ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

این بی اے کی جانب سے اے بی ایس فنڈ کے استعمال کو مؤثر بنانے کے لیے اہم پالیسی اقدام؛ نامزد ذخیرہ گاہوں کے لیے رہنما اصولوں میں ترمیم

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 APR 2026 8:47PM by PIB Delhi

قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی (این بی اے) نے 23 مارچ 2026 کو چنئی میں منعقدہ اپنے 77ویں اجلاس میں حیاتیاتی تنوع ایکٹ 2002 کے مؤثر نفاذ کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد اقدامات کومنظوری دی۔ ان میں ایکسیس اینڈ بینیفٹ شیئرنگ (اے بی ایس) فنڈز کے استعمال کے طریقۂ کار کو آسان بنانا اور نامزد ذخیرہ گاہوں کے لیے نظرِ ثانی شدہ رہنما اصول شامل ہیں۔

این بی اے کے ذریعے حاصل ہونے والی اے بی ایس رقم کو حیاتیاتی تنوع ایکٹ 2002 کی دفعہ 27 کے مطابق متعلقہ مستفیدین تک پہنچانا ضروری ہے۔ اگر مستفیدین کی شناخت ممکن نہ ہو تو یہ فنڈز ان علاقوں کی سماجی و معاشی ترقی پر خرچ کیے جائیں گے جہاں سے حیاتیاتی وسائل حاصل کیے گئے ہوں۔

ایسے معاملات میں جہاں مستفیدین کی نشاندہی ممکن نہیں ہوتی، اے بی ایس فنڈز کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے این بی اے نے ایک ماہر ین پر مشتمل کمیٹی کی معاونت سے تفصیلی طریقۂ کار وضع کیا ہے۔ یہ طریقۂ کار تاجروں، منڈیوں، ذخیرہ گاہوں اور اداروں کے ذریعے حیاتیاتی وسائل تک رسائی سے حاصل ہونے والے فنڈز کے استعمال کے سلسلے میں  رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اتھارٹی نے ان رہنما اصولوں کو  باقاعدہ منظوری بھی دے دی ہے، خاص طور پر ان صورتوں کے لیے جہاں حیاتیاتی وسائل کے اصل ماخذ کا سراغ لگانا ممکن نہ ہو۔

منظور شدہ فریم ورک کے تحت اے بی ایس فنڈز کی تقسیم کو واضح شرحوں کے ساتھ منظم کیا گیا ہے تاکہ شفافیت، انصاف اور یکسانیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ جہاں حیاتیاتی وسائل تک رسائی اداروں یا ذخیرہ گاہوں کے ذریعے حاصل کی گئی ہو اور اصل ماخذ کی شناخت ممکن ہو وہاں اے بی ایس رقم کا 25 سے 40 فیصد متعلقہ اداروں یا ذخیرہ گاہوں کو ان کے تحفظ، دستاویز بندی اور قدر میں اضافے کے کردار کے اعتراف میں دیا جائے گا۔ باقی 60 سے 75 فیصد رقم ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈز (ایس بی بی ) اور یونین ٹیریٹری بایوڈائیورسٹی کونسلز (یو ٹی بی سی ) کے ذریعے مقامی برادریوں یا مستفیدین میں تقسیم کی جائے گی۔

اس فریم ورک میں لچک بھی رکھی گئی ہے تاکہ اداروں کی جانب سے قدر میں اضافے کی حد، ماخذ کی وضاحت اور مخصوص تحفظاتی ضروریات جیسے عوامل کی بنیاد پر ان تناسب میں رد و بدل کیا جا سکے۔ ایسے معاملات میں جہاں مناسب معلومات دستیاب نہ ہوں، ایک معیاری تقسیم کا فارمولا مقرر کیا گیا ہے جس کے تحت 30 فیصد رقم اداروں کو اور 70 فیصد این بی اے کو دی جائے گی۔ بعد ازاں یہ 70 فیصد حصہ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، پائیدار استعمال اور نظم و نسق سے متعلق سرگرمیوں کے لیے، ایکٹ کی دفعہ 32 کے مطابق، ایس بی بی اور یو ٹی بی سی  کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔

ایسے معاملات میں جہاں حیاتیاتی وسائل تاجروں یا درمیانی افراد کے ذریعے حاصل کیے جائیں اور پورے ملک میں وسیع پیمانے پر پھیلے ہوں، یا ان کے اصل ماخذ کا تعین ممکن نہ ہو، وہاں اے بی ایس فنڈز کو ایکٹ کی دفعہ 27 کے مطابق حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، پائیدار استعمال اور نظم و نسق کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ تاہم جہاں دستیاب معلومات کی بنیاد پر وسائل کا ماخذ مخصوص ریاستوں سے منسلک کیا جا سکے، وہاں فنڈز متعلقہ ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈز (ایس بی بی ) یا یونین ٹیریٹری بایوڈائیورسٹی کونسلز (یو ٹی بی سی ) کو ایکٹ کی دفعات کے مطابق استعمال کے لیے منتقل کیے جائیں گے۔

این بی اے کی جانب سے پہلے جاری کردہ نامزد ذخیرہ گاہوں کے رہنما اصولوں کا ماہرین پر مشتمل  کمیٹی کی معاونت سے ازسرِنو جائزہ لیا گیا اور انہیں موجودہ ضروریات کے مطابق اپ ڈیٹ کیا گیا۔ اتھارٹی نے حیاتیاتی تنوع ایکٹ کے تحت ان نظرِ ثانی شدہ رہنما اصولوں کی منظوری دے دی ہے۔ ان کا مقصد حیاتیاتی وسائل کے ووچر نمونوں کی محفوظ نگہداشت اور مؤثر انتظام کے لیے ایک مضبوط نظام قائم کرنا ہے۔ اس میں معیاری دستاویز بندی، ماخذ (پروویننس) کے ریکارڈ کی درست دیکھ بھال اور معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی) کی پابندی پر زور دیا گیا ہے۔

مزید برآں، ان رہنما اصولوں میں ووچر نمونوں کی ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دیا گیا ہے تاکہ شناخت اور تصدیق کے لیے ان تک رسائی آسان ہو سکے، جبکہ حیاتیاتی مواد کی جسمانی منتقلی پر قانونی پابندیوں کو بھی برقرار رکھا جائے۔ اس اقدام سے سراغ رسانی (ٹریس ایبلٹی)، سائنسی دیانت داری اور ضابطہ جاتی تعمیل میں بہتری متوقع ہے۔

یہ اقدامات اے بی ایس فریم ورک کے نفاذ میں شفافیت، جوابدہی اور کارکردگی بڑھانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہیں  اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ حیاتیاتی وسائل کے استعمال سے حاصل ہونے والے فوائد کی منصفانہ اور مساوی تقسیم ہو۔

******

(ش ح ۔ م م۔ت ا(

U.No.6057


(ریلیز آئی ڈی: 2253665) وزیٹر کاؤنٹر : 26
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी