بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

 نریندر مودی حکومت نے 12,980 کروڑ روپے کی خود مختار ضمانت کے ساتھ سمندری انشورنس پول متعارف کرایا


 وزیر جہاز رانی سربانند سونووال نے ’’بھارت سمندری انشورنس پول‘‘ کو عالمی غیر یقینی صورتحال کے مقابلے میں ہندوستان کی شپنگ صنعت کو مضبوط بنانے کی سمت بڑا قدم قرار دیا

بی ایم آئی پول کے تحت جہاز، کارگو، پروٹیکشن اینڈ انڈیمنٹی اور جنگی خطرات کا احاطہ کیا جائے گا، حتیٰ کہ تنازعات سے متاثرہ عالمی سمندری راستوں میں بھی

سربانند سونووال کے مطابق: ’’یہ نیا نظام غیر ملکی انشورنس دورانیہ اور جغرافیائی سیاسی جھٹکوں پر انحصار کم کرے گا اور میری ٹائم انڈیا وژن 2030 کے مطابق ہے‘‘

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 APR 2026 11:00PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ایک اہم پالیسی اقدام کے تحت مرکزی کابینہ نے 12,980 کروڑ روپے کی خود مختار ضمانت کے ساتھ ایک گھریلو سمندری انشورنس پول کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ اس کا مقصد ہندوستان کی سمندری تجارت کو عالمی غیر یقینی صورتحال سے محفوظ بنانا ہے۔ اس فیصلے سے غیر ملکی انشورنس فراہم کنندگان پر انحصار میں نمایاں کمی آئے گی اور بھارتی جہاز رانی کے لیے بلا تعطل خطروں کے کوریج یقینی بنائی جا سکے گی۔

مجوزہ ’’بھارت میری ٹائم انشورنس پول   )بی ایم آئی  پول)اہم شعبوں—جہاز کے ڈھانچے اور مشینری، کارگو، پروٹیکشن اینڈ انڈیمنٹی اور جنگی خطرات—میں جامع انشورنس فراہم کرے گا۔ یہ سہولت بھارتی پرچم بردار اور بھارتی کنٹرول میں چلنے والے جہازوں کے لیے ہوگی، بشمول وہ جہاز جو تنازعات سے متاثرہ بین الاقوامی سمندری راستوں پر سرگرم ہیں۔ یہ اقدام ہندوستان کو 2047 تک ایک بڑی سمندری طاقت بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔

 بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گذرگاہوں کے مرکزی وزیر سربانند سونووال نے اس فیصلے کو ’’تبدیلی لانے والا قدم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ برسوں سے ہندوستانی جہاز رانی غیر ملکی انشورنس مارکیٹوں کی غیر یقینی صورتحال کے رحم و کرم پر تھی، لیکن اب اس فیصلے سے ملک اپنی سمندری تجارت کے تحفظ کے لیے خود مختار صلاحیت حاصل کر رہا ہے۔

ہندوستان کا سمندری شعبہ حجم کے لحاظ سے 70 فیصد سے زائد اور قدر کے لحاظ سے تقریباً 95 فیصد تجارت سنبھالتا ہے، تاہم اس وسیع نظام کی انشورنس کوریج زیادہ تر غیر ملکی اداروں کے پاس رہی ہے۔ حالیہ عرصے میں بحیرہ احمر، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان جیسے اہم سمندری راستوں میں رکاوٹوں کے دوران عالمی انشورنس کمپنیوں کی جانب سے پریمیم میں اضافہ یا کوریج واپس لینے سے اس کمزوری کا واضح اظہار ہوا، جس سے بھارتی برآمد کنندگان اور شپنگ آپریٹرز کو مالی خطرات اور عملی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

بی ایم آئی پول اس خلا کو پُر کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے تاکہ جغرافیائی سیاسی حالات سے قطع نظر انشورنس کوریج جاری رہے، تجارتی بہاؤ مستحکم رہے اور برآمد کنندگان و لاجسٹکس شعبے پر لاگت کا دباؤ کم ہو۔

یہ پول بین الاقوامی بندرگاہوں اور ہندوستان کے درمیان دونوں سمتوں میں سامان لے جانے والے جہازوں کو انشورنس فراہم کرے گا۔ اس کے تحت جہازوں کے ڈھانچے اور مشینری کا بیمہ، سامان کی ترسیل کا تحفظ، عملے کی چوٹ یا ماحولیاتی نقصان جیسے فریقِ ثالث کے دعووں کا احاطہ اور جنگی خطرات کے خلاف انشورنس شامل ہوگا، تاکہ خطرناک علاقوں میں بھی بھارتی جہاز رانی بلا تعطل جاری رہ سکے۔

جناب سربانند سونووال نے کہا کہ یہ فیصلہ اہم شعبوں میں خود انحصاری کی جانب ایک بڑا قدم ہے اور یہ ہندوستان کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور صلاحیت کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک ایسی مضبوط نظام سازی کر رہا ہے جو قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے عالمی تجارت میں قیادت کے مواقع فراہم کرے۔

حکام کے مطابق یہ اقدام برطانیہ، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کی طرز پر ہے، جہاں قومی تجارت کے تحفظ کے لیے سرکاری معاونت یافتہ انشورنس نظام موجود ہیں۔ یہ منصوبہ میری ٹائم انڈیا وژن 2030 کا بھی حصہ ہے، جس میں مضبوط انشورنس ڈھانچے کو ہندوستان کو عالمی سمندری طاقت بنانے کے لیے ایک اہم ستون قرار دیا گیا ہے۔

*****

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :  6032)


(ریلیز آئی ڈی: 2253504) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी