سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پروٹوٹائپ فاسٹ بریڈر ری ایکٹر (پی ایف بی آر) ہندوستان کی خود کفیل توانائی کی جانب سفر میں اہم سنگ میل: ڈاکٹر جتیندر سنگھ، وکتویہ 2026 میں خطاب

مصنوعی ذہانت حکمرانی اور روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنے گی، اسے معاون کے طور پر استعمال کرنا ضروری: مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ

50 فیصد اسٹارٹ اپس دوسرے درجے اور تیسرے درجے کے شہروں سے ابھر رہے ہیں، جو جدت کے فروغ میں ہمہ گیری کی عکاسی ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

وزیرموصوف کا ذہنیت میں تبدیلی کی ضرورت پر زور

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 10 APR 2026 6:05PM by PIB Delhi

ہندو کالج کی جانب سے منعقدہ پروگرام ’’و کتویہ 2026‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی سائنسز اور وزیر مملکت برائے وزیر اعظم دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، محکمہ جوہری توانائی اور محکمہ خلاء، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہندوستان میں مقامی سطح پر تیار کیے گئے پروٹوٹائپ فاسٹ بریڈر ری ایکٹر (پی ایف بی آر) کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ خود کفیل توانائی تحفظ کی سمت میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ری ایکٹر پلوٹونیم اور مائع سوڈیم بطور کولنٹ استعمال کرتا ہے، جس سے کم وسائل کے ساتھ زیادہ توانائی حاصل ہوتی ہے، اور یہ تھوریم پر مبنی ری ایکٹرز کی راہ ہموار کرے گا، جس کے لیے ہندوستان کے پاس وسیع ذخائر موجود ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ پیش رفت ملک کی صلاحیت کو مضبوط بنائے گی اور طویل مدتی صاف توانائی کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کے بڑھتے کردار کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اب اختیاری نہیں بلکہ ناگزیر ہو چکی ہے اور مستقبل میں حکمرانی اور روزمرہ امور کا حصہ بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی تحقیق، تجزیہ اور فیصلہ سازی میں ایک مؤثر معاون ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اس کا استعمال احتیاط کے ساتھ ہونا چاہیے تاکہ انسانی ذہانت متاثر نہ ہو۔ انہوں نے اسے ایک ہائبرڈ ماڈل قرار دیا جہاں ٹیکنالوجی انسانی صلاحیتوں کی تکمیل کرتی ہے۔

ہندوستان کے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک اب عالمی سطح پر سرکردہ اسٹارٹ اپ ممالک میں شامل ہو چکا ہے، جہاں اسٹارٹ اپس کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں سے تقریباً 50 فیصد اسٹارٹ اپس سونی پت، پانی پت اور سورت جیسے دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں سے ابھر رہے ہیں، جو مواقع کی جمہوریت اور میٹرو شہروں سے باہر جدت کے فروغ کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت کو بھی اجاگر کیا۔

وزیر موصوف نے قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے ایک بڑی تبدیلی قرار دیا، جس نے طلبہ کو تعلیمی شعبوں کے انتخاب اور تبدیلی میں لچک اور آزادی فراہم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب طلبہ روایتی مضامین تک محدود نہیں رہے بلکہ بین المضامینی تعلیم کے ذریعے اپنی دلچسپی اور صلاحیتوں کے مطابق راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔

انہوں نے ’’وَیبھَو‘‘ پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد بیرون ملک مقیم ہندوستانی سائنس دانوں کو ملکی اداروں سے جوڑنا اور باہمی تعاون کے مواقع پیدا کرنا ہے، جس سے سائنسی ترقی کو فروغ مل رہا ہے۔

اسی طرح انہوں نے ’’پرتیبھا سیتو‘‘ پورٹل کا بھی حوالہ دیا، جو یو پی ایس سی کے ایسے امیدواروں کو ممکنہ آجرین سے جوڑتا ہے جو امتحان کے آخری مراحل تک پہنچتے ہیں مگر حتمی انتخاب میں شامل نہیں ہو پاتے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے مستند امیدواروں کی پروفائلز اداروں کو دستیاب ہوتی ہیں، جس سے باصلاحیت افراد کو نئے مواقع ملتے ہیں۔

طلبہ سے بات چیت کے دوران انہوں نے ذہنی رویے میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج کی باہم مربوط دنیا میں ترقی الگ تھلگ ہو کر ممکن نہیں۔ انہوں نے طلبہ کو روایتی کریئر سے ہٹ کر مختلف مواقع تلاش کرنے اور دستیاب ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی۔

اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ موجودہ دور نوجوانوں کے لیے غیر معمولی مواقع لے کر آیا ہے، جو معلومات تک رسائی، تکنیکی ترقی اور پالیسی اصلاحات کے باعث ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اس سازگار ماحول سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور ملک کی ترقی میں فعال کردار ادا کریں۔

*******

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 5697 )


(ریلیز آئی ڈی: 2250973) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी