سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
اے این آر ایف پیچیدہ تحقیقی اشاعتوں کو متعدد ہندوستانی زبانوں میں آسان سوشل میڈیا مواد میں تبدیل کرنے کے لیے اے آئی پر مبنی پلیٹ فارم ’سرل اے آئی‘ تیار کر رہا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
وزیر نے انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن (اے این آر ایف) کی پیش رفت اور مستقبل کے لائحۂ عمل کا جائزہ لیا، اور مشن موڈ تحقیق اور سائنس کے سماجی اثرات پر زور دیا
اے این آر ایف سماجی اختراع کے لیے مشن موڈ پروگرام کے تحت ’مہا‘ لیپ فراگ ڈیمانسٹریٹرز کا آغاز کرے گا، جو معاشرے کے لیے سائنس کے مؤثر نتائج فراہم کرے گا: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
اے این آر ایف نے تحقیق کو آسان بنانے کے لیے 250 اداروں میں نوڈل افسران تعینات کیے ہیں، جس سے مشن پر مبنی جدت طرازی کو تقویت ملی ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 APR 2026 6:19PM by PIB Delhi
سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیرِ اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلا کے وزیرِ مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج انوسنددھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن (اے این آر ایف) کی پیش رفت اور مستقبل کے لائحۂ عمل کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر مشن موڈ پروگراموں، سماجی اختراع اور سائنسی علم تک عوامی رسائی کو وسعت دینے پر خصوصی توجہ دی گئی، تاکہ ہندوستان کے تحقیقی ماحولیاتی نظام کے اگلے مرحلے کی سمت متعین کی جا سکے۔
سائنس کو معاشرے سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ تحقیقی نتائج کو سادہ اور قابلِ فہم انداز میں پیش کیا جانا چاہیے تاکہ عام شہری ان کی اہمیت اور اثرات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ اسی مقصد کے تحت اے این آر ایف ایک اے آئی پر مبنی پلیٹ فارم "سرل اے آئی" تیار کر رہا ہے، جو پیچیدہ سائنسی اور تحقیقی مواد کو 18 ہندوستانی زبانوں میں پوڈکاسٹ، مختصر ویڈیوز اور دیگر سادہ فارمیٹس میں تبدیل کرے گا، جس سے سائنسی علم کی وسیع پیمانے پر اشاعت ممکن ہو سکے گی۔
جائزہ میٹنگ میں ڈی ایس ٹی کے سکریٹری پروفیسر ابھے کرندیکر، اے این آر ایف کے سی ای او ڈاکٹر شیوکمار کلیانارمن، ڈی ایس ٹی کے ایڈیشنل سکریٹری جناب سنیل کمار اور اے این آر ایف کے جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر نشانت ورما کے علاوہ ممتاز تحقیقی و تعلیمی اداروں کے سینئر افسران اور نمائندوں نے شرکت کی۔
میٹنگ میں بتایا گیا کہ اے این آر ایف نے متعدد "مہا" (مشن فار ایڈوانسمنٹ اِن ہائی امپیکٹ ایریاز) پروگرام شروع کیے ہیں، جو ترجیحی شعبوں میں اعلیٰ اثرات کے حامل نتائج کے حصول کے لیے بڑے پیمانے پر مشن طرز کے اقدامات ہیں۔ یہ پروگرام تعلیمی اداروں، صنعت اور حکومت کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر ابتدائی ٹیکنالوجی کی تیاری سے لے کر عملی اطلاق تک تحقیق کے عمل کو تیز کرتے ہیں۔
مزید برآں، اے این آر ایف "سماجی اختراع کے لیے لیپفروگ ڈیمانسٹریٹرز" کے عنوان سے ایک خصوصی مہا پروگرام شروع کرنے جا رہا ہے، جس کا مقصد آلودگی، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، آفات کے انتظام، کھیل، حیاتیاتی تنوع، پائیدار زراعت، نقل و حمل، اسمارٹ انفراسٹرکچر، کمیونٹی کی صحت، توانائی کی کارکردگی اور معاشی شمولیت جیسے اہم سماجی چیلنجوں کے لیے توسیع پذیر اور ٹیکنالوجی پر مبنی حل تیار کرنا ہے۔
فاؤنڈیشن کو قومی سطح پر بھرپور ردِعمل ملا ہے اور گزشتہ چار ماہ کے دوران تقریباً 20,000 تحقیقی درخواستوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان میں ایڈوانسڈ ریسرچ گرانٹ (اے آر جی) اور پرائم منسٹر س ارلی کیریئر ریسرچ گرانٹ (پی ایم-ای سی آر جی) جیسی اہم اسکیمیں شامل ہیں، جو ہندوستان کے تحقیقی نظام کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہیں۔
سائنس کو معاشرے سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ تحقیقی نتائج کو سادہ اور قابلِ فہم انداز میں پیش کیا جانا چاہیے تاکہ شہری ان کی مطابقت اور اثرات کو واضح طور پر سمجھ سکیں۔ اس سلسلے میں اے این آر ایف ’سرل اے آئی‘ تیار کر رہا ہے، جو ایک اے آئی پر مبنی پلیٹ فارم ہے اور پیچیدہ تحقیقی اشاعتوں اور پیٹنٹس کو 18 ہندوستانی زبانوں میں پوڈکاسٹس، مختصر ویڈیوز، پوسٹرز، کاروباری مختصر معلومات، پریزنٹیشنز اور مؤثر سوشل میڈیا مواد میں تبدیل کرتا ہے، جس سے ملک بھر میں سائنسی علم کی وسیع تر تشہیر ممکن ہوگی۔
ہندوستانی تحقیق کی رسائی اور مرئیت کو مزید وسعت دینے کے لیے اے این آر ایف نے ’اے این آر ایف پی ایم ای سی آر جی لائٹننگ ٹاک سیریز‘ کا آغاز کیا ہے، جو محققین کو اپنے کام کو مختصر اور دلکش انداز میں پیش کرنے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ فاؤنڈیشن ابتدائی کیریئر اور نوجوان محققین کی بھی فعال طور پر حوصلہ افزائی کر رہی ہے اور انہیں ویبینار منعقد کرنے اور اے این آر ایف کےذریعے فروغ دیے گئے ڈیجیٹل و سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کی ترغیب دے رہی ہے ، جس کے نتیجے میں نمایا ں عوامی مشغولیت پیدا ہورہی ہے۔
تحقیق میں آسانی پیدا کرنے کی جاری کوششوں کے ایک حصے کے طور پر، اے این آر ایف نے عمل کو سادہ بنانے اور انتظامی بوجھ کو کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ اس میں تقریباً 250 اداروں میں نوڈل افسران کی تقرری شامل ہے تاکہ پرنسپل انویسٹی گیٹرز کی معاونت کی جا سکے اور تحقیقی منصوبوں کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس کے علاوہ، مواصلات کو مضبوط بنانے اور تحقیقی برادری کو بروقت معلومات فراہم کرنے کے لیے اے این آر ایف نے واٹس ایپ اور دیگر ڈیجیٹل چینلز (ارتتائی )بھی شروع کیے ہیں، جس سے معلومات اور مواقع تک رسائی میں بہتری آئی ہے۔
اس کے علاوہ، اے این آر ایف کے واٹس ایپ اور اراٹائی چینلز کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ مواصلات کو مضبوط بنایا جا سکے اور تحقیقی برادری کو بروقت اپ ڈیٹس فراہم کی جا سکیں، نیز معلومات اور مواقع تک رسائی کو بہتر بنایا جا سکے۔
اجلاس میں اس بات کی توثیق کی گئی کہ اے این آر ایف قومی اہمیت کے حامل، کم مگر مؤثر اور اچھی طرح سے منظم فلیگ شپ ہائی امپیکٹ پروگراموں پر توجہ مرکوز رکھے گا، جبکہ تحقیق کو تیزی سے عملی اطلاق میں تبدیل کرنے اور عوامی فائدے کے لیے علم کی وسیع تر ترسیل کو یقینی بنایا جائے گا۔

تصویر : مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ پیر کے روزنئی دہلی کے ٹیکنالوجی بھون میں انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن (اے این آر ایف) کی ایک میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے۔


***
(ش ح۔اس ک )
UR-5792
(ریلیز آئی ڈی: 2251696)
وزیٹر کاؤنٹر : 20