صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
صدر جمہوریہ ہندنے مہاتما گاندھی انتر راشٹریہ ہندی وشوودیالیہ کی کنووکیشن تقریب میں شرکت کی
ہندوستان کی روح کا اظہار ہندوستانی زبانوں کے ذریعے ہوتا ہے: صدر جمہوریہ دروپدی مرمو
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
16 APR 2026 4:06PM by PIB Delhi
صدر جمہوریہ ہند ، محترمہ دروپدی مرمو نے آج (16 اپریل 2026) مہاراشٹر کے وردھا میں مہاتما گاندھی انتر راشٹریہ ہندی وشو ودیالیہ کے چھٹے کنووکیشن تقریب میں شرکت کی ۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان کی روح کا اظہار ہندوستانی زبانوں کے ذریعے ہوتا ہے ۔مختلف بھارتی زبانوں کے ذریعے ثقافت، حساسیت اور شعور کی ایک مشترکہ دھارا بہتی ہے۔ انہیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ملک بھر کی مختلف ریاستوں کے طلباء بشمول شمال مشرقی خطے کے طلباء مہاتما گاندھی انتر راشٹریہ ہندی وشو ودیالیہ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین لسانی مکالمے کی یہ روایت ہندی سمیت تمام ہندوستانی زبانوں کی ترقی میں معاون ثابت ہوگی ۔
صدر جمہوریہ نے طلبا کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے ورثے پر فخر کریں ۔ انہوں نے کہا کہ قومی فخر کے اس جذبے کے ساتھ انہیں دو قومی مقاصد پر خصوصی توجہ دینی چاہیے ۔ یہ مقاصد ہندوستانیت، ہماری قومی شناخت، اور ہمارے ہم وطنوں خصوصاً نوجوانوں کی صلاحیت اور خود اعتمادی سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ یہ نوآبادیاتی ذہنیت کے آثار کو ختم کرنے اور علم کی ہندوستانی روایت کو دوبارہ قائم کرنے کے لئے ہیں ۔ انہوں نے طلباء کو مشورہ دیا کہ وہ کسی بھی زبان کی مخالفت نہ کریں بلکہ ہندوستانی زبانوں پر فخر کریں ۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ اس یونیورسٹی کا نام بابائے قوم مہاتما گاندھی کے نام پر رکھنا بالکل مناسب ہے ۔ اس یونیورسٹی سے وابستہ ہر فرد سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہندی اور دیگر ہندوستانی زبانوں کے فروغ اور ترقی کے لیے اٹل عزم کے ساتھ کام کریں گے ۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ باپو کے نظریات پر عمل کرتے ہوئے مہاتما گاندھی انتر راشٹریہ ہندی وشو ودیالیہ سےوابستہ سبھی افراد یونیورسٹی کی شان میں مسلسل اضافہ کرتے رہیں گے ۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ گاندھی جی تعلیم کو خود کفالت کی بنیاد سمجھتے تھے ۔ انہوں نے زور دیا کہ وہی تعلیم بامعنی ہوتی ہے جو عوام کی اکثریت کی زندگی کی ضروریات سے جڑی ہو۔ انہوں نے کسی بھی ایسی تعلیم کو ‘غیر قومی تعلیم’ قرار دیا جو قومی مفاد میں نہ ہو۔ وہ لوگوں کے جذبات کو سمجھنے ، عوام کی زندگیوں میں دلچسپی لینے اور ان کی طرف سے وکالت کرنے کی صلاحیت کو بامعنی تعلیم کا لازمی حصہ سمجھتے تھے ۔ صدر جمہوریہ نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ تعلیم کے بارے میں گاندھی جی کے خیالات آج بھی اتنے ہی مفید ہیں جتنے تقریبا سو سال پہلے تھے ۔
صدرجمہوریہ نے کہا کہ صرف ہماری اپنی زبان ہی تخلیق، جستجو اور اصل فکر و جدت کی زبان بن سکتی ہے۔ ہمیں محض نقل کرنے کے بجائے اصل تخلیقات پیدا کرنی چاہئیں۔ ہم ایک مضبوط، خود کفیل اور ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے خواہاں ہیں۔اس طرح کے ہندوستان کا حصول ہندوستانی زبانوں کی بنیاد پر ہی ممکن ہے ۔ ‘قومی تعلیمی پالیسی’سمیت مختلف اقدامات کے ذریعے ہمارا ملک صحیح سمت میں آگے بڑھ رہا ہے ۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مہاتما گاندھی انتر راشٹریہ ہندی وشو ودیالیہ کے نوجوان طلباء نہ صرف ذاتی ترقی حاصل کریں گے بلکہ قوم کی تعمیر میں بھی خاطر خواہ تعاون کریں گے ، جس سے عالمی سطح پر ہندوستان کے وقار میں اضافہ ہوگا ۔
صدر جمہوریہ کی تقریر دیکھنے کے لیے براہ کرم یہاں کلک کریں
***
ش ح۔ک ا۔ خ م
U-NO.5917
(ریلیز آئی ڈی: 2252710)
وزیٹر کاؤنٹر : 8