ایٹمی توانائی کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان صاف ستھری توانائی میں خود کو ایک عالمی کھلاڑی(اہم کردار ادا کرنے والا) کے طور پر پیش کر رہا ہے؛ ہائیڈروجن، جوہری توانائی اور اختراع پر مربوط زور: ڈاکٹر جتیندر سنگھ


وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان ہائیڈروجن، جوہری اور قابلِ تجدید توانائی پر مربوط زور کے ساتھ ایک کثیر جہتی حکمتِ عملی کو آگے بڑھا رہا ہے

اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان اختراع ، تحقیق و ترقی اور صنعتی تعاون پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اپنے توانائی روڈ میپ کو وسعت دے رہا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

بھارت نے 19,744 کروڑ روپے کی لاگت سے گرین ہائیڈروجن مشن کا آغاز کیا ہے ، نیوکلیئر انرجی مشن کا مقصد 2047 تک 100 گیگاواٹ نیوکلیئر پاور حاصل کرنا ہے ، 2033 تک پانچ چھوٹے نیوکلیئر ری ایکٹرز کا ہدف ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 16 APR 2026 6:07PM by PIB Delhi

سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج)، نیز وزیرِ مملکت برائے وزیرِ اعظم دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلاء، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج یہاں کہا کہ ہندوستان پالیسی کی حمایت، تکنیکی اختراع اور صنعت کی شمولیت کے ذریعے صاف ستھری توانائی کے منظرنامے میں خود کو ایک عالمی کھلاڑی(اہم کردار ادا کرنے والا) کے طور پر مستحکم کر رہا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ملک بیک وقت سبز ہائیڈروجن کو فروغ دے رہا ہے، جوہری توانائی کی صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے اور قابلِ تجدید ذرائع کو مضبوط بنا رہا ہے، جبکہ الیکٹرولائزر جیسی اہم ٹیکنالوجیز میں مقامی صلاحیتیں بھی تیار کی جا رہی ہیں۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے توسیع کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا نقطۂ نظر ایک مضبوط اور خود کفیل ماحولیاتی نظام کی تشکیل پر مرکوز ہے، جس کی حمایت تحقیقی فنڈنگ اور اختراع پر مبنی ترقی کے ذریعے کی جاتی ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نئی دہلی کے این ڈی ایم سی کنونشن سینٹر میں ورلڈ پیٹرو کول کانگریس کے ساتھ منعقدہ ورلڈ ہائیڈروجن انرجی سمٹ سے خطاب کر رہے تھے۔ کانفرنس نے پالیسی سازوں، عالمی صنعت کے رہنماؤں، ڈومین ماہرین اور پیٹرولیم، کوئلہ، گیس اور ابھرتے ہوئے ہائیڈروجن شعبوں کے اسٹیک ہولڈرز کو یکجا کیا، اور مستقبل کے توانائی راستوں پر غور و فکر کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔

ہندوستان کے ابھرتے ہوئے توانائی روڈ میپ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ملک ایک کثیر جہتی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے، جو توانائی کی سلامتی کو پائیداری کے ساتھ ہم آہنگ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان تیل اور گیس کے شعبے میں تقریباً 100 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری، ایکسپلوریشن کے علاقوں کو 10 لاکھ مربع کلومیٹر تک وسعت دینے اور توانائی کے مجموعے میں قدرتی گیس کا حصہ 15 فیصد تک بڑھانے کا ہدف رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ملک کی ریفائننگ صلاحیت میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے وہ عالمی سطح پر سرکردہ ممالک میں شامل ہو رہا ہے۔

صاف ستھری توانائی کی منتقلی کے حوالے سے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ 19,744 کروڑ روپے کی لاگت سے نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن نے ہندوستان کو متبادل ایندھن کے ماحولیاتی نظام کی ترقی میں صفِ اوّل میں لا کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سبز ہائیڈروجن اسٹیل اور سیمنٹ جیسے شعبوں کو کاربن سے پاک کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا، جبکہ گھریلو مینوفیکچرنگ اور اختراع کے ذریعے پیداواری لاگت کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

وزیر موصوف نے ہندوستان کے جوہری توانائی پروگرام میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں اعلان کردہ جوہری توانائی مشن کا ہدف 2047 تک 100 گیگاواٹ جوہری توانائی کی صلاحیت حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان مقامی تکنیکی ترقی کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام کے اگلے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس سے وہ منتخب ممالک کے گروپ میں شامل ہو گیا ہے۔

چھوٹے ری ایکٹرز کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان 2033 تک پانچ چھوٹے ماڈیولر/سمال ری ایکٹرز تیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جن میں سے تین پر پہلے ہی کام جاری ہے۔ ان میں بھارت سمال ماڈیولر ری ایکٹر (ایس ایم آر)، قائم شدہ ہیوی واٹر ٹیکنالوجی پر مبنی بھارت سمال ری ایکٹر (بی ایس آر)، اور چند میگاواٹ صلاحیت کے حامل چھوٹے پیمانے کے ہائیڈروجن سے منسلک ری ایکٹر شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ری ایکٹرز لچکدار، توسیع پذیر اور وکندریقرت صاف توانائی کے حل فراہم کریں گے، اور ابھرتی ہوئی ہائیڈروجن ایپلی کیشنز کی بھی حمایت کریں گے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ حالیہ پالیسی اصلاحات نے ذمہ داری کی معقول شقوں کے ساتھ جوہری شعبے کو نجی شرکت کے لیے کھول دیا ہے، تاکہ وسیع تر صنعتی شمولیت کو ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے اسٹارٹ اپس، ایم ایس ایم ایز اور نجی کمپنیاں صاف توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع میں فعال کردار ادا کر سکیں گی۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سبز روزگار اور اختراع میں ابھرتے ہوئے مواقع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ برقی نقل و حرکت، بیٹری ری سائیکلنگ، گرڈ مینجمنٹ اور قابلِ تجدید مینوفیکچرنگ جیسے شعبے روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے سرکلر معیشت کے تحت جاری اقدامات کا حوالہ دیا، جن میں استعمال شدہ کھانا پکانے کے تیل اور زرعی باقیات کو حیاتیاتی ایندھن میں تبدیل کرنا، اور گہرے سمندر کے مشن کے تحت سمندری توانائی جیسے نئے میدان شامل ہیں۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ ہندوستان کی آبادی کی قوت، تکنیکی صلاحیتیں اور پالیسی کی سمت اسے عالمی ڈی کاربونائزیشن کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہیں، جبکہ وہ اپنی آبادی کے لیے پائیدار ترقی اور توانائی تک رسائی کو بھی یقینی بنا رہا ہے۔

 

***

(ش ح۔اس ک  )

UR-5930


(ریلیز آئی ڈی: 2252751) وزیٹر کاؤنٹر : 15
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी