پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
عالمی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے درمیان مہاراشٹر میں ایندھن کی بلاتعطل فراہمی کی یقین دہانی؛ اسٹریٹجک ایل پی جی کی ترسیل اور نگرانی کے موثر اقدامات
مہاراشٹر کا ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک، جو متعدد ایل پی جی بوٹلنگ پلانٹس اور مربوط لاجسٹکس کے تعاون سے کام کر رہا ہے، بغیر کسی رکاوٹ کے صارفین کی طلب کو پورا کر رہا ہے: مہاراشٹر میں او ایم سی کے ریاستی کوآرڈینیٹر کا بیان
مرکزی اور ریاستی دونوں حکومتیں دیگر ریاستوں کے مزدوروں کے لیے 5 کلوگرام ایل پی جی سلنڈروں کی مسلسل ترسیل کو یقینی بنا رہی ہیں
مرکزی حکومت نے ریاستی حکومت کو 3744 کلو لیٹر مٹی کا تیل مختص کیا ہے
ریاست کے پاس آئندہ خریف سیزن کے لیے 25.58 لاکھ میٹرک ٹن کیمیائی کھادوں کا وافر ذخیرہ موجود ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 APR 2026 7:08PM by PIB Delhi
ممبئی، 6 اپریل 2026:
مغربی ایشیا میں ابھرتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال اور عالمی توانائی کی فراہمی کے سلسلے (سپلائی چین) پر اس کے ممکنہ اثرات کے پیش نظر، حکومتِ مہاراشٹر نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی) کے ساتھ مل کر ریاست بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے ہیں۔ ریاست میں ایندھن کی سپلائی کی موجودہ صورتحال پر او ایم سی اور ریاستی حکومت کے متعلقہ محکموں کی ایک مشترکہ پریس بریفنگ آج ممبئی میں ریاستی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوئی۔ میڈیا بریفنگ سے ایڈیشنل چیف سکریٹری، محکمہ خوراک، شہری سپلائی اور تحفظِ صارفین، حکومتِ مہاراشٹر جناب انل ڈگی کر؛ کنٹرولر آف راشننگ اینڈ ڈسٹری بیوشن اور ڈائریکٹر سول سپلائیز جناب چندرکانت ڈانگے؛ ڈائریکٹر زراعت (ان پٹ اینڈ کوالٹی کنٹرول) حکومتِ مہاراشٹر جناب سنیل بورکر؛ اور ڈپٹی جنرل منیجر، بھارت پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ و ریاستی کوآرڈینیٹر برائے او ایم سی مہاراشٹر جناب امیش کلکرنی نے خطاب کیا۔
سرکاری حکام نے تصدیق کی ہے کہ پیٹرول، ڈیزل یا گھریلو ایل پی جی کی کوئی قلت نہیں ہے اور سپلائی کا نظام خوش اسلوبی سے کام کر رہا ہے۔ ریاست کا ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک، جسے متعدد ایل پی جی بوٹلنگ پلانٹس اور مربوط لاجسٹکس کی مدد حاصل ہے، بغیر کسی تعطل کے صارفین کی طلب کو پورا کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔

جناب چندرکانت ڈانگے، کنٹرولر راشن ڈسٹری بیوشن اور ڈائریکٹر سول سپلائیز کو پیٹرولیم مصنوعات کی ہموار فراہمی اور مجموعی پیٹرولیم سپلائی مینجمنٹ کے لیے نوڈل آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔ ذخیرہ اندوزی، کالابازاری اور غیر قانونی منتقلی کے خلاف نافذ العمل کارروائیوں کو تیز کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد ضبطیاں عمل میں آئی ہیں اور متعدد مقدمات درج کئے گئے ہیں اور گرفتاریاں ہوئی ہیں۔
حکومتِ مہاراشٹر نے ریاست بھر میں پی این جی نیٹ ورک کی تیز رفتار توسیع کو یقینی بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ریاستی حکومت نے ان علاقوں میں واقع گھروں اور تجارتی اداروں کے لیے، جہاں پی این جی کا بنیادی ڈھانچہ پہلے سے دستیاب ہے، ایل پی جی سلنڈر سے پی این جی پر منتقل ہونے کے لیے 30 جون 2026 کی آخری تاریخ مقرر کی ہے۔
وسائل کے دانشمندانہ اور منصفانہ استعمال کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، حکومت نے کمرشل ایل پی جی کے لیے ایک منظم اور مرحلہ وار ایلوکیشن فریم ورک نافذ کیا ہے۔
پہلے مرحلے میں، بقیہ کمرشل ایل پی جی کا 20 فیصد حصہ ضروری شعبوں کو ترجیح دیتے ہوئے مختص کیا گیا ہے۔ ضلع کلکٹروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، سرکاری اداروں، دفاعی خدمات اور عوامی شعبے کے آپریشنز جیسے اہم اداروں کو سپلائی یقینی بنائیں۔ کمزور طبقات کے لیے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کی خاطر کمیونٹی کچنز اور فلاحی فوڈ سروسز کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔
دوسرے مرحلے کے لیے 'سٹی گیس ڈسٹری بیوشن' (سی جی ڈی) نیٹ ورک کی توسیع کی خاطر طویل مدتی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ ان کے نفاذ پر، توقع ہے کہ مہاراشٹر تجارتی استعمال کے لیے ایل پی جی کے اضافی 10 فیصد کوٹے کا اہل ہو جائے گا۔ یہ تجویز فی الوقت ریاستی حکومت کے زیرِ غور ہے۔
تیسرے مرحلے کے لیے کمرشل ایل پی جی کے مزید 20 فیصد کوٹے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس مرحلے کے تحت ترجیحی شعبوں میں ہوٹل، ڈھابے، ریستوراں، صنعتی کینٹین، فوڈ پروسیسنگ اور ڈیری کی صنعتیں، سرکاری اداروں کے زیرِ انتظام سبسڈی والی کینٹین اور کمیونٹی کچنز شامل ہیں۔
اس کے علاوہ چوتھے مرحلے میں مزید 20 فیصد کوٹے کی منظوری دی گئی ہے، جس میں اسٹیل، آٹوموبائل، ٹیکسٹائل، ڈائی، کیمیکل اور پلاسٹک جیسے محنت سے متعلق شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے، تاکہ صنعتی کاموں کے تسلسل اور روزگار کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
تیل صنعت کے ریاستی کوآرڈینیٹر، جناب امیش کلکرنی نے بتایا کہ مہاراشٹر میں پیٹرول اور ڈیزل کی دستیابی تسلی بخش ہے اور ریاست میں ایندھن کی سپلائی کے حوالے سے تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔
مہاراشٹر میں اس وقت 23 ایل پی جی پلانٹس کام کر رہے ہیں جو تقریباً 3.5 کروڑ صارفین کی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔ گھریلو ایل پی جی کی سپلائی مستحکم ہے اور سلنڈر کی دستیابی میں کوئی کمی نہیں دیکھی گئی ہے۔ اس سے قبل اوسط یومیہ سپلائی تقریباً 5.9 لاکھ سلنڈر تھی، جو اب بھی تقریباً 5.8 لاکھ سلنڈر پر برقرار رکھی جا ہی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ سپلائی میں کوئی بڑی رکاوٹ نہیں آئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مرکزی اور ریاستی دونوں حکومتیں دیگر ریاستوں کے مزدوروں کے لیے 5 کلوگرام کے ایل پی جی سلنڈروں کی مسلسل ترسیل کو یقینی بنا رہی ہیں۔ باہری مزدوروں کے لیے ایل پی جی کی فراہمی میں کوئی کمی نہیں ہے اور ان کی ضروریات کو مناسب طریقے سے پورا کیا جا رہا ہے۔
مرکزی حکومت نے ریاستی حکومت کو 3744 کلو لیٹر مٹی کا تیل مختص کیا ہے۔ مذکورہ مٹی کا تیل 25 مارچ 2026 کے حکم نامے کے مطابق ضلع وار تقسیم کیا جا رہا ہے۔ مذکورہ حکم کے تحت فی خاندان 3 لیٹر مٹی کا تیل تقسیم کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ، ریاست بھر میں طویل مدتی توانائی کی کارکردگی کو بڑھانے اور ایل پی جی کے استعمال کو بہتر بنانے کے مقصد سے، پی این جی کنکشنز کی رجسٹریشن کو فروغ دینے اور اس میں اضافے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ریاستی محکمہ زراعت نے آنے والے خریف سیزن کے لیے اپنا لائحہ عمل مکمل کر لیا ہے۔ یکم اپریل 2026 تک، ریاست میں 25.58 لاکھ میٹرک ٹن کیمیائی کھادوں کا وافر ذخیرہ موجود ہے، جو سیزن کی کل ضرورت کا 52 فیصد ہے۔ سیزن کے درمیان طلب میں اچانک اضافے سے نمٹنے کے لیے، ریاستی حکومت نے ایک 'بفر اسٹاک' قائم کیا ہے اور ایم اے آئی ڈی سی اور مارک فیڈ جیسی نوڈل ایجنسیوں کے ذریعے 1.50 لاکھ میٹرک ٹن یوریا اور 25,000 میٹرک ٹن ڈی اے پی محفوظ کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ ان محفوظ ذخائر کی ترسیل اور اسٹوریج کے انتظام کے لیے 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ کالا بازاری اور مصنوعات کی غیر قانونی "لنکنگ" (مشروط فروخت) کو ختم کرنے کے لیے 34 ضلعی سطح کے فلائنگ اسکواڈز اور 483 انسپکٹرز بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
ریاستی حکومت اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی) نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ خوف زدہ نہ ہوں، کیونکہ ایندھن کی وافر مقدار برقرار رکھی جا رہی ہے۔ حکومت صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور ریاست بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کے استحکام، شفافیت اور منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیل کے لئے براہ کرم یہاں کلک کریں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔ ع و۔ن م۔
U-5656
(ریلیز آئی ڈی: 2250689)
وزیٹر کاؤنٹر : 8