنالوجیز
  • دفاعی دیکھ بھال ، مرمت اور اوور ہال (ایم آر او) اور لائف سائیکل سپورٹ

آئی ڈی ای ایکس اور ڈی آر ڈی او کی قیادت میں کئی سیشن ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر مرکوز رہے جیسے:

· اسمارٹ مینوفیکچرنگ اور انڈسٹری 4.0

· رہنمائی، کنٹرول اور نیویگیشن سسٹمز

· پروپلشن اور نقل و حرکت کی ٹیکنالوجیز

· جدید مواد اور کمپوزٹ میٹیریلز

· دفاعی نظاموں کے لیے سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ

صنعتی نمائش

کانکلیو کے ساتھ منعقدہ صنعتی نمائش نے بھارت کے دفاعی مینوفیکچرنگ نظام کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اس نمائش میں 20 بڑی دفاعی کمپنیوں کے اسٹالز شامل تھے، جبکہ 24 بھارتی اور بین الاقوامی کمپنیوں کی شرکت بھی رہی، جنہوں نے آٹومیشن، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، ایڈیٹیو مینوفیکچرنگ اور اسمارٹ میٹیریلز جیسے شعبوں میں جدید مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجیز کا مظاہرہ کیا۔

اس نمائش میں محکمۂ دفاعی پیداوار اور اس سے منسلک اداروں کے اقدامات بھی پیش کیے گئے، جن میں پالیسی اصلاحات اور جدت پر مبنی پلیٹ فارموں کو اجاگر کیا گیا، جن کا مقصد بھارت کے مقامی دفاعی صنعتی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

این ڈی آئی سی 2026، دفاع میں آتم نربھر بھارت کے حکومتی وژن کو آگے بڑھانے اور ایک مضبوط، عالمی سطح پر مسابقتی دفاعی مینوفیکچرنگ نظام کی تشکیل کی سمت ایک اور اہم پیش رفت کی حیثیت رکھتا ہے۔

******

 

( ش ح ۔ م م ۔ م ا )

Urdu.No-6117

 

 


(ریلیز آئی ڈی: 2254115) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी