خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

خواتین و اطفال کی وزارت نے زندگی کے پہلے چھ بر سوں میں دماغی نشوونما کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے آٹھویں 'پوشن پکھواڑا' کا آغاز کیا


مرکزی وزیر محترمہ اناپورنا دیوی نے دماغی  اورجسمانی نشوونما نیز مجموعی فلاح و بہبود کے لیے پہلے 1,000 دنوں کی اہمیت پر زور دیا

پوشن ماہ اور پوشن پکھواڑا نے ایک حقیقی 'جن آندولن'  کی شکل اختیار کر لی ہے، جس کے تحت ملک بھر میں کروڑوں سرگرمیاں انجام دی جارہی ہیں: محترمہ اناپورنا دیوی

ہمارے بچے قوم کا مستقبل ہیں اور 'وکست بھارت' کے عزم کو آگے بڑھائیں گے۔ یہ یقینی بنانا کہ انہیں بہتر غذائیت ملے، ایک ایسی ذمہ داری ہے جسے ہمیں ایک عوامی تحریک کے طور پر مل کر آگے بڑھانا چاہیے: محترمہ اناپورنا دیوی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 09 APR 2026 11:07PM by PIB Delhi

سال 2018 میں 'پوشن ابھیان' کے آغاز سے اب تک، جن آندولن کے تحت کی جانے والی مستقل کوششوں کے نتیجے میں ملک بھر میں 150 کروڑ سے زائد بیداری پروگرام اور 9.8 کروڑ سے زیادہ کمیونٹی پر مبنی تقریبات منعقد ہو چکی ہیں۔ اسی رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے، پوشن پکھواڑا 2026 کا مقصد وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے وژن کے مطابق بہتر غذائیت، ابتدائی بچپن کی نشوونما اور بچوں کے لیے بہتر نتائج کی جانب بیداری اور اجتماعی کارروائی کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

اس قومی تحریک کے تسلسل میں، خواتین و اطفال کی وزارت نے آج (9 اپریل 2026) وگیان بھون میں پوشن پکھواڑا کے آٹھویں ایڈیشن جو لانچ کیا، جو کہ 9 اپریل سے 23 اپریل 2026 تک جاری رہنے والی ایک ملک گیر مہم کے آغاز کی علامت ہے۔

1.jpg

افتتاحی تقریب کی صدارت خواتین اور بچوں کی ترقی کی مرکزی وزیر محترمہ اناپورنا دیوی نے کی، جبکہ اس موقع پر وزارتِ خواتین و اطفال کی وزیر  مملکت محترمہ ساوتری ٹھاکر اور سکریٹری جناب انل ملک بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ شراکت دار وزارتوں کے نمائندوں اور تمام ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے شراکت داروں نے بھی شرکت کی۔

پوشن پکھواڑا 2026 کا موضوع "زندگی کے پہلے چھ برسوں میں دماغی نشوونما کو زیادہ سے زیادہ پروان چڑھانا" ہے، جس میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ ابتدائی بچپن، بالخصوص پہلے 1,000 دن، دماغی نشوونما، جسمانی  ترقی اور مجموعی فلاح و بہبود کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ سائنسی شواہد بتاتے ہیں کہ دماغ کی 85 فیصد سے زیادہ نشوونما 6 سال کی عمر تک ہو جاتی ہے، جو بہترین غذائیت، ذمہ دارانہ نگہداشت اور ابتدائی تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

2.jpg

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، مرکزی وزیر محترمہ اناپورنا دیوی نے اس بات پر زور دیا کہ "پوشن ماہ اور پوشن پکھواڑا نے ایک حقیقی جن آندولن کی شکل اختیار کر لی ہے، جس کے تحت ملک بھر میں کروڑوں سرگرمیاں انجام دی جا رہی ہیں۔ ہماری آنگن واڑی کارکنان، آنگن واڑی  معاونین اور آشا دیدی، وزیر اعظم کے وژن اور اہداف کو ہر گھر تک تندہی سے پہنچا رہی ہیں اور انہیں ثمر آور بنانے کے لیے اجتماعی کوششیں کر رہی ہیں۔ خواتین و اطفال  کی ترقی کی وزارت کا دائرہ اختیار بہت وسیع ہے اور ہم ملک کے ہر گھر اور ہر بچے تک پہنچ رہے ہیں۔ آج 14 لاکھ سے زیادہ آنگن واڑی مراکز کے ساتھ، ہماری آنگن واڑی دیدی حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں، نوعمر لڑکیوں اور بچوں تک ہر حال میں پہنچ رہی ہیں اور تقریباً 8.9 کروڑ مستفیدین کو خدمات فراہم کر رہی ہیں۔" انہوں نے مزید کہا، "ہمارے بچے قوم کا مستقبل ہیں اور وہی 'وکست بھارت' کے عزم کو آگے بڑھائیں گے۔ یہ یقینی بنانا کہ انہیں بہتر غذائیت ملے، ایک ایسی ذمہ داری ہے جسے ہم سب کو مل کر ایک عوامی تحریک کے طور پر آگے بڑھانا چاہیے۔" انہوں نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے سے سیکھیں، بہترین طریقوں کو اپنائیں اور اضلاع، خاص طور پر امنگوں والے اضلاع میں بہتر کارکردگی کی حوصلہ افزائی کریں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 'پوشن' ایک مسلسل عمل ہے اور بچوں کی مجموعی اور ذہنی نشوونما کے لیے زیادہ وقت، دیکھ بھال اور سماجی شرکت کی ضرورت ہے۔

وزیر مملکت محترمہ ساوتری ٹھاکر نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'وزیراعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں، 2018 سے اب تک 8 پوشن ماہ اور 7 پوشن پکھواڑے منعقد کیے جا چکے ہیں۔ یہ ملک میں غذائیت کے نتائج کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کے عزم اور لگن کی عکاسی کرتا ہے۔' پوشن پکھواڑا 2026 کے موضوع "زندگی کے پہلے چھ سالوں میں دماغی نشوونما کو زیادہ سے زیادہ پروان چڑھانا" پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ یہ عرصہ انتہائی اہم ہے، کیونکہ دماغ کی 85 فیصد سے زیادہ نشوونما ابتدائی سالوں میں ہوتی ہے، جس میں پہلے 1,000 دن خاص طور پر اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے نشاندہی  کی کہ صرف غذائیت سے آگے بڑھ کر بچوں کی ہمہ گیر نشوونما کو یقینی بنانے کے لیے ذمہ دارانہ دیکھ بھال اور ابتدائی سیکھنے کے عمل پر یکساں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت  کے سکریٹری  جناب انل ملک نے 'پوشن' یا غذائیت کی کلیدی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ غذائیت سے متعلق باخبر طریقوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، انہوں نے یاد دلایا کہ معزز وزیر اعظم نے بارہا صحت بخش کھانے کی عادات بشمول تیل کے کم استعمال اور غذائیت سے بھرپور خوراک پر توجہ دینے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

3.jpg

افتتاحی تقریب کے دوران، ابتدائی بچپن کی نگہداشت اور نشوونما کو اجاگر کرنے والے کلیدی اقدامات پیش کیے گئے، جن میں 'ودیارمبھ'  اسناد کی تقسیم اور ایک آڈیو ویژول فلم کی نمائش شامل تھی۔ یہ فلم ایک آنگن واڑی کارکن کی روزمرہ زندگی کی عکاسی کرتی ہے، جس میں آنگن واڑی مراکز پر خدمات کی فراہمی اور ابتدائی بچپن میں دی جانے والی معاونت کو دکھایا گیا ہے۔

4.jpg

جوائنٹ سکریٹری، محترمہ رادھیکا جھا نے تمام معززین اور شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے 'اظہارِ تشکر' پیش کیا اور آنگن واڑی خدمات کے فیلڈ فنکشنریز کی خصوصی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتھک محنت کی بدولت ہی 'وکست بھارت' کا خواب شرمندہ تعبیر ہو رہا ہے۔

پوشن پکھواڑا 2026 (9 اپریل سے 23 اپریل 2026) ایک ملک گیر مہم کے طور پر منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد 'مشن پوشن 2.0' کے تحت غذائیت کے بارے میں شعور بیدار کرنا، ابتدائی بچپن کی نگہداشت اور نشوونما کو بہتر بنانا اور سماجی شرکت کو مستحکم کرنا  ہے۔

افتتاحی دن، پروگرام کو این آئی سی ویب کاسٹ پلیٹ فارم (https://webcast.gov.in/mwcd ) اور وزارت کے یوٹیوب چینل کے ذریعے براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا، جس میں ملک بھر سے 4.2 لاکھ سے زائد شراکت دار، زمنی سطح پر کام کرنے والے افراد اور  دیگر شہریوں نے شرکت کی۔

حکومت ہند کی تمام وزارتیں اور محکمے، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے اشتراک سے، ملک بھر کے آنگن واڑی مراکز کے ساتھ مل کر مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کر رہے ہیں تاکہ اس سال کے موضوع کے تحت کلیدی توجہ کے شعبوں پر سماج کے مختلف طبقات کو حساس بنایا جا سکے، جن میں شامل ہیں:

  1. ماں اور بچے کی غذائیت: حمل کے دوران بہترین خوراک، خصوصی طور پر ماں کا دودھ پلانے، اور عمر کے لحاظ سے مناسب اضافی غذا کی حوصلہ افزائی کرنا۔
  2. دماغی نشوونما کے لیے ابتدائی تحریک (0 سے 3 سال): بچوں کی ذمہ دارانہ نگہداشت اور سیکھنے کے ابتدائی عمل کو فروغ دینا۔
  3. ابتدائی برسوں میں کھیل پر مبنی تعلیم (3 سے 6 سال): جامع نشوونما اور اسکول کے لیے تیاری میں تعاون کرنا۔
  4. اسکرین ٹائم کم کرنے میں والدین اور سماج  کا کردار: صحت مند عادات اور فعال مشغولیت کو فروغ دینا۔
  5. سماج کی شرکت کے ذریعے آنگن واڑی مراکز کی مضبوطی: جن بھاگی داری اور سی ایس آر  کے ذریعے بنیادی ڈھانچے اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا۔

پکھواڑے کے دوران، ملک بھر کے آنگن واڑی مراکز آگاہی سیشنز کی میزبانی کر رہے ہیں، گھر گھر جا کر دورے کر رہے ہیں، پوشن میلوں کا انعقاد کر رہے ہیں، زچہ کی غذائیت اور شیر خوار بچوں کو دودھ پلانے کے بارے میں مشاورت فراہم کر رہے ہیں، کھیل کے ذریعے سیکھنے کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اور فعال طرز زندگی کی ترغیب دینے اور اسکرین ٹائم کو محدود کرنے کے لیے سماجی سرگرمیاں عمل میں لا رہے ہیں۔

یہ مہم آنگن واڑی کارکنوں، آشا  ورکرز، اے این ایمز ، سیلف ہیلپ گروپس، اساتذہ، پنچایتی راج اداروں اور سماج کے مختلف طبقات کو متحرک کرتی ہے، جو 'جن آندولن'  کے نقطہ نظر کو تقویت دیتی ہے اور غذائیت و بچوں کی نشوونما کے نتائج کو بہتر بنانے کے لیے اجتماعی جدوجہد کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

پوشن پکھواڑا سماج  کی شرکت اور طرزِ عمل میں تبدیلی کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر جاری ہے، جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہر بچے کو زندگی کے اہم ترین برسوں کے دوران مناسب غذائیت، دیکھ بھال اور ابتدائی تعلیم کے مواقع میسر آئیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ ع و۔ن م۔

U-5652


(ریلیز آئی ڈی: 2250680) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati