صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

صدر جمہوریہ ہند کی راشٹریہ رکشا یونیورسٹی کے جلسۂ تقسیمِ اسناد میں شرکت


بدلتے ہوئے سلامتی منظرنامے میں راشٹریہ رکشا یونیورسٹی جیسے اداروں کی اہمیت اور ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہیں: دروپدی مرمو

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 14 APR 2026 7:40PM by PIB Delhi

صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو نے آج (14 اپریل 2026) گاندھی نگر، گجرات میں راشٹریہ رکشا یونیورسٹی کے جلسۂ تقسیمِ اسناد میں شرکت کرکے خطاب کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/Presidentpic1140420261ZIB.JPG

اپنے خطاب میں صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ آنے والے وقتوں میں سکیورٹی کا منظرنامہ مزید پیچیدہ ہوتا جائے گا۔ چند ہی برس پہلے تک ہم ڈیجیٹل گرفتاری، سائبر جرائم اور فشنگ حملوں جیسی اصطلاحات سے واقف نہیں تھے، مگر آج یہ ہمارے سامنے بڑے خطرات کی صورت میں موجود ہیں۔ ایسے حالات میں راشٹریہ رکشا یونیورسٹی جیسے اداروں کی اہمیت اور ذمہ داریاں بہت بڑھ جاتی ہیں۔ ملک کو ایسے پولیس افسران کی ضرورت ہے جو تکنیکی طور پر ماہر ہوں اور سائبر فراڈ کے مجرموں کو گرفتار کرنے اور ان کے خلاف سزا کو یقینی بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں، ایسے فارنسک ماہرین درکار ہیں جو عدالتوں کی کڑی جانچ پر پورا اترنے والے شواہد فراہم کر سکیں اور ساتھ ہی ایسے قابل پیشہ ور افراد کی بھی ضرورت ہے جو جغرافیائی سیاست کی باریکیوں کو سمجھتے ہوں اور عالمی سطح پر بھارت کے نقطۂ نظر کو اعتماد اور وضاحت کے ساتھ پیش کر سکیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/Presidentpic214042026TVYZ.JPG

صدرِ جمہوریہ نے اس بات پر زور دیا کہ تزویراتی مطالعات اب صرف جنگ و امن کے اصولوں تک محدود نہیں رہے بلکہ اب ان میں دفاعی پیداوار، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، سپلائی چینز اور خود کفیل صنعتی صلاحیتیں بھی شامل ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفاع اور سلامتی سے متعلق صنعتوں کے ساتھ مؤثر رابطہ قائم کرنا ان اہداف کے حصول کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/Presidentpic3140420262RHB.JPG

صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی جیسے شعبے دنیا کی سمت اور رفتار متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے حکومت سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔’انڈیا اے آئی مشن‘ اور ’اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026‘ جیسے اقدامات کے ذریعے بھارت عالمی سطح پر اے آئی گورننس میں ایک اہم آواز کے طور پر ابھرا ہے۔ اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں ’نئی دہلی اعلامیہ‘ کو حاصل ہونے والی وسیع بین الاقوامی حمایت نہ صرف ایک تکنیکی کامیابی ہے بلکہ یہ بھارت کی قیادت کی صلاحیتوں کا بھی واضح ثبوت ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/Presidentpic414042026GXAA.JPG

صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ سائبر سکیورٹی داخلی سلامتی، مالی استحکام اور ڈیجیٹل اعتماد کا ایک لازمی جز ہے۔ بھارت نے مضبوط ادارہ جاتی نظام وضع کیے ہیں، جیسے انڈین سائبر کرائم کوآرڈی نیشن سینٹر اور نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل، جو شہریوں کے لیے مفید ثابت ہو رہے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/Presidentpic5140420268UDK.JPG

صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ قومی طاقت کا انحصار صرف فوجی جوانوں اور سکیورٹی فورسز کی بہادری اور شجاعت پر نہیں ہوتا، بلکہ سلامتی کے لیے ضروری اسلحہ و سازوسامان کے معیار، پیداوار، تربیت اور تکنیکی خود کفالت پر بھی ہوتا ہے اور حکومت اس سمت میں مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ مقامی صلاحیتوں کو فروغ دے کر اور خود انحصاری کو بڑھاوا دے کر دفاعی شعبے میں درآمدات پر انحصار کم کیا جا رہا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/Presidentpic614042026RKSB.JPG

صدرِ جمہوریہ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ راشٹریہ رکشا یونیورسٹی سلامتی کی تعلیم کے ایک ممتاز عالمی مرکز بننے کی سمت میں مسلسل پیش رفت جاری رکھے گی اور اس کے فارغ التحصیل طلبہ ایک محفوظ، منصفانہ اور خود کفیل بھارت کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ہی اقدامات کے ذریعے بھارت ایک محفوظ، بااختیار اور ترقی یافتہ قوم کے طور پر ابھرے گا۔

صدر جمہوریہ کی تقریر دیکھنے کے لیے براہِ کرم یہاں کلک کریں۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-5824


(ریلیز آئی ڈی: 2251962) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati