کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

سی ٹی آئی ایل نے نئی دہلی میں، سرحد پار مالی امداد سے متعلق عالمی تجارتی تنظیم کے فیصلے پر پینل ڈسکشن کا اہتمام کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 19 APR 2026 3:24PM by PIB Delhi

غیر ملکی تجارت کے بھارتی ادارے کے ماتحت مرکز برائے تجارت اور سرمایہ کاری قانون (سی ٹی آئی ایل) نے جنوبی ایشیائی بین الاقوامی اقتصادی قانون نیٹ ورک (ایس اے آئی ای ایل این) اور انڈین سوسائٹی آف انٹرنیشنل لاء (آئی ایس آئی ایل) کے ساتھ شراکت داری میں، نئی دہلی میں واقع انڈین سوسائٹی آف انٹرنیشنل لاء میں انڈونیشیا (ڈی ایس 616) سے اسٹین لیس اسٹیل کولڈ- رولڈ فلیٹ پروڈکٹس پر ڈمپنگ کے خلاف حفاظتی ٹیکس اور یورپی یونین کے تلافیانہ (یا جوابی) محصولات کے تنازع میں سرحد پر مالی امداد سے متعلق عالمی تجارتی تنظیم کے فیصلے پر پینل ڈسکشن کا اہتمام کیا۔

بحث میں ڈبلیو ٹی او پینل کی رپورٹ سے پیدا ہونے والے قانونی اور پالیسی مضمرات پر توجہ مرکوز کی گئی، خاص طور پر مالی امداد اور تلافیانہ اقدامات (ایس سی ایم معاہدہ) اور بین الاقوامی مالی امداد پر اس کے اطلاق کے تناظر میں۔ غور و خوض میں غیر ملکی اداروں بشمول ریاست سے منسلک اداکاروں کی طرف سے فراہم کردہ مالی تعاون کو حکومت انڈونیشیا سے منسوب کرنے اور اس طرح کے تعاون کو ناقابل دستیاب سبسڈی کے طور پر استعمال کرنے کے لیے یورپی یونین کے طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔

پینل نے ڈبلیو ٹی او پینل کے نتائج کا تجزیہ کیا، جس میں واضح کیا گیا کہ ایس سی ایم معاہدے کے آرٹیکل 1.1(اے) (1) کے تحت حکومت کی طرف سے "مالی شراکت" کی تعریف ایک بند فہرست بناتی ہے، اس طرح حکومت سے حکومت کی حوصلہ افزائی کو اس کے دائرہ کار سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ بحث میں "عوامی ادارے" کی حیثیت کے تعین سے متعلق مسائل پر بھی توجہ دی گئی، جس میں کسی ہستی کی خصوصیات اور حکومت کے ساتھ اس کے تعلقات کے ٹھوس جائزے کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا۔

سرحد پار مالی امداد کے لیے فیصلے کے وسیع تر نتائج کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں  بین الاقوامی تجارتی قانون اور ارتقاء پزیر صنعتی پالیسیوں کے درمیان انٹرفیس پر اس کے ممکنہ اثرات بھی شامل ہیں۔۔ سیشن کے دوران سرحد پار ریاستی معاونت کے طریقہ کار کی بڑھتی ہوئی پیچیدگی اور موجودہ ڈبلیو ٹی او کے فریم ورک کو درپیش چنوتیوں پر روشنی ڈالی گئی۔

افتتاحی کلمات صدر، انڈین سوسائٹی آف انٹرنیشنل لاء (آئی ایس آئی ایل) اور وائس چانسلر، دھرم شاسترا نیشنل لاء یونیورسٹی (ڈی این ایل یو)، جبل پور، پروفیسر (ڈاکٹر) منوج کمار سنہا (ورچووَل) نے کہے، جنہوں نے سرحد پار اقتصادی تعاون اور ترقی پذیر صنعتی حکمت عملی کے تناظر میں بین الاقوامی تجارتی ضابطے کی بڑھتی ہوئی پیچیدگی پر زور دیا۔

پینل ڈسکشن کی صدارت سی ٹی آئی ایل کے پروفیسر اور سربراہ، ڈاکٹر جیمس جے نیدوپارا نے کی، اور اس بات چیت میں اے ایس ایل لیگل کے منیجنگ پارٹنر جناب شرد بنسالی؛ ڈبلیو ٹی او اسٹڈیز کے مرکز  میں جزوقتی پروفیسرجناب مکیش بھٹناگر؛ اکنامک لاز پریکٹس (ای ایل پی) کے پارٹنر جناب پارتھا سارتھی جھا؛ اور سی ٹی آئی ایل میں ریسرچ فیلو جناب آشوتوش کشیپ نے حصہ لیا۔

سیشن کا اختتام سینٹر فار اسٹڈیز اِن انٹرنیشنل ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ لاز  کے ڈائرکٹر اور دھرم شاستر نیشنل لا یونیورسٹی (ڈی این ایل یو)، جبل پور کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اُتکرش کے مشرا (ورچووَل) کے تبصرے کے ساتھ ہوا، اس کے بعد مستقبل کے تجارتی تنازعات کے لیے پینل رپورٹ کے نتائج پر شرکاء کے ساتھ ایک باہم اثر پذیر تبادلہ خیال کا اہتمام کیا گیا۔

**********

 

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:6038


(ریلیز آئی ڈی: 2253542) وزیٹر کاؤنٹر : 15
یہ ریلیز پڑھیں: English , Marathi , हिन्दी