سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
پارلیمانی سوال: انسپائر اسکیم کے اجزاء
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 APR 2026 3:34PM by PIB Delhi
سائنس اور ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنس کی وزارت کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمے (ڈی ایس ٹی)، حکومتِ ہند کی ’ متاثر کن تحقیق کے لیے سائنس کی دریافت (آئی این ایس پی آئی آر ای) اسکیم‘ ایک قومی پہل ہے جس کا مقصد باصلاحیت نوجوانوں کو بنیادی اور قدرتی علوم پڑھنے اور انجینئرنگ، طب، زراعت اور ویٹرنری سائنسز جیسے شعبوں میں تحقیقی کیریئر کے انتخاب کی ترغیب دینا ہے، تاکہ ملک کے تحقیق و ترقی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جا سکے۔ یہ اسکیم مختلف تعلیمی مراحل پر متعدد اجزاء کے ذریعے کام کرتی ہے۔انسپائر-مانک (قومی توقعات اور علم کو بڑھانے والے لاکھوں اذہان ) اسکیم کا ہدف 10 سے 17 سال کی عمر کے وہ طلبہ ہیں جو جماعت ششم سے بارہویں تک پڑھ رہے ہیں۔ یہ اسکیم تخلیقی خیالات اور سائنسی تجسس کو فروغ دیتی ہے۔ اسکول ہر سال ای-ایم آئی اے ایس پورٹل کے ذریعے زیادہ سے زیادہ پانچ طلبہ کو نامزد کر سکتے ہیں اور منتخب طلبہ کو اپنے پروجیکٹس تیار کرنے اور ضلعی، ریاستی اور قومی نمائشوں میں پیش کرنے کے لیے ڈی بی ٹی کے ذریعے10,000 روپے فراہم کیے جاتے ہیں۔ اسکالرشپ فار ہائر ایجوکیشن (ایس ایچ ای ) باصلاحیت طلبہ (عمر 17 سے 22 سال) کی معاونت کرتی ہے، جس کے تحت ہر سال 12,000 اسکالرشپس دی جاتی ہیں، جن کی مالیت80,000 روپے سالانہ ہے، تاکہ وہ بنیادی اور قدرتی علوم میں بیچلرز اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کر سکیں، ساتھ ہی انہیں رہنمائی کے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔تحقیقی سطح پر انسپائر فیلوشپ ان طلبہ کی معاونت کرتی ہے جو پی ایچ ڈی پروگرام کر رہے ہوتے ہیں اور انہیں پانچ سال تک سی ایس آئی آر-یو جی سی نیٹ کے مساوی فیلوشپ دی جاتی ہے (جس میں جے آر ایف کے تحت 37,000 روپے ماہانہ اور ایس آر ایف کے تحت 42,000 روپے ماہانہ کے ساتھ ایچ آر اے اور 20,000 روپے سالانہ کنٹیجنسی گرانٹ شامل ہے)۔ مزید برآں، انسپائرفیکلٹی فیلوشپ ابتدائی کیریئر کے پوسٹ ڈاکٹریٹ محققین (عمر 27 سے 32 سال) کو پانچ سال کے لیے فیلوشپ فراہم کرتی ہے، جس میں1,25,000 روپے ماہانہ، سالانہ انکریمنٹس اور 35 لاکھ روپے کا ریسرچ گرانٹ شامل ہے تاکہ وہ بنیادی اور اپلائیڈ سائنسز میں آزادانہ تحقیقی کیریئر بنا سکیں۔ مجموعی طور پر یہ تمام اجزاء اسکول کی سطح سے لے کر اعلیٰ تحقیق تک سائنسی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے ایک مسلسل سلسلہ فراہم کرتے ہیں۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران انسپائر اسکیم کے مختلف اجزاء کے تحت معاونت حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد کی تفصیلات نیچے دی گئی ہیں۔
:
|
انسپائر اجزاء
|
معاونت یافتہ طلباء کی تعداد
|
|
2023-24
|
2024-25
|
2025-26
|
|
انسپائر مانک
|
46926
|
50009
|
49805
|
|
انسپائر – ایس ایچ ای
|
7976
|
9494
|
9046
|
|
انسپائر فیلوشپ
|
796
|
305
|
923
|
|
انسپائر فیکلٹی فیلوشپ
|
100
|
58
|
171
|
گزشتہ تین سالوں کے دوران ، مستفیدین کی کل تعداد میں سے 224 انسپائر-مانک ، 35 انسپائر-ایس ایچ ای ، 88 انسپائر فیلوشپ ، اور 11 انسپائر فیکلٹی فیلوشپ مستفیدین بھوپال سے ہیں ، جبکہ 146 انسپائر-مانک اور 1 انسپائر-ایس ایچ ای مستفیدین داہود لوک سبھا حلقہ سے ہیں ۔
وزارت نے انسپائر- مانک جیسے اقدامات کے ذریعے اسکول کے طلبہ میں جدت اور تحقیق کو فروغ دینے کی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔ یہ پروگرام جماعت ششم سے بارہویں تک کے طلبہ پر مخصوص ہے اور انہیں اپنے اصل اور تخلیقی خیالات پیش کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ منتخب طلبہ کو اپنے خیالات کے ماڈل تیار کرنے کے لیے10,000 روپے کی مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ اس اسکیم کو ملک بھر کے زیادہ سے زیادہ اسکولوں تک وسعت دی گئی ہے، خاص طور پر دیہی اور سرکاری اداروں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ یہ پروگرام طلبہ کو ضلعی، ریاستی اور قومی سطح پر اپنے خیالات پیش کرنے کے لیے ایک منظم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پورے عمل کے دوران رہنمائی بھی فراہم کی جاتی ہے تاکہ طلبہ میں سائنسی سوچ، تخلیقیت اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتوں کو فروغ دیا جا سکے۔
اس اسکیم کے تحت مدھیہ پردیش اور بھوپال ضلع کے لحاظ سے اعداد وشمار سمیت ملک بھر میں کور کیے گئے اسکولوں اور اضلاع کی تفصیلات حسب ذیل ہیں ۔
|
مالی سال
|
شریک طلباء کی تعداد
|
شریک اسکولوں کی تعداد
|
کور کیے گئے اضلاع کی تعداد
|
|
2023-24
|
854553
|
224283
|
719
|
|
2024-25
|
1013229
|
253459
|
723
|
|
2025-26
|
1147343
|
274528
|
729
|
گزشتہ تین سالوں کے دوران مدھیہ پردیش میں اس اسکیم کے تحت شامل طلباء، اسکولوں اور اضلاع کی تعداد کی تفصیلات ذیل میں دی گئی ہیں:
|
ضلع
|
شریک طلباء کی تعداد
|
شریک اسکولوں کی تعداد
|
|
گر مالوہ
|
881
|
269
|
|
علی راج پور
|
1007
|
249
|
|
انوپ پور
|
1212
|
408
|
|
اشوک نگر
|
2495
|
903
|
|
بالاگھاٹ
|
4446
|
1188
|
|
باروانی
|
709
|
241
|
|
بیتول
|
5321
|
1373
|
|
بھنڈ
|
970
|
300
|
|
بھوپال
|
3175
|
880
|
|
برہان پور
|
827
|
285
|
|
چھتر پور
|
3162
|
826
|
|
چھندواڑہ
|
12245
|
2982
|
|
دموہ
|
4395
|
1263
|
|
دتیا
|
1649
|
490
|
|
دیواس
|
2859
|
906
|
|
دھر
|
5536
|
1446
|
|
ڈنڈوری
|
1198
|
334
|
|
گونا
|
2159
|
729
|
|
گوالیار
|
2245
|
634
|
|
ہردا
|
1267
|
402
|
|
ہوشنگ آباد
|
4182
|
1274
|
|
اندور
|
2853
|
870
|
|
جبل پور
|
3673
|
1071
|
|
جھبوا
|
264
|
72
|
|
کٹنی
|
2125
|
567
|
|
کھنڈوا (مشرقی نیمار)
|
3187
|
833
|
|
کھرگون
|
1229
|
359
|
|
میہر
|
42
|
9
|
|
منڈلا
|
781
|
275
|
|
مندسور
|
1458
|
401
|
|
مورینا
|
1628
|
451
|
|
نرسنگھ پور
|
2948
|
870
|
|
نیمچ
|
3290
|
814
|
|
نیواری
|
1584
|
371
|
|
پنڈھورنا
|
22
|
5
|
|
پنا
|
2987
|
970
|
|
رائسین
|
2342
|
719
|
|
راج گڑھ
|
1282
|
463
|
|
رتلام
|
13170
|
3001
|
|
ریوا
|
2840
|
873
|
|
ساگر
|
3682
|
967
|
|
ستنا
|
15077
|
3262
|
|
سیہور
|
2748
|
894
|
|
سیونی
|
4058
|
1278
|
|
شاہڈول
|
923
|
288
|
|
شاجاپور
|
2280
|
643
|
|
شیوپور
|
933
|
295
|
|
شیو پوری
|
2632
|
659
|
|
سیدھی
|
1953
|
594
|
|
سنگرولی
|
3802
|
1024
|
|
ٹیکم گڑھ
|
2430
|
610
|
|
اجین
|
3436
|
1235
|
|
عمریہ
|
2282
|
732
|
|
ودیشا
|
2593
|
925
|
|
نرمداپورم
|
5
|
1
|
وزارت نے انسپائر- مانگ جیسے سائنسی تحقیقی پروگراموں میں دیہی علاقوں اور کم نمائندگی رکھنے والے گروپوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی شمولیت بڑھانے کے لیے متعدد مخصوص اقدامات نافذ کیے ہیں۔ رسائی کو وسیع کرنے کے لیے ریاستی اور ضلعی نوڈل افسران کے ساتھ باقاعدگی سے آگاہی اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں، جبکہ اساتذہ کی تربیت کے لیے ورکشاپس بھی منعقد کی جاتی ہیں تاکہ اسکولوں کو اس پروگرام میں شرکت کے لیے ترغیب دی جا سکے۔اس کے علاوہ ایک جامع ملٹی میڈیا مہم بھی شروع کی گئی ہے جس میں ویڈیوز، پوسٹرز، سوشل میڈیا اور ای میل رابطے شامل ہیں تاکہ خاص طور پر دور دراز علاقوں تک زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی ممکن بنائی جا سکے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں شرکت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں سے نمایاں بہتری سامنے آئی ہے۔ رسائی کو بڑھانے کے لیے وزارت نے منتخب طلبہ کے لیے معاونت کے نظام کو بھی مضبوط بنایا ہے۔ ہر شارٹ لسٹ شدہ طالب علم کو اپنے آئیڈیا کا پروٹوٹائپ تیار کرنے کے لیے10,000 روپے فراہم کیے جاتے ہیں۔ انہیں اٹل ٹنکرنگ لیبز (اے ٹی ایل) کے ذریعے رہنمائی اور تکنیکی معاونت بھی فراہم کی جاتی ہے۔طلبہ کی پیش رفت ایک منظم ڈھانچے کے تحت ضلعی، ریاستی اور قومی سطح کے مقابلوں کے ذریعے ہوتی ہے، جس سے مسلسل شمولیت اور تجربے کے مواقع ملتے ہیں۔ اعلیٰ مراحل پر منتخب طلبہ کے لیے آئی آئی ٹیز اور این آئی ٹیز جیسے ممتاز اداروں کے تعاون سے مائنٹرنگ ورکشاپس بھی منعقد کی جاتی ہیں۔ریاستی سطح کے فاتحین کو اپنے پروٹوٹائپس کو قومی سطح پر پیش کرنے کے لیے مزید بہتر بنانے کے لیے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ قومی سطح پر طلبہ کو انکیوبیشن سہولیات، پیٹنٹ فائلنگ میں مدد اور تکنیکی رہنمائی فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے خیالات کو قابلِ عمل اور سماجی طور پر مفید اختراعات میں تبدیل کر سکیں۔
*********
ش ح۔ ع ح۔ ش ت
Urdu No-5658
(ریلیز آئی ڈی: 2250698)
وزیٹر کاؤنٹر : 12