صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

صدرِ جمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو نے ایمس راجکوٹ کے پہلے تقسیمِ اسناد پروگرام سے خطاب کیا


طب محض ایک پیشہ نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا عہد ہے: محترمہ دروپدی مرمو

’’آپ جو سفید کوٹ پہنتے ہیں وہ اس اعتماد کی علامت ہے جو بیماری اور غیر یقینی کے وقت لوگ ڈاکٹروں پر رکھتے ہیں‘‘، صدرِ جمہوریہ نے طلبہ کو اپنے پیشے میں اعتماد، ہمدردی اور اخلاقیات کو برقرار رکھنے کی تلقین کی

علاقائی صحت کے مسائل، خصوصاً زچگی و بچوں کی صحت اور سِکِل سیل انیمیا جیسے جینیاتی امراض سے نمٹنے کی ضرورت پر زور

صدر نے طلبہ کو جدت کو اپنانے کے ساتھ انسانی ہمدردی کو برقرار رکھنے کی ترغیب دی، کہا ’’طب میں انسانی ہمدردی کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا‘‘

’’صحت کا شعبہ 2047 تک وِکست بھارت کے وژن کے لیے نہایت اہم ہے‘‘

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 APR 2026 7:18PM by PIB Delhi

 صدرِ جمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو نے آج آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس)، راجکوٹ کے پہلے تقسیمِ اسناد پروگرام سے خطاب کیا، جو ادارے کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا کیونکہ اس موقع پر میڈیکل طلبہ کے پہلے بیچ نے گریجویشن مکمل کی۔اس موقع پر مرکزی وزیر مملکت برائے صحت و خاندانی بہبود محترمہ انوپریہ پٹیل بھی موجود تھیں۔

 

فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے صدرِ جمہوریہ نے اس موقع کو نہ صرف طلبہ بلکہ ادارے کے قیام سے وابستہ تمام افراد کے لیے باعثِ فخر قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’آپ اس ادارے سے فارغ ہونے والا پہلا بیچ ہیں، اس لحاظ سے آپ ایمس راجکوٹ کے پہلے برانڈ ایمبیسیڈر ہیں۔ آپ کا کام اور طرزِ عمل اس ادارے کی ساکھ کو تشکیل دے گا۔‘‘سوراشٹر خطے کی بھرپور ثقافتی اور تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے صدرجمہوریہ نے کہا کہ اس خطے کا تعلق مقدس مقامات اور مہاتما گاندھی کی زندگی سے بھی رہا ہے۔ انہوں نے ایمس راجکوٹ سے وابستہ تمام افراد سے اپیل کی کہ وہ خدمت اور عوامی فلاح کے جذبے کے ساتھ کام کریں اور اپنے فرائض کو ہمدردی اور ذمہ داری کے اصولوں کے تحت انجام دیں۔

 

طبی پیشے کی عظمت پر زور دیتے ہوئے صدرِ جمہوریہ نے کہا، ’’طب محض ایک پیشہ نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا عہد ہے۔ اس پیشے کے لیے نہ صرف سائنسی علم بلکہ حساسیت، صبر اور انکساری بھی ضروری ہے۔‘‘ انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو تلقین کی کہ وہ اپنے پیشے میں ہمدردی، صبر اور عاجزی کو برقرار رکھیں، اور کہا کہ ’’آپ جو سفید کوٹ پہنتے ہیں وہ اس اعتماد کی علامت ہے جو بیماری اور غیر یقینی کے وقت لوگ ڈاکٹروں پر رکھتے ہیں۔‘‘

صدرجمہوریہ نے ایمس اداروں کے اس اہم کردار کو اجاگر کیا جو وہ سستی اور عالمی معیار کی اعلیٰ طبی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ طبی تعلیم، تحقیق اور عوامی صحت کے فروغ میں ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ایمس کے فارغ التحصیل طلبہ ملک اور بیرونِ ملک صحت کے شعبے میں قیادت فراہم کر رہے ہیں، جو ان اداروں کے اعلیٰ معیار کی عکاسی کرتا ہے۔

ایمس راجکوٹ کو ایک نیا اور ترقی پذیر ادارہ قرار دیتے ہوئے صدرجمہوریہ نے اس کی طویل مدتی کامیابی کے لیے واضح وژن، اچھی حکمرانی اور شفافیت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے علاقائی صحت کے مسائل، خصوصاً زچگی و بچوں کی صحت اور سکل سیل انیمیا جیسے جینیاتی امراض سے نمٹنے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔

 

صحت کے شعبے میں تیزی سے ہونے والی تکنیکی ترقیات کا ذکر کرتے ہوئے صدرِ جمہوریہ نے کہا، ’’مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، پریسیژن میڈیسن اور ڈیجیٹل ہیلتھ خدمات صحت کے شعبے کی نوعیت اور امکانات کو بدل رہی ہیں۔‘‘ انہوں نے طلبہ کو ترغیب دی کہ وہ جدت کو اپنائیں مگر انسانی پہلو کو برقرار رکھیں، اور کہا کہ ’’طب میں انسانی ہمدردی کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا۔‘‘ مہاتما گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو خدمت کی اہمیت یاد دلائی: ’’اب جب آپ کو خدمت کا موقع ملا ہے تو اس میں دل و جان لگا دیں اور اس سے بھرپور لطف اٹھائیں۔‘‘

صدر نے طبی عمل میں اخلاقی اقدار کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک اچھا ڈاکٹر ہونا اہم ہے، لیکن ہمدردی، دیانت داری اور ایثار جیسے اصولوں کی رہنمائی میں کام کرنا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔

2047 تک وِکست بھارت کے ہدف کے تناظر میں صدر نے کہا کہ معیاری اور قابلِ رسائی صحت کی سہولیات اس وژن کا ایک اہم ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ ہند اس سمت میں متعدد اقدامات کر رہی ہے اور ایمس جیسے ممتاز اداروں سمیت تمام متعلقہ فریقین کے درمیان مسلسل تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

ایمس راجکوٹ کے مستقبل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ یہ ادارہ مساوی اور معیاری صحت کی سہولیات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا اور طبی تعلیم و تحقیق میں نئے معیار قائم کرے گا۔

 اپنے خطاب کے اختتام پر صدرِ جمہوریہ نے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے انہیں تلقین کی کہ وہ لگن کے ساتھ خدمت انجام دیں، دیانت داری کے ساتھ قیادت کریں اور طبی پیشے کے اعلیٰ و عظیم اصولوں کو برقرار رکھیں۔

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 5798 )


(ریلیز آئی ڈی: 2251685) وزیٹر کاؤنٹر : 13
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी