PIB Headquarters
مشن پوشن 2.0 ہندوستان کے تغذیے کے ایکو سسٹم کا استحکام
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
14 APR 2026 11:22AM by PIB Delhi
|
کلیدی نکات
|
- پوشن ابھیان ہندوستان کا انتہائی اہم نیشنل نیوٹریشن مشن ہے، جو ہم آہنگی، ٹیکنالوجی اور کمیونٹی کو متحرک کرنے کے ذریعےتغذیے کے نتائج کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔
- پوشن ٹریکر ایپلیکیشن جیسے ڈیجیٹل ٹولز کا استعمال اب اس مشن کے تحت 14 لاکھ سے زائد آنگن واڑی مراکز اور تقریباً 9 کروڑ استفادہ کنندگان کی قریب قریب ریئل ٹائم نگرانی کو ممکن بناتا ہے۔
- اپنے جن آندولن نقطۂ نظر کے ذریعے، پوشن ابھیان نے ملک بھر میں کمیونٹیز کو متحرک کیا ہے، جس میں پوشن ماہ اور پوشن پکھواڑہ جیسے اقدامات کے ذریعے 150 کروڑ سے زائد سرگرمیاں انجام دی گئی ہیں۔
|
تغذیے کی یقینی فراہمی کے لیے ہندوستانی کا مشن
پوشن ابھیان (وزیر اعظم کی جامع نشوونما کے لیے اوور آرچنگ اسکیم)کا آغاز 8 مارچ 2018 کو کیا گیا جوایک اہم، کثیر وزارتی مشن ہے جس کا مقصدتغذیہ کو ہندوستان کے قومی ترقیاتی ایجنڈے کے مرکز میں رکھنا ہے۔ یہ مشن ہندوستان کے نقطۂ نظر میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے، جس میں تغذیہ کو بنیادی طور پر فلاح و بہبود کے معاملے کے طور پر دیکھنے کے بجائے اسے انسانی سرمائے کی ترقی، پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جی) اور طویل مدتی ترقی سے منسلک ایک قومی ترجیح کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران، پوشن ابھیان نے ہندوستان کے تغذیہ کے گورننس کے ڈھانچے کو تبدیل کر دیا ہے اور ہم آہنگی)، ڈیجیٹل نگرانی اور کمیونٹی کو متحرک کرنے کے عمل کو اس فریم ورک میں شامل کیا ہے۔
خواتین اور بچوں کی بہبود کی وزارت کے زیرِ نگرانی، پوشن ابھیان 26 سے زائد وزارتوں اور محکموں کو تغذیہ کے ایک متحد فریم ورک کے تحت اکٹھا کرتا ہے، اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ غذائی قلت کا مسئلہ صرف صحت یا خوراک کے شعبے سے حل نہیں کیا جا سکتا—اس کے لیے صفائی، تعلیم، پانی، خواتین کو بااختیار بنانے اور آمدنی کے شعبوں میں بیک وقت اقدامات کی ضرورت ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ پوشن ابھیان کو لائف سائیکل اور احتیاطی اقدام کے طور پرڈیزائن کیا گیا ہے—نہ کہ صرف شدید غذائی قلت کے واقع ہونے کے بعد اس کا علاج کے لیے۔ یہ مشن پہلے 1,000 دنوں پر خاص زور دیتا ہے—حمل سے لے کر دو سال کی عمر تک—کیونکہ یہ دور جسمانی نشوونما، دماغی ارتقاء اور صحت کے طویل مدتی نتائج کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے۔
پالیسی ارتقاء: پوشن ابھیان سے مشن پوشن 2.0 تک
کئی دہائیوں تک، ہندوستان میں تغذیے سے متعلق اقدامات مختلف وزارتوں کے تحت، مختلف گروہوں کو ہدف بنا کر، متعدد اسکیموں کے ذریعے نافذ کی گئیں۔ اگرچہ ان اسکیموں نے تغذیے کے مختلف پہلوؤں کو حل کیا، لیکن مجموعی نقطۂ نظر زیادہ تر شعبے تک محدود رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ، ہم آہنگی اور مربوط نفاذ کی ضرورت کو محسوس کیا گیا۔
بچوں کی نشو ونما سے متعلق مربوط خدمات (آئی سی ڈی ایس)، جسے 1975 میں شروع کیا گیا تھا، نے آنگن واڑی مراکز کے ذریعے ضمنی تغذیے، صحت کی خدمات اور ابتدائی بچپن کی دیکھ بھال کے لیے ایک بنیادی پلیٹ فارم فراہم کیا۔
اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ ماں کی صحت اس کے بچے کی صحت اور غذائیت کو یقینی بنانے میں ایک اہم عنصر ہے، 2017 میں پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا (پی ایم ایم وی وائی) کو نافذ کیا گیا۔ اس اسکیم نے براہ راست نقد منتقلی کے ذریعے زچگی کے فوائد متعارف کرائے اور اس طرح حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے مالی معاونت فراہم کی۔ اسی سال، نیتی آیوگ کی نیشنل نیوٹریشن اسٹریٹجی (2017) نے ہم آہنگی، بہتر نگرانی اور کمیونٹی کی شرکت پر زور دیا اور ایک مشن موڈ اپروچ کی سفارش کی۔
اس بنیاد پر، 2018 میں پوشن ابھیان کو ہندوستان کے قومی تغذیہ مشن کے طور پر شروع کیا گیا تاکہ متعدد وزارتوں اور اسکیموں کو ایک متحد فریم ورک کے تحت لایا جا سکے، جس میں مقررہ وقت کے اہداف، ڈیجیٹل نگرانی اور جن آندولن کا نقطۂ نظر شامل ہو۔
یونین بجٹ 2021-22 نے ہندوستان کے تغذیے کے مختلف اقدامات کو مزید مستحکم کرتے ہوئے مشن پوشن 2.0(مشن سکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0) کے تحت یکجا کیا، جس سے ایک متحد اور مربوط فریم ورک تشکیل پایا۔ اس تنظیم نو میں درج ذیل اسکیمیں ضم کر دی گئیں:
- آنگن واڑی خدمات
- نوعمر لڑکیوں کے لیے اسکیم
- پوشن ابھیان
اس انضمام نے زچہ کے تغذیہ، شیر خوار اور چھوٹے بچوں کی خوراک (آئی وائی سی ایف) کے معیارات، اور شدید غذائی قلت (ایس اے ایم) / درمیانی شدید غذائی قلت (ایم اے ایم) کے علاج پر توجہ کو مزید تیز کر دیا۔ اس نے ضائع ہونے، بونے پن، خون کی کمی اور وزن کم ہونے کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے آیوش پر مبنی طریقوں کے ذریعے تندرستی پر بھی زور دیا۔
یہ مشن تنظیم نو کے بعد درج ذیل بنیادی عمودی شعبوں کے ذریعے کام کرتا ہے:
- بچوں، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں اور نوعمر لڑکیوں کے لیے تغذیہ
- ابتدائی بچپن کی دیکھ بھال اور تعلیم (3 سے 6 سال) اور ابتدائی محرک (0 سے 3 سال کے بچوں کے لیے)
- آنگن واڑی کا بنیادی ڈھانچہ، بشمول مراکز کوسکشم آنگن واڑی میں اپ گریڈ کرنا
(i) نیوٹریشن سپورٹ
ضمنی تغذیے خوراک کی یقینی فراہمی کے قومی ایکٹ ، 2013 کے شیڈول-II میں شامل تغذیے کے معیارات کے مطابق بچوں (6 ماہ سے 6 سال)، حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور نوعمر لڑکیوں کو فراہم کی جاتی ہے۔ ان معیارات پر جنوری 2023 میں نظر ثانی کی گئی ہے۔ پرانے معیارات زیادہ تر کیلوریز پر مرکوز تھے؛ تاہم، نظر ثانی شدہ معیارات غذائی تنوع کے اصولوں کی بنیاد پر ضمنی تغذیے کی مقدار اور معیار دونوں کے لحاظ سے زیادہ جامع اور متوازن ہیں، جو معیاری پروٹین، صحت بخش چکنائی اور مائیکرو نیوٹرینٹس (کیلشیم، زنک، آئرن، ڈائٹری فولیٹ، وٹامن بی6 اور وٹامن بی12) کی فراہمی کو یقینی بناتے ہیں۔ خوراک کی یقینی فراہمی کے قومی ایکٹ (این ایف ایس اے)، 2013 کے مطابق تغذیے کی شدیدقلت (ایس اے ایم) کا شکار بچوں کو اضافی ضمنی تغذیہ فراہم کیا جاتا ہے۔
آنگن واڑی مراکز، سرکاری اسکولوں اور گرام پنچایت کی زمینوں پر پوشن وٹیکاس یا نیوٹری گارڈنز قائم کیے جا رہے ہیں۔ یہ اقدام غذائی تنوع اور مقامی سطح پر دستیاب تغذیہ سے بھرپور خوراک کے استعمال کو فروغ دیتا ہے۔ یہ باغات پھلوں، سبزیوں اور جڑی بوٹیوں تک آسان اور سستی رسائی فراہم کرتے ہیں۔
خواتین اور بچوں کی بہبود کی وزارت اور صحت و خاندانی بہبود کی وزارت نے مشترکہ طور پر بچوں میں تغذیہ کی قلت کے انتظام کے لیے ایک پروٹوکول جاری کیا ہے تاکہ کمیونٹی کی سطح پر تغذیہ کی قلت کے شکار بچوں کا انتظام کیا جا سکے اور اس سے وابستہ بیماریوں اور اموات کی شرح کو کم کیا جا سکے۔
اس پروٹوکول کے تحت، آنگن واڑی ورکرز آنگن واڑی مراکز اور کمیونٹی آؤٹ ریچ سرگرمیوں کے دوران بچوں کی نشوونما کی نگرانی اور اسکریننگ کرتی ہیں۔ تغذیہ کی شدید قلت کے شکار پائے جانے والے بچوں کو طبی تشخیص اور علاج کے لیے صحت کے مراکز اور نیوٹریشن ری ہیبلی ٹیشن سینٹرز (این آر سی) میں بھیجا جاتا ہے۔ جن بچوں میں طبی پیچیدگیاں نہیں ہوتیں، ان کا انتظام گھر پر ہی کیا جاتا ہے، جس میں مقامی طور پر دستیاب صحت بخش خوراک کے ساتھ ساتھ معاون طبی نگہداشت بھی شامل ہوتی ہے۔
اس پروٹوکول میں 6 ماہ سے 6 سال تک کی عمر کے ان بچوں کے لیے اسکریننگ کا عمل شامل ہے جن کی شناخت تغذیہ کی شدید قلت (ایس اے ایم) یا شدید کم وزنی(ایس یو ڈبلیو) کے شکار بچوں کے طور پر کی جاتی ہے۔ اسکریننگ کے بعد، طبی پیچیدگیوں والے بچوں کو مزید علاج اور دیکھ بھال کے لیے نیوٹریشن ری ہیبلی ٹیشن سینٹرز(این آر سی) یا ہسپتال کی سہولیات میں بھیجا جاتا ہے۔
(ii) ابتدائی بچپن کی دیکھ بھال اور تعلیم (ای سی سی ای) کاانضمام
وزارت برائے خواتین و اطفال کی طرف سے مرتب کردہ نیشنل ای سی سی ای پالیسی 2013، "ملک بھر میں چھ سال سے کم عمر کے ہر بچے کے لیے ابتدائی بچپن کی دیکھ بھال اور تعلیم (ای سی سی ای) کو یقینی بنانے کی ضرورت" پر زور دیتی ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی 2020)ایک نیا اور پرعزم 5+3+3+4 کا فریم ورک پیش کرتی ہے، جس کا آغاز 5 سالہ بنیادی مرحلے (3 سال پری اسکول/آنگن واڑی + پہلی اور دوسری جماعت) سے ہوتا ہے، اس طرح 3 سے 6 سال کی عمر کے بچوں کے لیے ای سی سی ای کو 5 سالہ بنیادی مرحلے میں ضم کر دیا گیا ہے۔ یہ علمی، سماجی، جسمانی اور سماجی و جذباتی نشوونما کو فروغ دینے کے لیے کھیل پر مبنی، انٹرایکٹو لرننگ پر زور دیتا ہے۔
اس پالیسی کا مقصد اس بات کو یقینی بناناہے کہ ہر بچہ ضروری اسکول جانے کی تیاری کی مہارتوں کے ساتھ پرائمری اسکول میں داخل ہو۔ این ای پی کو نیشنل کریکولم فریم ورک فار فاؤنڈیشنل اسٹیج کے ذریعے عملی جامہ پہنایا گیا ہے، جو 3 سے 8 سال تک کے بچوں کے لیے اہداف، نصابی مقاصد، اہلیتوں اور سیکھنے کے نتائج، طریقۂ تدریس، تشخیص وغیرہ کا خاکہ پیش کرتا ہے۔
وزارت برائے خواتین و اطفال (ایم ڈبلیو سی ڈی) نے پوشن بھی پڑھائی بھی (پی بی پی بی) اقدام کا آغاز کیا، جس کا مقصد آنگن واڑی مراکز (اے ڈبلیو سی) کو اعلیٰ معیار کے بنیادی ڈھانچے، کھیل کے سازوسامان اور اچھی طرح سے تربیت یافتہ آنگن واڑی ورکرز (اے ڈبلیو ڈبلیو) سے لیس کر کے آنگن واڑی نظام کے ذریعے ابتدائی بچپن کی دیکھ بھال اور تعلیم (سی سی ای) کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔ یہ نیشنل ای سی سی ای پالیسی 2013 اور قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت ابتدائی بچپن کی دیکھ بھال اور تعلیم (ای سی سی ای) کے لیے دی گئی سفارشات کے مطابق ہے۔
آنگن واڑی ورکرز کی صلاحیت سازی کوای سی سی ای کے معیار کو بہتر بنانے کی جانب پہلا قدم قرار دیا گیا ہے۔ پی بی پی بی اقدام کے تحت، 2 سطحی تربیتی ماڈیول اپنایا گیا ہے جس میں چائلڈ ڈویلپمنٹ پروجیکٹ آفیسرز (سی ڈی پی او)، سپروائزرز اور ایڈیشنل ریسورس پرسنز وغیرہ کو ساوتری بائی پھولے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ویمن اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ (ایس پی این آئی ڈبلیو سی ڈی) کے تعاون سے اسٹیٹ لیول ماسٹر ٹرینرز (ایس ایل ایم ٹی ایس) کے طور پر تربیت دی جاتی ہے اور پھر یہ ایس ایل ایم ٹی آنگن واڑی ورکرز کو تربیت فراہم کرتے ہیں۔
31 مارچ 2026 تک، 41,645 ایس ایل ایم ٹی اور 10,58,317 آنگن واڑی ورکرز کو پہلے راؤنڈ میں ای سی سی ای کے طریقۂ تدریس اور غذائی خدمات کی فراہمی میں تربیت دی جا چکی ہے۔ تربیت کا دوسرا راؤنڈ نومبر 2025 میں شروع کیا گیا تھا تاکہ آنگن واڑی ورکرز کی ای سی سی ای اور تغذیہ، پوشن میں جدت، پوشن ٹریکر کی نئی خصوصیات، کھلانے کے طریقوں اور مائیکرو نیوٹرینٹ کی کمی وغیرہ کے بارے میں سمجھ کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
ای سی سی ای کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے، وزارت برائے خواتین و اطفال نے مارچ 2024 میں نوچیتنا 3 سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے ابتدائی بچپن کی محرک کا قومی فریم ورک اور آدھارشیلا 3 سے 6 سال کی عمر کے بچوں کے لیے ای سی سی ای کا قومی نصاب جاری کیا۔ دونوں فریم ورک 12 ہندوستانی زبانوں میں دستیاب ہیں، یعنی آسامی، بنگالی، انگریزی، گجراتی، ہندی، کنڑ، ملیالم، مراٹھی، اڑیہ، پنجابی، تمل اور تیلگو۔
نوچیتناکا مقصد پیدائش سے تین سال تک کے بچوں کی ہمہ جہت نشوونما میں مدد کرنا ہے، جو درج ذیل تین اصولوں پر مبنی ہے:
- سرو اینڈ ریٹرن
- دیکھ بھال کرنے والوں کے تین کام: محبت کرنا، باتیں کرنا اور کھیلنا اور
- مثبت رہنمائی
نوچیتنا 36 ماہ کے محرک سرگرمیوں کے کیلنڈر کی شکل میں 140 عمر اور نشوونما کے لحاظ سے موزوں سرگرمیاں فراہم کرتا ہے، جنہیں بچوں کی ہمہ جہت نشوونما کے لیے گھر پر دیکھ بھال کرنے والے اور ہوم وزٹ کے دوران آنگن واڑی ورکرز انجام دیتے ہیں۔ معذور بچوں کی اسکریننگ، شمولیت اور ریفرل پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
آدھارشیلاتین سے چھ سال کے بچوں کے لیے ایک سیاق و سباق پر مبنی نصاب کی اشد ضرورت سے چلتی ہے، جو خاص طور پر آنگن واڑی ورکرز کو ہندوستانی اور بین الاقوامی ای سی سی ای تحقیق پر مبنی ایک گائیڈ فراہم کرتی ہے۔
این ای پی 2020کے تحت درکار ضرورت کی بنیاد پر، اس کا مقصد آنگن واڑی مراکز میں فراہم کی جانے والی ابتدائی بچپن کی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔ این سی ایف-ایف ایس نشوونما کے 5+1 شعبوں (جسمانی، سماجی و جذباتی، علمی بشمول اعداد و شمار، ثقافتی/جمالیاتی، زبان اور خواندگی، نیز مثبت سیکھنے کی عادات) کی وضاحت کرتا ہے، جسے آدھارشیلا آنگن واڑی کے بچوں کے لیے 130 سے زائد سرگرمیوں میں بدلتی ہے۔ یہ سرگرمیاں 4 ہفتے کی شروعات، 36 ہفتے کی فعال سیکھنے اور 8 ہفتے کی اعادہ اور تقویت پر مشتمل ہیں۔
ہر ہفتہ 6 دن کی سرگرمیوں کا احاطہ کرتا ہے، جبکہ ہفتہ کا دن فری پلے ای سی سی ای ڈے اور والدین کی شمولیت کے لیے مختص ہے۔ ہر دن سرگرمیوں کے 3 بلاکس پر مشتمل ہوتا ہے، جو ظہرانے اور ناشتے سمیت 4 گھنٹے تک محیط ہوتے ہیں۔
آدھارشیلا اس بات پر توجہ دیتی ہے کہ بچے ابتدائی سالوں میں کیسے سیکھتے ہیں، جس میں پرائمری اسکول کی تیاری کے لیے کھیل پر مبنی خوشگوار سیکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ یہ کلاس روم کی تفریحی سرگرمیوں کے استعمال کو ممکن بناتی ہے جیسے کہ بات چیت، کہانی سنانا، ڈی آئی وائی اور مقامی کھلونے، بچوں کے گیت اور نظمیں، موسیقی اور حرکت، فنون و دستکاری، اندرونی اور بیرونی کھیل، فطرت سے تعامل اور تفریحی دورے۔ یہ سرگرمیوں کا مجموعہ فراہم کرتی ہے، بشمول مرکز میں اور گھر پر، اندرونِ خانہ اور بیرونِ خانہ، بچوں کی قیادت میں اور استاد کی قیادت میں وغیرہ۔
پوشن ٹریکر، جو کہ ایک آئی ٹی پر مبنی پلیٹ فارم ہے، کو آنگن واڑی مراکز میں ای سی سی ای کی فراہمی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ آدھارشیلا کی بنیاد پر، روزانہ سیکھنے کی ہدایات آنگن واڑی ورکرز کو پوشن ٹریکر کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں، جن میں 249 سے زائد ویڈیوز، 190 وائس نوٹس اور 3 سے 6 سال کے بچوں کے لیے 159 منفرد ای سی سی ای ایکٹیویٹی پی ڈی ایف شامل ہیں۔ نوچیتنا کی بنیاد پر، 0 سے 3 سال کے بچوں کے لیے ابتدائی بچپن کی محرک کی 140 سرگرمیوں پر مشتمل 14 ویڈیوز تیار کی گئی ہیں، تاکہ آنگن واڑی ورکرز کے منظم ہوم وزٹ اور دیکھ بھال کرنے والوں کی شمولیت میں مدد مل سکے۔
مزید برآں، تمام ریاستوں کے تمام آنگن واڑی مراکز کی جانب سے ہر ماہ ایک مخصوص ای سی سی ای ڈےمنایا جاتا ہے۔ مختلف موضوعات کے تحت ماہانہ ای سی سی ای ڈے منانے کے لیے رہنما خطوط جاری کیے گئے ہیں، جن میں کمیونٹی کی شمولیت کی سرگرمیوں کی ایک اشاری فہرست شامل ہے جو 12 ماہانہ ای سی سی ای دنوں کے دوران منعقد کی جا سکتی ہیں۔ ہر ماہ ایک تقریب کا انعقاد لازمی ہے، جبکہ موضوعات کے انتخاب میں ریاستوں کو لچیلا پن حاصل ہے۔
وزارت برائے خواتین و اطفال پری اسکول ایجوکیشن کٹس کے لیے ہر آنگن واڑی مرکز کو سالانہ 3000 روپے مختص کرتی ہے۔ اس رقم کا مقصد ہر آنگن واڑی مرکز میں تدریسی و تعلیمی مواد کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، جس میں ریاستوں کے اپنے اخراجات بھی شامل کیے جاتے ہیں۔
بچوں کی پرائمری اسکول/پہلی جماعت کے رسمی تعلیمی نظام میں ہموار منتقلی کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ آنگن واڑی مراکز میں حاصل کی گئی ابتدائی بچپن کی دیکھ بھال اور تعلیم کو تسلیم کرنے کے لیے، اگست 2025 میں ودیارمبھ- ای سی سی ای سرٹیفکیٹ کا تصور متعارف کرایا گیا ہے۔ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ سرٹیفکیٹ آنگن واڑی مراکز میں پری اسکول کی تعلیم حاصل کرنے والے تمام اہل بچوں کو جاری کیا جائے۔ مارچ 2026 تک، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے بچوں کو 22 لاکھ سے زائد ودیارمبھ سرٹیفکیٹ جاری کیے جا چکے ہیں۔
خواتین او ربچوں کی بہبود کی وزارت اور وزارت تعلیم کے اسکولی تعلیم اور خواندگی کے محکمہ نے 3 ستمبر 2025 کو سرکاری پرائمری اسکولوں کے احاطے میں آنگن واڑی مراکز کو یکجا کرنے کے لیے مشترکہ رہنما خطوط جاری کیے ہیں۔ جن مقامات پر جسمانی طور پر یکجا کرنا ممکن نہیں ہے، وہاں آنگن واڑی مراکز کو قریب ترین اسکول کے ساتھ منسلک کیا جانا چاہیے۔ ابتدائی بچپن کی دیکھ بھال سے رسمی اسکولنگ تک تعلیمی منتقلی کو بغیر کسی رکاوٹ کے یقینی بنانے کے لیے 2.9 لاکھ سے زائد مراکز پہلے ہی اسکول کے احاطے میں ضم ہو چکے ہیں۔
مزید برآں، آنگن واڑی ورکرز (اے ڈبلیو ڈبلیو) والدین/دیکھ بھال کرنے والوں کو غذائیت، ماں اور بچے کی صحت اور بچے کی ہمہ جہت نشوونما کو یقینی بنانے کے لیے ابتدائی بچپن کی محرک سرگرمیوں کے بارے میں تعلیم دینے کے لیے گھر گھر جا کر دورے کرتی ہیں۔ ہوم وزٹ کے دوران، آنگن واڑی ورکرز یہ بھی مشاہدہ کرتی ہیں کہ آیا بچہ اپنے نشوونما کے سنگ میل حاصل کر رہا ہے یا نہیں، تاکہ نشوونما میں کسی بھی قسم کی تاخیر کی جلد تشخیص کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس سلسلے میں، اپریل 2026 میں پوشن ٹریکرایپ کے ساتھ ایک آئی ٹی فعال ہوم وزٹ شیڈیولر کو مربوط کیا گیا ہے۔ نئے ہوم وزٹ شیڈیولر کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:
- یہ 23 منظم ہوم وزٹس کی معاونت کرتا ہے، جس کا دائرہ کار حاملہ خواتین اور تین سال تک کے بچوں تک وسیع ہے (حمل کے دوران 4، پیدائش کے بعد پہلے مہینے میں 4، 2 ماہ سے 1 سال تک 7، 1 سے 2 سال کی عمر تک 5، اور 2 سے 3 سال کی عمر تک 3 دورے)
- حاملہ خواتین اور پیدائش سے لے کر 3 سال تک کے بچوں کے لیے ہوم وزٹس کی خودکار شیڈیولنگ
- حاملہ خواتین کے لیے تغذیے اور صحت کے مشوروں اور والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں کو دکھانے کے لیے بچے کی عمر کے لحاظ سے موزوں ابتدائی بچپن کی محرک سرگرمیوں کی ویڈیوز کا خودکار انتخاب۔
- حمل، تغذیہ، مشاہدہ کیے جانے والے صحت کے اشاریوں اور ابتدائی بچپن کی محرک سرگرمیوں کے بارے میں حاملہ خواتین، والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں کو دیے جانے والے مشاورتی نکات / مشوروں کا خودکار انتخاب۔
(iii) سکشم اپ گریڈیشن
سکشم آنگن واڑی اقدام کا تعلق موجودہ آنگن واڑی مراکز کو اپ گریڈ کر کے خدمات کے معیار کو بہتر بنانے سے ہے۔ اس کے تحت، 2 لاکھ آنگن واڑی مراکز کو جدید سہولیات جیسے کہ ایل ای ڈی اسکرین، واٹر پیوریفائر، اسمارٹ لرننگ ایڈز اور پوشن واٹیکاس کے ساتھ مستحکم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
ٹیکنالوجی اور گورننس کی کایا پلٹ
ہندوستان کی پبلک ایڈمنسٹریشن میں پوشن ابھیان کا ایک بنیادی تعاون نیوٹریشن گورننس کی ڈیجیٹل تبدیلی رہی ہے - اس پروگرام کو ملک میں سب سے زیادہ تکنیکی طور پر ترقی یافتہ سماجی شعبے کے اقدامات میں شامل کرنا۔
پوشن ٹریکر: نیوٹریشن گورننس کے لیے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم
یکم مارچ 2021 کو شروع کیا گیا، پوشن ٹریکر بنیادی ڈھانچے اور خدمات کی فراہمی کی نگرانی کے لیے بنیادی گورننس ٹول کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس ایپلی کیشن نے آنگن واڑی خدمات کے لیے ریئل ٹائم ڈیٹا اکٹھا کرنے کی سہولت فراہم کی ہے، بشمول آنگن واڑی مراکز کا افتتاح، بچوں کی روزانہ حاضری، ای سی سی ای کی سرگرمیاں، اور ترقی کی نگرانی۔
فی الحال، یہ نظام ایک کائنات کی نگرانی کرتا ہے جس میں حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی مائیں، 6 سال تک کی عمر کے بچے، اور نوعمر لڑکیاں شامل ہیں۔ مارچ 2026 تک، مشن نے تقریباً 14,03,170 آنگن واڑی مراکز اور تقریباً 8,95,29,425 اہل مستفیدین کا پتہ لگایا۔
پبلک ایڈمنسٹریشن میں اس کی اختراعی شراکت کے لیے، خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت نے 2024 میں پبلک ایڈمنسٹریشن میں ایکسیلنس کے لیے وزیر اعظم کا ایوارڈ حاصل کیا۔
اعلیٰ درجے کی شناخت کی تصدیق اور شفافیت
وزارت نے پوشن ٹریکر ڈیجیٹل ایپلیکیشن شروع کی ہے، جس نے وزارت اور ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو بچوں کی صحت اورتغذیے کی حیثیت سمیت مختلف پیرامیٹرز پر اسکیم کے نفاذ کا جائزہ لینے اور کورس میں اصلاحات کرنے کے قابل بنایا ہے۔
سروس ڈیلیوری کے آخری میل ٹریکنگ کے لیے، پوشن ٹریکر ایپلی کیشن میں چہرے کی شناخت کا نظام (ایف آر ایس) متعارف کرایا گیا ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ فائدہ صرف درخواست میں رجسٹرڈ مطلوبہ مستفید کو دیا جائے۔ آدھار پر مبنی ٹریکنگ نے مستفدین کی مناسب شناخت، لیکیج کو روکنے اورفرضی اندراجات کو ختم کرنے کے قابل بنایا ہے۔
آپریشنل کارکردگی: اس تکنیکی انضمام نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ پروگرام کے تحت اضافی تغذیے یا دیگر متعلقہ خدمات کی فراہمی میں کوئی کمی یا تاخیر نہیں ہے۔
شکایات کے ازالے کا قابل رسائی سیل اور سپورٹ
نومبر 2022 میں شروع ہونے والی پوشن ہیلپ لائن (14408) خدشات کے اندراج کے لیے دستیاب کر دی گئی ہے۔ ہیلپ لائن کے ذریعے، ایک استفادہ کنندہ پیش کردہ خدمات کے بارے میں تشویش کا اظہار کر سکتا ہے۔ ہیلپ لائن 17 زبانوں میں دستیاب ہے۔ پہلے کی ہیلپ لائن 14408 کو واپس لے لیا گیا تھا اور 1515 پوشن ابھیان اور پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا (پی ایم ایم وی وائی) شکایات/سوالات کے لیے نومبر 2025 سے فعال نمبر بن گیا تھا۔
کمیونٹی کی مصروفیت: ایک جن آندولن کے طور پر تغذیہ
پوشن ابھیان کا واضح کردار ایک جن آندولن کے طور پر تغذیہ میں بہتری کی پوزیشننگ ہے -جو حکومت کے زیر انتظام پروگرام کے بجائے ایک حقیقی عوامی تحریک ہے۔
مشن اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ بچوں کو دودھ پلانے کے طریقوں، غذائی تنوع، قبل از پیدائش کی دیکھ بھال، ہاتھ کی صفائی اور ادارہ جاتی صحت کی تلاش کے ارد گرد پائیدار رویے میں تبدیلی صرف فعال کمیونٹی کی ملکیت اور زمینی سطح کی شرکت کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ پوشن ماہ اور پوشن پکھواڑہ سب سے بڑی تغذیہ پر مبنی کمیونٹی موبلائزیشن مہمات میں سے ہیں اور ہر سال مقررہ مہینوں میں چلائی جاتی ہیں، تاکہ صحت، تندرستی اور قوت مدافعت کو فروغ دینے والے طریقوں کو عام کرنے کے لیے عوام تک پہنچ سکیں۔
پوشن پکھواڑہ (اپریل 2026)
، پوشن پکھواڑہ ایک دو ہفتے کی گہری آؤٹ ریچ مہم ہے اور 2018 سے ہر سال منایا جاتا ہے جو اپریل میں کمیونٹی کو متحرک کرنے اور پوشن ابھیان کے تحت اہم تغذیہ کے طرز عمل کو تقویت دینے کے لیے چلائی جاتی ہے۔
2026 میں پوشن پکھواڑہ کا آٹھواں ایڈیشن 9 سے 23 اپریل تک منعقد ہو رہا ہے۔ سائنسی شواہد بتاتے ہیں کہ دماغ کی 85فیصدسے زیادہ نشوونما چھ سال کی عمر میں ہوتی ہے، جس میں سب سے زیادہ تیزی سے نشوونما پہلے 1000 دنوں میں ہوتی ہے -جو دماغ کی بہترین نشوونما، جسمانی نشوونما اور مجموعی فلاح و بہبود کے لیے ایک اہم دورہے۔
زندگی کے ابتدائی مرحلے میں بچوں کے لیے نگہداشت اور تغذیے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، 8ویں پوشن پکھواڑہ سائنسی طور پر ایک اہم اور تبدیلی کے موضوع "زندگی کے پہلے چھ سال میں دماغی نشوونما کو زیادہ سے زیادہ" پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے جن آندولن کو مزید گہرا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کنبوں اور کمیونٹیز کے درمیان بیداری کو تقویت دیتا ہے جو دماغی نشوونما اور صحت مند نشوونما کے بارے میں معاون ہے۔
اس کا مقصد درج ذیل مرکزی تھیم کے ذریعے "صحت کے لیے تغزیے" سے "تغذیہ اور ابتدائی بچپن میں زیادہ سے زیادہ دماغی نشوونما کے لیے محرک" کی طرف منتقل کرنا ہے : زندگی کے پہلے چھ سال میں دماغی نشوونما کو زیادہ سے زیادہ اضافہ۔
اس سال کی تھیم کے تحت اہم توجہ مرکوز کرنے والے موضوعات میں شامل ہیں:
- ماں اور بچے کا تغذیہ
- دماغ کی نشوونما کے لیے ابتدائی محرک
- ابتدائی سالوں میں کھیل پر مبنی تعلیم
- اسکرین ٹائم کو کم سے کم کرنے میں والدین اور کمیونٹی کا کردار
- مضبوط آنگن واڑی کے لیے کمیونٹی سپورٹ حاصل کرنا
ساتویں پوشن پکھواڑے (8-22 اپریل 2025) نے چار نتائج پر مبنی تھیمز پر توجہ مرکوز کی: زندگی کے پہلے 1,000 دن، خود رجسٹریشن کے لیے پوشن ٹریکر کے مستفید ہونے والے ماڈیول کا فروغ، تغذیے کی قلت کے کمیونٹی پر مبنی انتظام (سی ایم اے ایم ) پروٹوکول کا نفاذ اور صحت مند طرز زندگی کو حل کرنے کے لیے صحت مندانہ طرز زندگی کو فروغ دینا۔
ملک بھر میں وسیع پیمانے پر سرگرمیاں شروع کی گئیں، جن میں ہوم وزٹ، گروتھ مانیٹرنگ ڈرائیوز، کمیونٹی بیداری پروگرام، ہیلتھ کیمپس، نکڑ ناٹک اور متعدد وزارتوں اور محکموں پر مشتمل کنورجنسی ایونٹس شامل ہیں۔
پوشن پکھواڑہ نچلی سطح پر شمولیات کے لیے آنگن واڑی نیٹ ورک اور کمیونٹی اداروں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے رویے میں پائیدار تبدیلی کو فروغ دینے اور غذائیت کی خدمات کی آخری میل کی فراہمی کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔
|
راشٹریہ پوشن ماہ
تغذیے سے متعلق بیداری کو فروغ دینے کے لیے، پوشن ماہ ہر ستمبر کو ملک گیر جن آندولن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس مہم کو تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں گرام پنچایتوں، شہری مقامی اداروں، اسکولوں، صحت کی سہولیات اور آنگن واڑی مراکز کے ذریعے پارٹنر وزارتوں کے ساتھ مل کر نافذ کیا جاتا ہے۔
آٹھویں راشٹریہ پوشن ماہ کا آغاز وزیر اعظم نے 17 ستمبر 2025 کو دھر، مدھیہ پردیش سے سوستھ ناری، سشکت پریوار ابھیان کے ساتھ کیا تھا۔ اس اقدام کو خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت اور صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت نے مشترکہ طور پر نافذ کیا ہے۔
2025 راشٹریہ پوشن ماہ نے غذائی خواندگی اور صحت مند طرز زندگی کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی۔ کلیدی موضوعات میں زچگی کا تغذیہ، بچوں اور چھوٹے بچوں کی خوراک (آئی وائی سی ایف)، ابتدائی بچپن کی دیکھ بھال اور تعلیم (ای سی سی ای) اور موٹاپے سے نمٹنے کے لیے چینی اور تیل کی کھپت میں کمی شامل تھی۔
|
نتیجہ
اب جبکہ پوشن ابھیان آٹھ سال مکمل کر رہا ہے، یہ مشن تغذیے کے چیلنجوں سے نمٹنے میں کنورجنس، ٹیکنالوجی سے چلنے والی حکمرانی اور کمیونٹی کی شرکت پر بڑھتے ہوئے زور کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا ارتقاء تمام شعبوں میں مربوط کارروائی کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے، خدمات کی فراہمی کے پلیٹ فارم کو مضبوط بنانے اور غذائیت کے نتائج کو بہتر بنانے میں رویے میں تبدیلی کی مسلسل کوششوں کو ظاہر کرتا ہے۔
مشن پوشن 2.0 میں منتقلی سروس کے معیار کو بہتر بنانے، بچپن کی ابتدائی دیکھ بھال کو وسعت دینے اور آخری میل کی ترسیل کے نظام کو مضبوط بنانے پر مسلسل توجہ مرکوز کرتی ہے۔ صحت، ابتدائی بچپن کی دیکھ بھال، تعلیم اور کمیونٹی کی مصروفیت کے ساتھ غذائیت کو مربوط کرکے، مشن کمزور آبادیوں کی مدد کے لیے ایک جامع نقطہ نظر اپناتا ہے۔
تغذیہ کا ملک میں انسانی سرمائے کی ترقی سے گہرا تعلق ہے، کیونکہ بہتر تغذیہ بہتر صحت، سیکھنے کے نتائج اور پیداواری صلاحیت میں معاون ہے۔ جیسا کہ ہندوستان 2047 تک وِکِسِت بھارت کے وژن کی طرف بڑھ رہا ہے، صحت مند، پیداواری اور لچکدار آبادی کی تعمیر کے لیے تغذیہ، ابتدائی بچپن کی نشوونما اور خدمات کی فراہمی کے نظام میں مسلسل سرمایہ کاری اہم رہے گی۔
حوالے
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?id=155235&NoteId=155235&ModuleId=3®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1897354®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2226343®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2227439®=6&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=1912577®=3&lang=2
https://www.poshantracker.in/statistics
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2123133®=3&lang=2
https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2025/apr/doc202549536701.pdf
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
*********
(ش ح۔ ک ح ۔ ر ض)
UR-5806
(ریلیز آئی ڈی: 2251856)
وزیٹر کاؤنٹر : 12