نیتی آیوگ
نیتی آیوگ نے "ہندوستان میں تحقیق اور ترقی میں آسانی" کے موضوع پر رپورٹیں جاری کر دی ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 APR 2026 7:58PM by PIB Delhi
نیتی آیوگ نے ’’ہندوستان میں تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) میں آسانی‘‘ اور ’’ہندوستان میں آر اینڈ ڈی کی سہولت سے متعلق سروے رپورٹ‘‘ کے عنوان سے دو اہم رپورٹیں جاری کیں، جن کا مقصد ملک میں ایک مؤثر، سہل اور اختراع پر مبنی تحقیقی نظام کو فروغ دینا ہے۔ یہ رپورٹیں تقریباً نو ماہ پر محیط ایک وسیع مشق کا نتیجہ ہیں، جس میں 400 سے زائد ادارہ جاتی سربراہان سے رابطہ کیا گیا اور ملک بھر کے 850 سے زائد ممتاز سائنس دانوں اور محققین کی آراء شامل کی گئیں۔
یہ رپورٹیں نیتی آیوگ کے نائب چیئرمین سمن بیری اور مہمانِ خصوصی مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی جتیندر سنگھ نے جاری کیں۔ اس موقع پر نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر وی کے سرسوت ، سائنسی محکموں کے سکریٹریز، اعلیٰ سرکاری افسران، سائنسی اکیڈمیوں کے صدور اور تعلیمی و صنعتی شعبوں کے نمائندگان بھی موجود تھے۔
تقریب کا آغاز پروفیسر ویویک کمار سنگھ، سینئر مشیر نیتی آیوگ کے خیرمقدمی خطاب اور پریزنٹیشن سے ہوا، جس میں انہوں نے رپورٹ کے مقاصد، طریقۂ کار اور اہم نتائج پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ رپورٹ میں مختلف موضوعاتی شعبوں میں درپیش چیلنجوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور شواہد پر مبنی عمل کے تحت متعدد قابلِ عمل سفارشات پیش کی گئی ہیں، جن میں قومی سطح کے سروے، شراکت دار مشاورت اور علاقائی اجلاس شامل ہیں۔
پروفیسر آشوتوش شرما، سابق صدر انڈین نیشنل سائنس اکیڈمی نے سروے رپورٹ سے اہم نکات پیش کرتے ہوئے تحقیقی نظام میں اختراع کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ نیشنل اکیڈمی آف سائنسز، انڈیا کے صدر پروفیسر ونود کمار سنگھ نے کہا کہ محققین کو ہر سطح پر، خاص طور پر ابتدائی مرحلے کے سائنس دانوں کو، مؤثر معاونت فراہم کرنا ضروری ہے۔ ڈاکٹر شیکھر سی منڈے، صدر INSA نے تحقیق میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے اور مالیاتی ضوابط میں لچک پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
حکومت ہند کے خصوصی سائنسی مشیر پروفیسر اجے کمار سود نے کہا کہ آر اینڈ ڈی میں آسانی پیدا کرنا ایک مسلسل عمل ہے اور اس رپورٹ کو ایک متحرک دستاویز کے طور پر استعمال کرتے ہوئے سفارشات پر عمل درآمد ضروری ہے۔ ڈاکٹر وی کے سارسوت نے کہا کہ ہندوستان میں تحقیقی اداروں کا تنوع بہت زیادہ ہے، تاہم محققین کو درپیش مسائل میں یکسانیت پائی جاتی ہے، جو ادارہ جاتی عمل، مالیاتی ڈھانچے، پالیسی فریم ورک اور ضابطہ جاتی نظام سے متعلق ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ رپورٹ زمینی حقائق پر مبنی ہے اور تحقیقی نظام کی اصل صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق ایسے ماحول میں فروغ پاتی ہے جہاں رکاوٹیں کم ہوں، اور ہندوستان کے پاس مضبوط انسانی وسائل موجود ہیں۔ انہوں نے نجی شعبے، خصوصاً کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے ذریعے تحقیق اور اختراع میں تعاون بڑھانے کی بھی اپیل کی۔
اپنے خطاب میں سمن بیری نے کہا کہ تحقیق کو عملی اطلاق میں تبدیل کرنا ایک اہم ترجیح ہے۔ انہوں نے مشن موڈ آر اینڈ ڈی کے لیے مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے اور نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شمولیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ تحقیق مختلف شعبوں میں پھیل رہی ہے، اس لیے لچکدار اور مؤثر نظام ناگزیر ہیں، کیونکہ سخت ڈھانچے تعاون کو محدود کرتے ہیں جبکہ لچکدار نظام نئے امکانات پیدا کرتے ہیں۔
ان رپورٹس میں ہندوستان کے آر اینڈ ڈی نظام کا جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے اور مالیاتی نظام، ادارہ جاتی حکمرانی، ضابطہ جاتی فریم ورک اور تحقیق کے عملی اطلاق کو بہتر بنانے کے لیے متعدد قابلِ عمل سفارشات دی گئی ہیں۔ رپورٹس میں اعتماد پر مبنی، نتائج پر مرکوز اور سہل ماحول کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ محققین اور ادارے اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کر سکیں۔
ان رپورٹوں کے اجرا کے ساتھ نیتی آیوگ نے ہندوستان کے تحقیقی نظام کو مضبوط بنانے اور ملک کو سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع میں عالمی رہنما بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ رپورٹس متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے ساتھ بھی شیئر کی جا رہی ہیں۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 5701 )
(ریلیز آئی ڈی: 2251013)
وزیٹر کاؤنٹر : 12