سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بھارت جامن کی ارتقائی نشوونما کا مرکز بن کر ابھرا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 20 APR 2026 5:41PM by PIB Delhi

جامن (سیزیجیم ) کے بارے میں ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کی ابتدا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ قدیم ہے، اور اس کی ارتقائی تاریخ میں بھارت نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

اس تحقیق کے مطابق جینس سیزیجیم کی ابتدا مشرقی گونڈوانا سے ہوئی، جو تقریباً 80 ملین سال پرانی ہے، اور اس کے ابتدائی تنوع  کا ایک بڑا مرکز بھارت رہا ہے۔ یہ دریافت پودوں کے ارتقائی  عمل کے بارے میں ہماری سمجھ کو نئی جہت دیتی ہے۔

اس سے پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ سیزیجیم (عام طور پر جامن کے نام سے جانا جاتا ہے) کی ابتدا صرف آسٹریلیا یا جنوب مشرقی ایشیا تک محدود تھی۔ تاہم، محققین نے فوسل شواہد اور سالماتی  فائیلوجینیٹک ٹائم لائنز کے درمیان تضادات کی نشاندہی کی، جن کے مطابق اس کی ابتدا تقریباً 51 ملین سال پہلے بتائی گئی تھی۔ مزید یہ کہ بھارت سے ملنے والے 60 سے 20 ملین سال پرانے فوسلز کو پہلے جامع طور پر دوبارہ جانچا نہیں گیا تھا۔

تقریباً 20 ملین سال پرانے نئے مائیوسین  فوسلز کی دریافت نے سیزیجیم کی ابتدا اور اس کے پھیلاؤ کی تاریخ کو ایک مربوط  فریم ورک میں دوبارہ جانچنے کا موقع فراہم کیا۔

بھارت کے بیر بل ساہنی انسٹی ٹیوٹ آف پیلیو سائنسز(بی ایس آئی پی)، جو سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمےکا خود مختار ادارہ ہے، اکیڈمی آف سائنٹیفک اینڈ انوویٹو ریسرچ(اے سی ایس آئی آر) ، سنٹرل ڈیپارٹمنٹ آف جیولوجی، تری بھون یونیورسٹی (کِرتی پور، کٹھمنڈو) اور بیریندر ملٹی پل کیمپس، تری بھون یونیورسٹی (چِتّون، بھرتپور) کے محققین پر مشتمل ٹیم نے ہماچل پردیش میں واقع کساولی فارمیشن سے تقریباً 20 ملین سال پرانے فوسل نمونے اکٹھے کیے۔ یہ تحقیق ابتدائی مائیوسین تلچھٹی تہوں کے ابتدائی مطالعے کے بعد کی گئی، جس کا مقصد پودوں کی ارتقائی تاریخ کو بہتر طور پر سمجھنا تھا۔

تصویر 1: نقشہ جس میں اس فوسل مقام کو دکھایا گیا ہے جہاں سے فوسل پتے اکٹھے کیے گئے تھے۔

 

ان نمونوں کا تجزیہ مائیکروسکوپی اور تفصیلی مورفولوجیکل (ساختی) خصوصیات کے ذریعے کیا گیا۔ سائنسدانوں نے ہربیریم کے مجموعوں اور عالمی ڈیٹا بیسز کا استعمال کرتے ہوئے تقابلی تجزیہ بھی کیا۔ ٹیکسونومک درجہ بندی کی درستگی کی تصدیق کے لیے شماریاتی طریقے اپنائے گئے۔ اس کے علاوہ، پیلیوجین اور نیوجین (60 سے 20 ملین سال قبل) کے تلچھٹی ذخائر سے ملنے والے پہلے سے رپورٹ شدہ فوسلز کا بھی تنقیدی جائزہ لیا گیا تاکہ ایک مسلسل ارتقائی زمانہ تسلسل تشکیل دیا جا سکے۔

فوسل پتوں کی تفصیلی ساختی جانچ میں ان کی شکل، جسامت اور رگوں کے نمونوں کا مطالعہ شامل تھا۔ جدید پودوں کی انواع کے ساتھ موازنہ مقداری شماریاتی طریقوں کے ذریعے کیا گیا، جبکہ 22 مورفولوجیکل خصوصیات کی بنیاد پر تجزیے نے فوسلز کی درست شناخت اور ارتقائی تشریح میں مدد فراہم کی۔

بھارت کے ابتدائی مائیوسین (تقریباً 20 ملین سال پرانے) ذخائر سے سیزیجیم کی کل 11 اچھی طرح محفوظ شدہ فوسل پتیاں دریافت ہوئیں، جنہیں Syzygium paleosalicifolium Sadanand, Bhatia et Srivastava کا نام دیا گیا۔ بھارت سے ملنے والے پہلے کے فوسل ریکارڈز کی دوبارہ جانچ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جینس ابتدائی ایوسین (تقریباً 55 ملین سال پہلے) سے ہی بھارتی خطے میں موجود تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کی موجودگی بھارت میں بہت پہلے اور مسلسل رہی ہے۔

یہاں سے یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ یہ جینس بعد میں جنوب مشرقی ایشیا اور آسٹریلیا کی طرف پھیلا، جس سے اس ماحولیاتی اور معاشی لحاظ سے اہم پودوں کے گروہ کی جغرافیائی ارتقائی تاریخ از سر نو تحریر ہو جاتی ہے۔

یہ تحقیق Journal of Palaeogeography میں شائع ہوئی ہے اور ایشیائی نباتاتی تنوع کی ارتقائی تاریخ اور بھارت کے کردار کے بارے میں اہم بصیرت فراہم کرتی ہے۔

لاکھوں سال پرانے نباتاتی ماحول اور موسمی تبدیلیوں کو سمجھنا مستقبل کے موسمیاتی حالات کی پیش گوئی کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ یہ تحقیق حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، ماحولیاتی منصوبہ بندی اور ارتقا و جغرافیائی حیاتیات  پر عالمی تحقیق میں بھارت کے کردار کو مزید مضبوط کرتی ہے۔

اشاعت کا لنک: https://doi.org/10.1016/j.jop.2026.100343

****

 ش ح۔ ش ت۔ ج ا

U.No. 6089 


(ریلیز آئی ڈی: 2253891) وزیٹر کاؤنٹر : 12
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी