وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
مرکزی سکریٹری ، محکمہ ماہی گیری ، حکومت ہند نے پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت نوٹیفائی کیے گئے کھارے پانی کے آبی زراعت کے کلسٹر کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے بھیماورم ، آندھرا پردیش کا دورہ کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
16 APR 2026 3:54PM by PIB Delhi
حکومتِ ہند کی ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت (ایم او ایف اے ایچ اینڈ ڈی)کے تحت محکمۂ ماہی پروری کے سکریٹری ڈاکٹر ابھی لیکش لیکھی نے 16 اپریل 2026 کو بھیماورم میں ایک جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔ اس میٹنگ کا مقصد پی ایم ایم ایس وائی کے تحت نوٹیفائی کیے گئے کھارے پانی کے آبی زراعت کے کلسٹر کی پیش رفت کا جائزہ لینا اور خطے میں کھارے پانی کی آبی زراعت سے وابستہ کیکڑے کے کسانوں سے بات چیت کرنا تھا۔دورے کے دوران مرکزی سکریٹری نے کیکڑے اور مچھلی کے کاشتکاروں سے براہِ راست تبادلۂ خیال کیا تاکہ زمینی سطح پر درپیش خلا اور چیلنجوں کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
یہ جائزہ میٹنگ ہائبرڈ موڈ میں منعقد ہوئی، جس میں محکمۂ ماہی پروری، حکومتِ ہند اور محکمۂ ماہی پروری، حکومتِ آندھرا پردیش کے عہدیداران کے علاوہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ماہی گیری کلسٹروں کے نمائندوں، آئی سی اے آر کے ماہی گیری اداروں کے سائنسدانوں، اور این ایف ڈی بی، سی اے اے، ایم پی ای ڈی اے اور نابارڈ کے نمائندوں نے شرکت کی۔اس کے علاوہ مچھلی کے کاشتکاروں، کیکڑے کے کسانوں، ماہی گیری کی کوآپریٹو سوسائٹیوں، سمندری غذا کے برآمد کنندگان، ماہی گیری کی یونیورسٹیوں اور کالجوں کے نمائندے بھی اس میٹنگ میں شریک ہوئے۔


ماہی گیروں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ابھی لیکش لیکھی، سکریٹری محکمۂ ماہی گیری، وزارتِ ماہی پروری، مویشی پروری وڈیری (ایم او ایف اے ایچ اینڈ ڈی)، حکومتِ ہند نے تمام اسٹیک ہولڈرز کی فعال شرکت کو سراہا اور قیمتی آراء فراہم کرنے پر کسانوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیڈ بیک مرکزی اور ریاستی پالیسی سازی کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے فعال اقدامات کے ذریعے 64 لاکھ ٹن مچھلی کی پیداوار حاصل کرنے پر حکومتِ آندھرا پردیش کو مبارکباد دی۔
انہوں نے کہا کہ پری پروڈکشن، پروڈکشن اور پوسٹ پروڈکشن کے مراحل میں پائے جانے والے خلا کو دور کرنے کے لیے مرکوز حکمتِ عملی کے ساتھ بھیماورم کلسٹر کو مسلسل تعاون فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے دفاع اور دیگر سرکاری اداروں کے ساتھ اشتراک کے ذریعے مچھلی کی کھپت بڑھانے، ملکی و غیر ملکی کسانوں کے لیے مطالعاتی دوروں کی حوصلہ افزائی کرنے، اور مچھلی کے فضلے کے مؤثر استعمال کے لیے جامع نقطۂ نظر اپنانے پر زور دیا، جس میں آئس لینڈ کے ساتھ مجوزہ سہ فریقی تعاون بھی شامل ہے۔
مزید برآں، انہوں نے نئی ٹیکنالوجیز اور آبی زراعت کے بہترین طریقوں سے متعلق بھیماورم میں سی آئی بی اے کی قیادت میں بیداری کیمپوں کے انعقاد پر زور دیا اور ایم پی ای ڈی اے کو ہدایت دی کہ وہ سرٹیفیکیشن اور ٹریس ایبلٹی کے حوالے سے کسانوں کو آگاہ کرتے ہوئے مارکیٹ اور برآمدی روابط کو مضبوط کرے۔ ویلیو چین کے تمام اسٹیک ہولڈرز سے اپیل کی گئی کہ وہ کلسٹر کی ترقی کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دیں۔
آندھرا پردیش کے خصوصی چیف سکریٹری جناب بی راج شیکھر نے اس بات پر زور دیا کہ ماہی گیر ہندوستان کی نیلی معیشت کا مرکزی ستون ہیں اور پائیدار ترقی اور برآمدی آمدنی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹریس ایبلٹی اور عالمی معیارات کی پابندی اب اختیاری نہیں رہی، بلکہ بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق سختی سے عمل درآمد ضروری ہے۔ ریاست کی طویل ساحلی پٹی اور سمندری صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سمندری گھاس کی کاشت اور مصنوعی چٹانوں میں سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا۔
جوائنٹ سکریٹری (ان لینڈ فشریز) محکمۂ ماہی گیری، حکومتِ ہند، جناب ساگر مہرا نے کہا کہ 34 ماہی گیری کلسٹرز کو پیداوار، پروسیسنگ، مارکیٹ روابط اور برآمدات کو مربوط کرنے کے لیے ترقی کے مراکز کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے آخری درجے کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، آئی او ٹی، بائیو فلوک اور آر اے ایس جیسی جدید ٹیکنالوجیز کو اپنانے، کولڈ چین سہولیات کو بہتر بنانے، اور ایف آئی ڈی ایف، کے سی سی و مارکیٹ روابط کے درمیان خلا کو کم کر کے قرض کے کم استعمال کے مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
آئی سی اے آر کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (فشریز سائنس) ڈاکٹر جے کے جینا نے کہا کہ ہندوستان دنیا کا دوسرا بڑا مچھلی پیدا کرنے والا ملک ہے اور قومی پیداوار میں آندھرا پردیش کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ بھیماورم کلسٹر ایک نمایاں آبی زراعت زون کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جہاں سی آئی بی اے سمیت آئی سی اے آر کے ادارے ٹیکنالوجی کی منتقلی، بیماریوں کی تشخیص اور نگرانی کے پروگراموں کے ذریعے معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے پائیدار ترقی کے لیے مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو ضروری قرار دیا۔
آندھرا پردیش کے کمشنر برائے ماہی گیری، جناب راما شنکر نائک نے ویلیو ایڈڈ سمندری مصنوعات کو فروغ دے کر عالمی معیار اور تعمیل کی ضروریات کو پورا کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے پانی کے معیار کو برقرار رکھنے، بیماریوں کی روک تھام اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے آبی گزرگاہوں اور نکاسیٔ آب کے نظام کی صفائی کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بہتر آبی زراعتی طریقوں، ایف ایف پی اوز کی تشکیل، لیبارٹری سہولیات کی فراہمی اور ایریٹرز پر جی ایس ٹی میں کمی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
نیشنل فشریز ڈیولپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر بیجے کمار بہرا نے بھیماورم کلسٹر کے لیے آئندہ پانچ سالہ منصوبہ پیش کیا اور ویلیو چین کے تمام فریقین کی توقعات بیان کیں۔
مختلف اسٹیک ہولڈرز نے ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے اور مارکیٹ پر مبنی اقدامات کے ذریعے کلسٹر کو مضبوط بنانے سے متعلق تجاویز پیش کیں۔ سی آئی بی اے نے ہیچری، جینیاتی بہتری، مربوط جھینگا و سمندری گھاس کی کاشت، بائیو سیکیورٹی، بیماریوں کی نگرانی اور مچھلی کے فضلے کے استعمال میں پیش رفت پر روشنی ڈالی۔ ایم پی ای ڈی اے نے بھیماورم میں علاقائی دفتر اور دو ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کے قیام، تربیتی پروگراموں اور سرٹیفیکیشن سے متعلق اقدامات سے آگاہ کیا۔ نابارڈ نے ایف ایف پی اوز کی تشکیل اور مالی شمولیت کو بہتر بنانے کے لیے بینکوں کے ساتھ روابط مضبوط کرنے پر زور دیا۔ سی ایم ایف آر آئی نے سمندری انواع کے لیے ہیچری ٹیکنالوجی، سمندری گھاس کی مصنوعات، مصنوعی چٹانوں اور بنیادی ڈھانچے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
میٹنگ کے دوران مچھلی کے کاشتکاروں نے پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی )کے تحت فراہم کردہ امداد کو سراہا، تاہم متعدد چیلنجز کی نشاندہی بھی کی۔ ان میں کمزور مارکیٹ روابط، گھریلو کھپت میں اضافہ، سرکاری اداروں میں مچھلی کی شمولیت، معیاری بیج اور بروڈ اسٹاک کی نگرانی، ادارہ جاتی قرض تک محدود رسائی، اور سائنسی طریقۂ کار کی ضرورت شامل تھی۔ انہوں نے بتایا کہ فیڈ لاگت کا تقریباً 70 فیصد ہے، اس لیے فیڈ کے معیار میں بہتری ضروری ہے، جبکہ آئی او ٹی ٹیکنالوجی کے لیے رعایتی آلات کی بھی ضرورت ہے۔
سمندری غذا کے برآمد کنندگان نے کہا کہ "ٹاؤن آف ایکسپورٹ ایکسی لینس" ہونے کے باوجود آخری درجے کے بنیادی ڈھانچے، خصوصاً کھیتوں سے پروسیسنگ یونٹس تک رابطے میں بہتری درکار ہے۔ انہوں نے بڑھتے ہوئے شپنگ اخراجات اور عالمی منڈی میں مسابقتی قیمتوں کے چیلنجز کی بھی نشاندہی کی۔
جائزہ میٹنگ کے بعد مرکزی سکریٹری نے پی ایم ایم ایس وائی کے تحت مغربی گوداوری کے کالا گاؤں میں شری الوری مہیش راجو کے 40 ایکڑ پر مشتمل جھینگا فارم کا دورہ کیا۔ اس فارم میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے لیٹوپینیوس ونامی کی کاشت کی جا رہی ہے۔ جنوری 2026 میں 50,000 بیج فی ایکڑ کے حساب سے اسٹاک کیے گئے اس فارم میں آئی او ٹی سینسرز، نینو ببل آکسیجنیشن اور پاور مانیٹرنگ سسٹمز استعمال کیے جا رہے ہیں، اور تقریباً 50 ٹن پیداوار متوقع ہے، جس سے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔

ہندوستان کی سمندری غذا کی برآمدات تیزی سے ترقی کر رہی ہیں۔ مالی سال 2024-25 میں یہ برآمدات 62,408 کروڑ روپے تھیں، جو بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں اندازاً 68,000 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہیں۔ اس ترقی کو مزید فروغ دینے اور برآمدات کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے حکومت نے خصوصی اقتصادی زون رولز 2025 کے تحت پائیدار ماہی گیری کے اصول متعارف کرائے ہیں۔ ساتھ ہی، ہندوستانی پرچم بردار جہازوں کے ذریعے گہرے سمندر میں ماہی گیری کے لیے رہنما خطوط بھی جاری کیے گئے ہیں، تاکہ علاقائی پانیوں سے باہر برآمدات کو ممکن بنایا جا سکے اور پائیداری کو یقینی بنایا جائے۔
مزید اقدامات میں خصوصی اقتصادی زون (ای ای زیڈ) اور گہرے سمندروں سے حاصل کی گئی مچھلیوں کو ڈیوٹی فری سہولت دینا، غیر ملکی بندرگاہوں پر لینڈنگ کو برآمدات کے طور پر تسلیم کرنا، اور سمندری غذا کی پروسیسنگ کے لیے ڈیوٹی فری درآمدی حد کو 1 فیصد سے بڑھا کر 3 فیصد کرنا شامل ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ویلیو ایڈیشن، عالمی مسابقت اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کو مضبوط بنانا ہے۔
نمکین پانی کی آبی زراعت کی اہمیت
نمکین پانی کی آبی زراعت ہندوستان کے ماہی گیری کے شعبے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ ملک کی کل مچھلی کی پیداوار کا تقریباً 15 فیصد حصہ فراہم کرتی ہے، جبکہ کیکڑے جیسی اعلیٰ قدر والی اقسام پر توجہ کے باعث برآمدی آمدنی میں اس کا حصہ کہیں زیادہ ہے۔ ساحلی علاقوں میں مرکوز یہ شعبہ پیداوار میں اضافہ، آمدنی میں تنوع اور روزگار کے مواقع فراہم کرتا ہے، جسے جدید ٹیکنالوجی، سائنسی نظم و نسق اور مضبوط مارکیٹ روابط کی حمایت حاصل ہے۔

بھیماورم بریکش واٹر کلسٹر کی نمایاں حیثیت
آندھرا پردیش کے مغربی گوداوری ضلع میں واقع بھیماورم بریکش واٹر کلسٹر ہندوستان کے سب سے بڑے اور ترقی یافتہ نمکین پانی کے آبی زراعتی نظاموں میں سے ایک ہے۔ اسے 11 مارچ 2025 کو پی ایم ایم ایس وائی (PMMSY) کے تحت نوٹیفائی کیا گیا۔ یہ کلسٹر تقریباً 53,861 ہیکٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور اس میں 42,000 سے زائد تالاب شامل ہیں۔
یہاں بنیادی طور پر برآمدی مقاصد کے لیے کیکڑے کی اقسام پینیئس ونےمی اور پینیئس مونوڈون کی پرورش کی جاتی ہے۔ سازگار نمکیات، گرم آب و ہوا اور بہتر بنیادی ڈھانچے کی وجہ سے اس کلسٹر کی فی ہیکٹر پیداوار تقریباً 8 ٹن ہے، جو قومی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ کلسٹر نہ صرف سمندری غذا کی برآمدات میں نمایاں حصہ ڈالتا ہے بلکہ بڑی تعداد میں کاشتکاروں کی روزی روٹی کا ذریعہ بھی ہے۔
پس منظر
آندھرا پردیش ہندوستان کی ماہی گیری اور آبی زراعت کے شعبے میں سرفہرست ریاستوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ ریاست ملک کی کل مچھلی کی پیداوار کا تقریباً 30 فیصد فراہم کرتی ہے اور اس میدان میں قومی سطح پر پہلے نمبر پر ہے۔ یہ شعبہ تقریباً 16.5 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے اور ہندوستان کی سمندری غذا کی برآمدات میں تقریباً 34 فیصد حصہ ڈالتا ہے، جس کی سالانہ مالیت 21,000 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔

ریاست میں تقریباً 7.6 لاکھ ہیکٹر پر محیط آبی زراعت کا مضبوط نظام موجود ہے، جس سے 2.75 لاکھ سے زائد کسان وابستہ ہیں۔ بھیماورم جیسے کلسٹر اس برآمدی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
حکومت کی جانب سے اس شعبے میں مسلسل سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جس میں پی ایم ایم ایس وائی کے تحت 2405 کروڑ روپے، ماہی گیری کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے فنڈ کے تحت 450 کروڑ روپے، اور این ایف ڈی پی کے تحت 2.83 لاکھ رجسٹریشن شامل ہیں۔
مزید برآں، پائیداری اور ماہی گیروں کی فلاح کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کلائمیٹ ریزیلینٹ کوسٹل فشرمین ویلیجز پروگرام کے تحت 15 ساحلی دیہات میں 30 کروڑ روپے کی لاگت سے منصوبے شروع کیے گئے ہیں، جن میں سے 7.5 کروڑ روپے جاری ہو چکے ہیں اور کام کا آغاز ہو چکا ہے۔
سمندری وسائل کے تحفظ کے لیے 50.22 کروڑ روپے کی لاگت سے 162 مصنوعی ریف یونٹس کی منظوری دی گئی ہے، جن میں سے 22 یونٹس نصب کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ، قبائلی علاقوں کے لیے دھرتی آبھا جنجتیہ گرام اتکرش ابھیان کے تحت 4.73 کروڑ روپے کے منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔
ریاست روایتی ماہی گیروں کے لیے قرض، بیمہ اور روزگار کے مواقع بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ سمندری گھاس کی کاشت، کھلے سمندر میں پنجرہ کلچر، ماہی گیری کوآپریٹیوز اور ایف ایف پی اوز کو بھی فروغ دے رہی ہے۔
***
UR-5927
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2252725)
وزیٹر کاؤنٹر : 16