وزارت آیوش
مرکزی وزیر برائے آیوش پرتاپ راؤ جادھو نے آیوش چنتن شیوِر 2026 کا افتتاح کیا
اس چنتن شیوِر سے مرکزی حکومت کے مضبوط آیوش پالیسی اور اس کے مؤثر نفاذ کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے: پرتاب راؤ جادھو
آیوش،’’وکست بھارت 2047‘‘ کے وژن میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گا: پرتاب راؤ جادھو
چنتن شیوِر، آیوش کے لیے غور و فکر، جائزہ اور مستقبل کے لائحہ عمل کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے: ویدیہ راجیش کوٹیچا
آیوش کے وزیر نے وزارت کا واٹس ایپ چینل بھی لانچ کیا اور آیوش انشورنس کے لیے ٹول فری نمبر جاری کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
16 APR 2026 6:34PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے وزارتِ آیوش اور وزیر مملکت برائے صحت و خاندانی بہبود، پرتاپ راؤ جادھو نے آج نئی دہلی میں ’’چنتن شیوِر 2026‘‘ کا افتتاح کیا۔ یہ دو روزہ اسٹریٹجک غور و فکر کا اجلاس آیوش کے مختلف شعبہ جات سے متعلق متعدد نشستوں پر مشتمل ہوگا اور 17 اپریل 2026 کو اختتام پذیر ہوگا، جس میں اہم پالیسی امور پر تبادلۂ خیال، اداروں کو مضبوط بنانے اور آیوش شعبے کے مستقبل کی منصوبہ بندی کی جائے گی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پرتاب راؤ جادھو نے کہا کہ چنتن شیوِر آیوش کے شعبے میں مضبوط پالیسی سمت اور مؤثر نفاذ کے لیے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے شیوِر کی بنیاد پر یہ موجودہ اجلاس پیش رفت کا جائزہ لینے، خامیوں کی نشاندہی کرنے اور ایک عملی اور مستقبل سے ہم آہنگ لائحہ عمل ترتیب دینے کا مقصد رکھتا ہے۔ انہوں نے طرزِ زندگی سے متعلق بیماریوں کے حل میں آیوش کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو بھی اجاگر کیا، جو اس کے جامع اور ہمہ گیر طریقۂ علاج کے ذریعے "ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل’’ کے وژن اور ہیل ان انڈیا ، ہیل بائی انڈیا‘‘کے تصور سے ہم آہنگ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ میں اضافہ آیوش کے شعبے میں تعلیم، تحقیق، بنیادی ڈھانچے اور عالمی سطح پر رسائی کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے شواہد پر مبنی تحقیق، بین الوزارتی ہم آہنگی اور مکمل حکومتی نقطۂ نظر کی ضرورت پر زور دیا، ساتھ ہی اختراع، ڈیجیٹلائزیشن، صنعت کاری اور عوامی بیداری پر زیادہ توجہ دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ ان مباحث کو نچلی سطح تک قابلِ عمل اقدامات میں تبدیل کریں اور اس یقین کا اظہار کیا کہ آیوش ’’وکست بھارت 2047‘‘کے وژن کی تکمیل میں اہم کردار ادا کرے گا۔
وزارتِ آیوش کے سیکرٹری ویدیہ راجیش کوٹچیا نے کہا کہ چنتن شیوِر آیوش شعبے کی پیش رفت کا جائزہ لینے اور مستقبل کے لائحہ عمل کی تشکیل کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرتاب راؤ جادھو کی رہنمائی میں وزارت روایتی علم کو جدید سائنس کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے آیوش کو فروغ دے رہی ہے، ساتھ ہی تحقیق، عالمی تعاون اور عوامی رسائی کو بھی مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ مباحث عملی اور مقررہ مدت میں مکمل ہونے والے نتائج میں تبدیل ہوں گے، جو ’’وکست بھارت 2047‘‘ کے وژن کو تقویت دیں گے۔
وزارتِ آیوش کی جوائنٹ سیکرٹری، الارمیلمنگئی ڈی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ شیوِر بامعنی تبادلہ خیال اور مشترکہ پالیسی سازی کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آیوش قومی اور عالمی سطح پر تیزی سے ایک اہم طبی ستون کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے، اور تحقیق، اختراع اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اس شعبے کی ترقی میں نوجوان پیشہ ور افراد اور محققین کے کردار کو بھی نہایت اہم قرار دیا۔
افتتاحی اجلاس کی ایک نمایاں جھلک نئی دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید اور جنرل انشورنس کونسل کے درمیان مفاہمت کی یادداشت ( ایم او یو ) کا تبادلہ تھا، جو آیوش علاج کے لیے انشورنس کوریج کو وسعت دینے اور مسائل کے تصفیہ کے نظام کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس موقع پر پروفیسر پی کے پراجاپتی، ڈائریکٹراے آئی آئی اے، اور کستوری سینگپتا، سیکرٹری جنرل جنرل انشورنس کونسل نے مرکزی وزیر آیوش کی موجودگی میںایم او یوکا تبادلہ کیا۔ جی آئی کونسل کے ای سی رکن پروفیسر بیجن کے مشرا بھی تقریب میں شریک ہوئے اور وزیر موصوف کی مسلسل رہنمائی اور تعاون پر شکریہ ادا کیا، جس کے نتیجے میں اس شعبے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
اسکے علاوہ، مرکزی وزیر آیوش نے وزارت کا باضابطہ واٹس ایپ چینل بھی لانچ کیا تاکہ فوری رابطے اور عوامی شمولیت کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ “آیوش علاج کے لیے انشورنس کوریج کی معیاری شرحوں پر نظرِ ثانی اور مختلف طریقۂ علاج/کام کاج کے دوران پیدا ہونے والے مسائل کے تصفیے” کے عنوان سے ایک دستاویز بھی جاری کیا گیا، جس کا مقصد آیوش طبی خدمات میں شفافیت، سستی اور معیاری نظام کو فروغ دینا ہے۔ وزارت نے آیوش انشورنس کے لیے ایک ٹول فری نمبر (1800-11-0008) بھی جاری کیا۔
وزارتِ آیوش کے مشیر (آیوروید)، کوستبھا اپادھیائے نے کلماتِ تشکر پیش کرتے ہوئے معزز مہمانوں، ماہرین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور ان کی قیمتی شرکت اور بصیرت افروز خیالات کو سراہا۔ انہوں نے افتتاحی اجلاس کو کامیاب بنانے میں تمام متعلقہ فریقوں کی مشترکہ کاوشوں کا اعتراف کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ چنتن شیوِر میں ہونے والی گفتگو کو عملی اور مؤثر نتائج میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ آیوش کے شعبے کو مزید مستحکم اور فروغ دیا جا سکے۔
تقریب کے پہلے دن تین موضوعاتی نشستیں منعقد ہوئیں، جن میں شعبے کے اہم پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ افتتاحی نشست میں 2023 میں منعقدہ پہلے چنتن شیوِر کے نتائج پر ہونے والی پیش رفت اور اقدامات کا جائزہ لیا گیا، جس نے مستقبل کی پالیسی سمت متعین کرنے میں بنیاد فراہم کی۔ دوسری نشست “روایت سے عملی اطلاق تک: شواہد، اختراع اور عالمی شراکت داری کو مضبوط بنانا” کے عنوان سے منعقد ہوئی، جس میں روایتی علوم کو جدید سائنسی تصدیق اور عالمی تعاون کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ تیسری نشست “آیوش میں مسائل سے نمٹنے کے انتظام اور قانونی تیاری” کے موضوع پر تھی، جس میں ضابطہ جاتی فریم ورک اور شعبے کی توسیع کے لیے قانونی تیاری کی اہمیت پر گفتگو کی گئی۔

مرکزی وزیرِ آیوش پرتاپ راؤ جادھو چنتن شیوِر 2026 کے دوران آیوش کے معزز عہدیداران، سائنس دانوں اور دیگر متعلقہ فریقین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے۔

سیکرٹری، وزارتِ آیوش، ویدیہ راجیش کوٹچا چنتن شیوِر 2026 کے دوران خطاب کرتے ہوئے۔

وزارتِ آیوش کی جوائنٹ سیکرٹری، الارمیلمنگئی ڈی چنتن شیوِر 2026 کے افتتاحی اجلاس کے دوران مندوبین کا خیرمقدم کرتے ہوئے۔

مرکزی وزیرِ آیوش پرتاپ راؤ جادھو اور سیکرٹری، وزارتِ آیوش ویدیہ راجیش کوٹچا وزارتِ آیوش کے باضابطہ واٹس ایپ چینل کے اجراء کے بعد۔

******
(ش ح۔ ع و۔ م ا)
Urdu No-5933
(ریلیز آئی ڈی: 2252750)
وزیٹر کاؤنٹر : 8