کامرس اور صنعت کی وزارتہ
پیشگی اجازت ناموں کی درخواستوں کو تیزی سے نمٹانے کے لیے حکومت نے ڈی جی ایف ٹی کے تحت ضابطوں سے متعلق کمیٹیوں کو مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات متعارف کروائے
پیشگی اجازت ناموں اور ڈی ایف آئی اے اسکیمیں ڈی جی ایف ٹی کے تحت برآمد کنندگان کو ڈیوٹی فری درآمدات کی سہولت فراہم کرتی ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 APR 2026 4:53PM by PIB Delhi
کاروبار میں آسانی اور برآمد کنندگان کے لیے تجارتی سہولت فراہم کرنے کے حکومت کے عزم کے تحت تجارت و صنعت کی وزارت نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی) کے تحت ضابطوں سے متعلق کمیٹیوں (این سی ایز) کے کام کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد ہدفی اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد کارروائی کے وقت کو بہتر بنانا، جلد منظوری کو ممکن بنانا اور پیشگی اجازت ناموں(اے اے) اسکیم کے تحت شفافیت اور پیش بینی کو فروغ دینا ہے۔
ڈی جی ایف ٹی فارن ٹریڈ (بیرون ملک تجارت)پالیسی کے تحت ایڈوانس آتھرائزیشن(پیشگی اجازت ناموں) اسکیم اور محصول سے مستثنیٰ درآمد کی اجازت( ڈی ایف آئی اے) اسکیم متعارف کرائی ہے۔ یہ اسکیمیں برآمدی مصنوعات میں فزیکل طور پر شامل ہونے والے ان پٹس کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دیتی ہیں۔ عموماً اجازت نامے مطلع شدہ اسٹینڈرڈ ان پٹ آؤٹ پٹ نارمز (ایس آئی او این) یعنی پیداواری اِن پٹ اور آؤٹ پٹ کے معیاری اصول کی بنیاد پر جاری کیے جاتے ہیں۔ ایسے معاملات میں جہاں ایس آئی او این دستیاب نہ ہو، درخواست دہندگان کی جانب سے خود اعلان کردہ ان پٹ آؤٹ پٹ نارمز کی بنیاد پر اجازت نامے جاری کیے جاتے ہیں، جن کا بعد ازاں شعبہ وار ضابطوں سےمتعلق کمیٹیاں جائزہ لے کر انہیں حتمی شکل دیتی ہیں۔
موجودہ وقت میں ڈی جی ایف ٹی کے تحت ضابطوں سے متعلق 7؍ کمیٹیاں مختلف برآمدی شعبوں کا احاطہ کرتے ہوئے کام کر رہی ہیں۔ ان کمیٹیوں میں متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے تکنیکی ماہرین اور شعبہ جاتی ماہرین شامل ہوتے ہیں۔ یہ کمیٹیاں ایس آئی او این اور عارضی (ایڈہاک) ضابطے کے تعین، ایس آئی او این نوٹیفکیشن کی سفارش اور فارن ٹریڈ پالیسی اور ہینڈ بک آف پروسیجرز کے مطابق اجازت ناموں کے اجرا میں سہولت فراہم کرنے کی ذمہ دار ہیں۔
تکنیکی حکام کی محدود تعداد اور صلاحیت کی کمی کی وجہ سے ضابطوں سے متعلق کمیٹیوں (این سی ایز) کی کارکردگی متاثر ہوئی تھی۔ فروری 2026 کے آغاز تک ان کمیٹیوں کے ساتھ صرف بارہ تکنیکی ارکان وابستہ تھے، جن میں پانچ سروس میں موجود سرکاری افسران بھی شامل تھے، جس کے نتیجے میں ذمہ داریوں کے دباؤ اور تداخل کی وجہ سے زیرالتواء معاملات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا۔
ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متعدد اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں:
حکمرانی اور عمل درآمدکو مضبوط کرنا: ضابطوں سے متعلق کمیٹیوں(این سی ایز) کی کارکردگی میں یکسانیت اور تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے تفصیلی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ ان میں ہر15 دن بعد باقاعدگی سے میٹنگ کا انعقاد، طویل عرصے سے زیرالتواء معاملوں کو ترجیح دینا، میٹنگوں کی کارروائی (منٹس) کو وقت کی پابندی کے ساتھ حتمی شکل دینا اور زیرالتواء معاملوں اور ان کی مدت کا باقاعدہ معائنہ کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ، بار بار آنے والے معاملوں کی نشاندہی کے لیے بھی کوششیں کی گئی ہیں ت،اکہ انہیں مستقل بنیادوں پر اسٹینڈرڈ ان پٹ آؤٹ پٹ نارمز (ایس آئی او این) میں تبدیل کیا جا سکے اور بار بار منظوری لینے کی ضرورت کو کم کیا جا سکے۔
تکنیکی صلاحیت میں اضافہ: متعلقہ وزارتوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ کمیٹیوں کے لیے مزید تکنیکی افسران نامزد کریں ،تاکہ شعبہ جاتی مہارت میں اضافہ ہو اور محدود اراکین پر انحصار کم کیا جا سکے۔
معاملوں کو حل کرنے کے لیے خصوصی مہم:زیر التواء درخواستوں کو تیزی سے نمٹانے کے لیے ایک خصوصی مہم شروع کی گئی ہے، جس کے تحت اجلاس ایک طے شدہ شیڈول کے مطابق منعقد کیے جا رہے ہیں اور شفافیت و انصاف کو یقینی بنانے کے لیے معاملوں کو ان کی ترتیب زمانی (تاریخی ترتیب) کے مطابق نمٹایا جا رہا ہے۔
صلاحیت میں اضافے کے حصے کے طور پر مختلف وزارتوں سے10اضافی تکنیکی اراکین نامزد کیے گئے ہیں، جس کے بعد تکنیکی حکام کی کل تعداد 12 سے بڑھ کر 22 ہو گئی ہے۔ اس سے کمیٹیوں کی زیادہ تعداد میں معاملوں کو بہتر کارکردگی کے ساتھ نمٹانے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔
ان اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ جنوری 2026 سے 7 اپریل 2026 کے درمیان ضابطوں سے متعلق کمیٹیوں کے کل 38 میٹنگیں منعقد ہوئیں، جن میں 3,925 معاملے زیر غور لائے گئے اور 1,770 معاملوں کو حل کیاگیا۔
یہ اقدامات حکومت کے اس ایجنڈے کے عین مطابق ہیں، جس کا مقصد خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایم ایس ایم ای ایز) کے لیے ایک سہولت بخش اور مستحکم تجارتی ماحول پیدا کرنا ہے۔ ضابطوں کے تعین کے عمل کو بہتر بنانے سے لین دین کے اخراجات اوراجازت ناموں کے اجراء کی مدت میں کمی اور ہندوستان کی برآمداتی مسابقت میں اضافے کی توقع ہے۔
تجارت و صنعت کی وزارت نے برآمد کنندگان کی مدد اور تجارتی ترقی کو فروغ دینے کی اپنی وسیع تر کوششوں کے حصے کے طور پر، ضابطوں سے متعلق کمیٹیوں(نامز کمیٹیوں) کے تعین کے طریقہ کار کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
******
ش ح ۔م ع ن۔ن ع
U. No.5972
(ریلیز آئی ڈی: 2253062)
وزیٹر کاؤنٹر : 9