خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مشن واتسلیہ  اسکیم کے تحت قائم کیے گئے چائلڈ کیئر انسٹی ٹیوشنز ، بچوں کو عمر کے مطابق تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت تک رسائی، تفریح، صحت کی دیکھ بھال اور کونسلنگ فراہم کرتے ہیں

گمشدہ اور ملنے والے بچوں کے لیے ٹریک چائلڈ پورٹل، اور گمشدہ یا دیکھے گئے بچوں کے لیے کھویا پایا ایپلیکیشن کو یکجا کر کے متحدہ مشن واتسلیہ  پورٹل کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے

حکومت انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے مختلف اداروں کے درمیان تعاون کو بہتر بنانے اور عوامی آگاہی مہمات کو مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 MAR 2026 12:10PM by PIB Delhi

خواتین اور بچوں کی بہبود کی وزارت تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایک مرکزی امداد یافتہ اسکیم ’’مشن واتسلیہ ‘‘ کو نافذ کر رہی ہے، جس میں مرکز اور ریاستی حکومتوں کے درمیان طے شدہ لاگت کی شراکت کے تحت مشکل حالات میں رہنے والے بچوں، بشمول یتیم بچوں، کو مختلف خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس اسکیم کے تحت ادارہ جاتی اور غیر ادارہ جاتی دونوں طرح کی دیکھ بھال فراہم کی جاتی ہے۔ مشن واتسلیہ  کے تحت قائم چائلڈ کیئر انسٹی ٹیوشنز (سی سی آئیز) بچوں کو عمر کے مطابق تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت تک رسائی، تفریح، صحت کی دیکھ بھال، کونسلنگ وغیرہ فراہم کرتے ہیں۔ غیر ادارہ جاتی دیکھ بھال کے تحت اسپانسرشپ، فوسٹر کیئر، گود لینے اور بعد کی دیکھ بھال کے ذریعے مدد فراہم کی جاتی ہے۔

15ویں مالیاتی  کمیشن کے دوران مرکزی امداد یافتہ اسکیموں کے نظرثانی میں مالیاتی معیار کو مناسب طور پر بڑھایا گیا تاکہ چائلڈ کیئر انسٹی ٹیوشنز میں رہنے والے بچوں کی بنیادی ضروریات، نگہداشت، تحفظ، ترقی، علاج، باز آبادکاری اور سماجی انضمام کو یقینی بنایا جا سکے۔

ٹریک چائلڈ پورٹل مختلف شراکت داروں جیسے وزارت داخلہ، وزارت ریلوے، ریاستی حکومتیں/مرکز کے زیر انتظام علاقے، بچوں کی فلاح و بہبود کی کمیٹیاں، جووینائل جسٹس بورڈز، قانونی خدمات کی قومی اتھارٹی وغیرہ کے تعاون سے نافذ کیا گیا ہے۔ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں، بشمول تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے پولیس کے ڈائریکٹر جنرل اور دیگر متعلقہ فریقوں کو گمشدہ بچوں کی معلومات ٹریک چائلڈ پورٹل پر فراہم کرنے کے حوالے سے ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

مشن واتسلیہ  کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو نچلی سطح پر بچوں کی حفاظت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے آگاہی اور صلاحیت سازی کے پروگرام منعقد کرنے میں مدد فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، وزارت مشن واتسلیہ  اسکیم کے تحت علاقائی کانفرنسز اور آگاہی/تربیتی ورکشاپس بھی منعقد کرتی ہے تاکہ متعلقہ فریقوں میں بیداری پیدا ہو اور عمل درآمد کو مضبوط بنایا جا سکے۔

اس وزارت نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ مشاورت اور ہم آہنگی سے ایک مربوط اور متحدہ مشن واتسلیہ  پورٹل تیار کیا ہے۔ گمشدہ/ملنے والے بچوں کے لیے ٹریک چائلڈ پورٹل اور گمشدہ/دیکھے گئے بچوں کے لیے کھویا پایا ایپلیکیشن کو اس متحدہ پورٹل کے ساتھ ضم کیا گیا ہے۔ ٹریک چائلڈ پورٹل مختلف شراکت داروں جیسے وزارت داخلہ، وزارت ریلوے، ریاستی حکومتیں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں، چائلڈ ویلفیئر کمیٹیاں، جووینائل جسٹس بورڈز، قانونی خدمات کی قومی اتھارٹی وغیرہ کے تعاون سے نافذ کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں معیاری طریقہ کار (ایس او پیز) بھی جاری کیے گئے ہیں۔

تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں، بشمول ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اور دیگر متعلقہ فریقوں کو ٹریک چائلڈ کے مؤثر نفاذ کے حوالے سے ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ مزید برآں، اس پورٹل کو وزارت داخلہ کے جرائم اور مجرموں کا پتہ لگانے کے لیے  نیٹ ورک نظام (سی سی ٹی این ایس) کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے، جس سے گمشدہ بچوں کی ایف آئی آرز کو ٹریک چائلڈ کے ڈیٹا بیس کے ساتھ ملا کر بچوں کو تلاش کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ، کھویا پایا ماڈیول کے ذریعے کوئی بھی شہری کسی بھی گمشدہ یا نظر آنے والے بچے کی اطلاع دے سکتا ہے۔

مزید برآں، اس وزارت نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ گمشدہ بچوں کے لیے ریاستی اور ضلعی سطح پر نامزد نوڈل افسران مقرر کریں۔ ان نوڈل افسران کی تفصیلات مشن واتسلیہ  پورٹل پر اپ لوڈ کر دی گئی ہیں۔

جووینائل جسٹس ایکٹ 2015 (سیکشن 27 تا 30) کے تحت، چائلڈ ویلفیئر کمیٹیاں (سی ڈبلیو سی) کو ان بچوں کے بارے میں فیصلے کرنے کا اختیار دیا گیا ہے جو دیکھ بھال اور تحفظ کے محتاج ہوں، اور یہ فیصلے بچوں کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں۔ انہیں چائلڈ کیئر انسٹی ٹیوشنز (سی سی سی آئیز) کی کارکردگی کی نگرانی کا بھی اختیار حاصل ہے۔ اسی طرح، جووینائل جسٹس بورڈز کو قانون سے متصادم بچوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے فیصلے کرنے کا اختیار دیا گیا ہے (سیکشن 04 تا 09)۔ قومی اور ریاستی سطح پر، یہ ایکٹ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیےقومی اور ریاستی کمشنز کو ایکٹ کے نفاذ کی نگرانی کا اختیار دیتا ہے (سیکشن 109)۔

یہ وزارت باقاعدگی سے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں کے ساتھ رابطہ رکھتی ہے، اور مشن واتسلیہ  اسکیم کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے وقتاً فوقتاً مختلف ہدایات جاری کرتی ہے۔

بھارتیہ نیائے سنہیتا (بی این ایس) کی دفعہ 143 انسانی اسمگلنگ کی وضاحت کرتی ہے، جس میں کسی شخص کو استحصال کے لیے بھرتی کرنا، منتقل کرنا، پناہ دینا یا وصول کرنا شامل ہے، اور اس کے لیے مختلف جبری طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس دفعہ میں سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں، خاص طور پر اگر ایک سے زیادہ افراد یا بچوں کی اسمگلنگ کی جائے۔ مزید برآں، بی این ایس 2023 کی دفعہ 144 اسمگل کیے گئے افراد کے استحصال، بشمول جنسی استحصال، سے متعلق ہے اور اس میں بچوں اور بالغوں (بشمول خواتین) کے استحصال کے لیے مختلف سزائیں اور جرمانے مقرر کیے گئے ہیں۔ دفعہ 95 (بچوں کو جرم کے لیے ملازمت دینا یا استعمال کرنا) اور دفعہ 99 (بچوں کو جسم فروشی کے لیے خریدنا) بھی انسانی اسمگلنگ کے تناظر میں اہم ہیں۔ اس کے علاوہ، بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہیتا (بی این ایس ایس) 2023 کے تحت بھی اسمگلنگ کو قابلِ دست اندازی پولیس اور ناقابلِ ضمانت جرم تسلیم کیا گیا ہے۔

آئینِ ہند کے ساتویں شیڈول کے تحت ’’پولیس‘‘ اور’’امن  و امان‘‘ ریاستی معاملات ہیں، اس لیے انسانی اسمگلنگ جیسے جرائم کی روک تھام اور ان کے خلاف کارروائی کی بنیادی ذمہ داری ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر عائد ہوتی ہے، جو موجودہ قوانین کے تحت ایسے جرائم سے نمٹنے کے مجاز ہیں۔

تاہم، حکومتِ ہند مختلف رہنما اصولوں اور ہدایات کے ذریعے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مدد فراہم کرتی ہے تاکہ انسانی اسمگلنگ کی روک تھام اور اس کے خلاف مؤثر کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ مرکزی حکومت کے کچھ اقدامات درج ذیل ہیں:

  1. حکومت نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مالی مدد فراہم کی ہے تاکہ  انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے یونٹس (اے ایچ ٹی یوز) کو قائم یا اپ گریڈ کیا جا سکے، جو تمام اضلاع کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس وقت 827 اے ایچ ٹی یوز فعال ہیں، جن میں 807 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں، 15 سرحدی حفاظتی فورس (بی ایس ایف) میں اور 5 سشستر سیما بل (ایس ایس بی) میں شامل ہیں۔ ایس ایس بی نے ایک خصوصی ہیلپ لائن نمبر 1903 بھی قائم کیا ہے۔
  2. وزارت داخلہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ’’ریاستی سطح کی کانفرنسز‘‘ اور ’’ججوں ، قانونی ماہرین اور عدالتی افسران کی علمی نشستوں ‘‘ کے انعقاد کے لیے بھی مالی مدد فراہم کرتی ہے، جن کا مقصد پولیس اور قانونی افسران کو انسانی اسمگلنگ سے نمٹنے کے حوالے سے جدید اقدامات اور پیش رفت سے آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ مؤثر انداز میں اس مسئلے سے نمٹ سکیں۔
  • III. وزارت داخلہ نے 12 مارچ 2020 کو ایک قومی سطح کا مواصلاتی پلیٹ فارم ’’کرائم ملٹی ایجنسی سینٹر (سی آر آئی ایم اے سی)‘‘ شروع کیا، جس کا مقصد مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان 24 گھنٹے آن لائن بنیاد پر جرائم اور مجرموں سے متعلق معلومات کا تبادلہ ممکن بنانا ہے۔ یہ پلیٹ فارم انسانی اسمگلنگ سمیت اہم جرائم سے متعلق معلومات کو بر وقت ملک بھر میں پھیلانے اور بین ریاستی ہم آہنگی کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔
  1. حکومت نے قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے)کو بین ریاستی، قومی اور بین الاقوامی نوعیت کے انسانی اسمگلنگ کے معاملات کی تحقیقات کا اختیار دیا ہے۔
  2. نربھیا فنڈ کے تحت 14,653 خواتین ہیلپ ڈیسک (ڈبلیو ایچ ڈی) پولیس اسٹیشنز میں قائم کیے گئے ہیں، جن کا مقصد پولیس اسٹیشنز کو خواتین کے لیے زیادہ دوستانہ اور قابلِ رسائی بنانا ہے۔
  3. تحقیقات کی نگرانی کے لیے ’’جنسی جرائم کی تحقیقات کا پتہ لگانے کا نظام(آئی ٹی ایس ایس او)‘‘ متعارف کرایا گیا ہے، جو ایک آن لائن تجزیاتی ٹول ہے اور 2018 کے فوجداری قانون (ترمیمی) ایکٹ اب بھارتیہ نیائے سنہتا میں شامل کے تحت جنسی جرائم کی تحقیقات کو مانیٹر اور ٹریک کرتا ہے، تاکہ ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کیسز کی پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لے سکیں۔
  4. جنسی جرائم انجام دینے والے افراد کے قومی ڈیٹا بیس  (این ڈی ایس او)‘‘ ایک ایسا ڈیٹابیس ہے جو صرف پولیس کے لیے دستیاب ہے اور 20 ستمبر 2018 کو شروع کیا گیا۔ اس کا مقصد جنسی مجرموں کی شناخت اور نگرانی میں مدد فراہم کرنا ہے، تاکہ تفتیشی افسران عادی مجرموں کا سراغ لگا سکیں اور احتیاطی اقدامات کر سکیں۔
  5. ’’انسانی اسمگلنگ کے مرتکب افراد سے متعلق قومی ڈیٹا بیس‘‘(این ڈی ایچ ٹی او) قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اسمگلروں کے ریکارڈ تک رسائی فراہم کرتا ہے، جس میں ان کی مجرمانہ تاریخ، ذاتی تفصیلات، نقل و حرکت، عدالتی کارروائیاں اور دیگر معلومات شامل ہوتی ہیں، جو اس طرح کے جرائم کی روک تھام، کھوج اور تحقیقات میں مدد دیتی ہیں۔

حکومت ہند بین ادارہ جاتی تعاون کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر فروغ دینے اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے عوامی آگاہی مہمات کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ قومی جانچ  ایجنسی (این آئی اے)، نئے فوجداری قوانین اور ’’غیر اخلاقی ٹریفکنگ (روک تھام) ایکٹ، 1956 (آئی ٹی پی اے)‘‘ کے ساتھاور وزارتِ خواتین و بچوں کی بہبود کے اقدامات مل کر اسمگلنگ کے جرائم سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط نظام تشکیل دیتے ہیں۔

یہ معلومات خواتین اور بچوں کی بہبود کی وزیر مملکت محترمہ ساوتری ٹھاکر نے لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں فراہم کیں۔

**********

ش ح۔م ع۔ ا ک م

U No. 5906

 


(ریلیز آئی ڈی: 2252643) وزیٹر کاؤنٹر : 19
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Bengali