مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
ڈی او ٹی اور ایس ای بی آئی نے ٹیلی کام سے منسلک مالیاتی دھوکہ دہی کے خلاف جنگ کو مضبوط بنانے کے لیے مفاہمت نامے پر دستخط کیے
سیکیورٹیز مارکیٹ میں دھوکہ دہی کی ابتدائی نشاندہی اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے اسٹریٹجک ڈیٹا شیئرنگ کو فعال بنایا جائے گا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
15 APR 2026 5:00PM by PIB Delhi
بھارت کے مالیاتی نظام کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم قدم کے طور پر، محکمۂ ٹیلی کمیونیکیشن (ڈی او ٹی) اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (ایس ای بی آئی) نے آج ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کرتے ہوئے اسٹریٹجک شراکت داری قائم کی، جس کا مقصد سیکیورٹیز مارکیٹ میں فراڈ اور سرمایہ کاری سے متعلق دھوکہ دہی میں ٹیلی کام وسائل کے غلط استعمال کے خلاف تعاون کو بڑھانا ہے۔
اس مفاہمت نامے پر ڈی او ٹی اے آئی و ڈیجیٹل انٹیلی جنس یونٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل، جناب سنجیو کمار شرما اور ایس ای بی آئی کے کل وقتی ممبر، جناب سندیپ پردھان نے دستخط کیے، جبکہ اس موقع پر دیب کمار چکرورتی، ممبر (سروسز)، ڈیجیٹل کمیونیکیشنز کمیشن بھی موجود تھے۔ یہ اقدام ٹیلی کام انٹیلی جنس اور مالیاتی منڈی کے ضابطہ کاری کے درمیان گہرے اشتراک کی جانب ایک اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔
ڈی او ٹی – سیبی شراکت داری کی اہم شقیں
اس معاہدے کا بنیادی مقصد ایک منظم ڈیٹا شیئرنگ نظام قائم کرنا ہے، جس کے ذریعے دھوکہ دہی کی سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی اور ان کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ محکمۂ ٹیلی کمیونیکیشن (ڈی او ٹی) سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) کے ساتھ فنانشل فراڈ رسک انڈیکیٹر (ایف آر آئی) شیئر کرے گا، تاکہ کثیر جہتی تجزیے کے ذریعے مشتبہ سرگرمیوں سے منسلک موبائل نمبرز کی نشاندہی کی جا سکے۔ اسی طرح موبائل نمبر ری ووکیشن لسٹ (ایم این آر ایل) بھی خودکار طور پر فراہم کی جائے گی، جس سے سیبی کے زیرِ نگرانی ادارے، بشمول بروکر اور اثاثہ جاتی انتظامی کمپنیاں، اس بات کو یقینی بنا سکیں گی کہ سرمایہ کاروں کے اکاؤنٹ صرف فعال اور درست موبائل کنیکشن سے منسلک ہوں۔ باہمی تعاون کے تحت سیبی بھی ایسے ٹیلی کام وسائل سے متعلق معلومات فراہم کرے گا جو سائبر فراڈ، جعل سازی یا منی میول سرگرمیوں میں ملوث اکاؤنٹ سے وابستہ ہوں، جس سے ٹیلی کام کے شعبے میں فوری کارروائی ممکن ہو سکے گی۔
یہ معلوماتی تبادلہ ڈی او ٹی کے ڈیجیٹل انٹیلی جنس پلیٹ فارم (ڈی آئی پی) کے ذریعے ممکن بنایا جائے گا، جو اس وقت 1400 سے زائد اسٹیک ہولڈروں کو آپس میں جوڑتا ہے اور اداروں کے درمیان قابل عمل معلومات کی حقیقی وقت میں ترسیل کو یقینی بناتا ہے۔
سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے فعال اور مربوط فریم ورک کی جانب پیش رفت
یہ اشتراک بھارت کے تیزی سے پھیلتے ہوئے ڈیجیٹل سرمایہ کاری کے منظرنامے کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ٹیلی کام انٹیلی جنس کو مارکیٹ نگرانی کے نظام کے ساتھ مربوط کرکے، یہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) ردعمل پر مبنی نفاذ سے آگے بڑھتے ہوئے پیشگی روک تھام کی جانب منتقلی کو ممکن بناتی ہے۔ فنانشل فراڈ رسک انڈیکیٹر، جو محکمۂ ٹیلی کمیونیکیشن کی سنچار ساتھی کے تحت چکشو سہولت، مالیاتی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے حاصل کردہ معلومات پر مبنی ہے، ایک ابتدائی انتباہی نظام کے طور پر کام کرے گا تاکہ ممکنہ طور پر دھوکہ دہی میں استعمال ہونے والے موبائل کنیکشن کی پیشگی نشاندہی کی جا سکے۔
یہ شراکت داری ڈی او ٹی کی جاری کاوشوں سے قائم مضبوط بنیاد پر استوار ہے۔ سنچار ساتھی کے تحت اے ایس ٹی آر کے ذریعے اب تک 88 لاکھ سے زائد جعلی موبائل کنیکشن منقطع کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ، ایف آر آئی کے استعمال سے گزشتہ دس ماہ کے دوران تقریباً 2300 کروڑ روپے کے مالی نقصانات کو روکنے میں مدد ملی ہے۔
آئندہ کے لیے، یہ مفاہمت نامہ مشترکہ کارروائی کے لیے معیاری عملی طریقۂ کار کی تیاری میں معاون ہوگا اور ادارہ جاتی سطح پر مشتبہ سرگرمیوں کے اشاروں (ریڈ فلیگ انڈیکیٹر) کے تبادلے کو ممکن بنائے گا۔ مسلسل رابطے اور بدلتے ہوئے سائبر خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے موافق حکمت عملیوں کے ساتھ، ڈی او ٹی-سیبی اشتراک سرمایہ کاروں کے تحفظ کو نمایاں طور پر مضبوط بنانے اور بھارت کے ڈیجیٹل و مالیاتی نظام پر اعتماد کو بڑھانے کے لیے اہم کردار ادا کرے گا۔
**********
ش ح۔ ف ش ع
U: 5875
(ریلیز آئی ڈی: 2252354)
وزیٹر کاؤنٹر : 10