الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

اقلیتی زبانوں کے لیے اے آئی ایکو سسٹم کو فروغ دینے کی خاطر پالی زبان پر دہلی یونیورسٹی میں 'بھاشنی  سنچالن/سیوا ورکشاپ کا انعقاد

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 10 APR 2026 8:32PM by PIB Delhi

اقلیتی زبانوں کے تحفظ اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے اختراعات کو مضبوط کرنے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر، 10 اپریل 2026 کو دہلی یونیورسٹی کے فیکلٹی آف آرٹس میں 'پالی زبان کے تحفظ اور ڈیجیٹل اے آئی ماڈل کی تیاری' پر ایک 'بھاشنی'  سنچالن/سیوا ورکشاپ منعقد کی گئی۔ اس ورکشاپ کا اہتمام الیکٹرانکس اور اطلاعاتی  ٹیکنالوجی کی وزارت کے تحت کام کرنے والے ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن (ڈی آئی بی ڈی) نے دہلی یونیورسٹی کے 'سینٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز ان بدھسٹ اسٹڈیز' کے تعاون سے کیا تھا۔

1.jpg

اس ورکشاپ میں خاص طور پر پالی زبان پر توجہ مرکوز کی گئی، جو کہ ایک قدیم وسطی ہند-آریائی زبان ہے۔ اس  زبان  کا  ماخذ  ابتدائی بدھ مت کے متن اور 'تریپٹک' ہے، جو بدھ مت کے علمی نظام اور فلسفیانہ روایات کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اپنی تاریخی، ادبی اور ثقافتی اہمیت کی وجہ سے تسلیم شدہ اور علمی و ادبی لحاظ سے ایک 'کلاسیکی زبان' کے طور پر پہچانی جانے والی پالی زبان، ہندوستان کے بدھ مت ورثے کے تحفظ اور اسے سمجھنے کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے تناظر میں ایک 'کم وسائل والی زبان' ہونے کے ناطے، اسے ڈیجیٹائزیشن، ڈیٹا سیٹ کی تیاری اور لسانی توثیق کے لیے منظم کوششوں کی ضرورت ہے۔ یہ پہل اقلیتی امور کی وزارت  کے اس وسیع نقطہ نظر کے عین مطابق ہے جس کا مقصد اقلیتی اور وراثتی زبانوں کے تحفظ اور فروغ میں مدد فراہم کرنا ہے۔

دہلی یونیورسٹی کے 'سینٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز ان بدھسٹ اسٹڈیز' نے ایک اہم تعلیمی اور علمی شراکت دار کے طور پر اپنا تعاون دیتے ہوئے وہ مہارت اور علمی معلومات فراہم کیں جو لسانی درستگی اور ثقافتی سیاق و سباق کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ یہ تعاون کم وسائل والی اور وراثتی زبانوں کے لیے تحقیق، علمی ترقی اور وسیع تر ایکو سسٹم کی حمایت کی جاری کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔

ورکشاپ کے دوران، ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن کے سی ای او، جناب امیتابھ ناگ نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستانی زبانوں کے ذریعے علمی نظام اور ڈیجیٹل خدمات تک جامع رسائی کو ممکن بنانے کے لیے اے آئی کا استعمال کتنا اہم ہے۔ انہوں نے اعلیٰ معیار کے ڈیٹا سیٹ اور متحرک لسانی ماڈلز کی تیاری میں تعلیمی اداروں اور لسانی برادریوں کی فعال شراکت داری کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ ورکشاپ میں ٹارگٹڈ ڈیٹا اکٹھا کرنے، توثیقی ڈھانچے اور عوامی شراکت داری کے ذریعے پالی زبان کے لیے اے آئی ماڈلز تیار کرنے پر توجہ مرکوز رہی۔ اس پروگرام میں پالی کی لسانی اور ادبی اہمیت پر سیشنز کے ساتھ ساتھ ڈیٹا سیٹ کی ضروریات جیسے کہ تحریری مواد ، آڈیو ریکارڈنگز اور مخطوطات کی ڈیجیٹائزیشن پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ماہر مقررین کے ذریعے منظم ڈیٹا کی فراہمی اور کمیونٹی کی سطح پر اس کی تصدیق کو ممکن بنانے کے لیے 'بھاشا دان'  پلیٹ فارم کا جامع جائزہ بھی پیش کیا گیا۔

 2.jpg

ورکشاپ کے تحت، بھاشنی ٹیم نے اپنی بنیادی لینگویج اے آئی ٹیکنالوجیز اور ایپلی کیشنز کی جامع براہ راست پیش کش کی، جس میں متن، تقریر، دستاویز اور ملٹی میڈیا کے شعبوں میں اس کی مکمل کثیر لسانی صلاحیتوں کی نمائش کی گئی۔ ان پیش کشوں میں متعدد ہندوستانی زبانوں کے درمیان متن سے متن کے ترجمے کے لیے 'انواد'، ریئل ٹائم میں تقریر سے تقریر اور تقریر سے متن کے ترجمے کے لیے 'وانی انود'، مختلف زبانوں میں دستاویزات کے ترجمے اور انہیں ڈیجیٹل بنانے کے لیے 'لیکھا انواد' اور اے آئی پر مبنی ویڈیو ترجمہ و کثیر لسانی مواد کی مطابقت پذیری کے لیے 'چتر انواد' شامل تھے۔ بھاشنی موبائل ایپ کا مظاہرہ صارفین کے لیے ایک ایسے انٹرفیس کے طور پر کیا گیا جو ہندوستانی زبانوں میں ریئل حقیقی وقت میں گفتگو، تفہیم اور ترجمے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جبکہ بھاشنی ٹرانسلیشن پلگ ان نے متحرک اور وسیع پیمانے پر ترجمے کی صلاحیتوں کے ذریعے ویب سائٹس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو کثیر لسانی بنانے کی مہارت پیش کی۔ اسی طرح گرنتھیکا  کا مظاہرہ ایک ایسے جدید پلیٹ فارم کے طور پر کیا گیا جو پارلیمانی اور ادارہ جاتی مواد کی کثیر لسانی پروسیسنگ اور رسائی کو ممکن بناتا ہے، جو کہ اعلیٰ سطحی اور علمی شعبوں میں 'بھاشنی' ٹیکنالوجیز کی افادیت کا عکاس ہے۔

ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے، حکمرانی کے پلیٹ فارمز اور تعلیم و علمی نظام سے متعلق مختلف استعمال کا بھی مظاہرہ کیا گیا تاکہ متنوع شعبوں میں بھاشنی کے ٹیکنالوجی ڈھانچے کی حقیقی عملی تنصیب، توسیع پذیری اور ہموار انضمام کو نمایاں کیا جا سکے۔

ان پیش کشوں نے حقیقی وقت میں نتائج  پر مبنی انضمام اور بڑے پیمانے پر تعیناتی کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا، جس سے تمام شعبوں میں کثیر لسانی رسائی، شمولیت اور ڈیجیٹل بااختیار بنانے کے حوالے سے 'بھاشنی' کے بطور ایک قومی پلیٹ فارم  رول  کو تقویت ملی۔ ساتھ ہی، لسانی ڈیٹا کی تیاری اور اے آئی کی اختراع کے لیے تعلیمی اداروں اور متعلقہ ماہرین کے ساتھ باہمی تعاون کے نظام کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا گیا۔

3.jpg

***

ش ح۔ م ش۔ن م۔

U- 5768

                          


(ریلیز آئی ڈی: 2251474) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी