وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

کثیر شعبہ جاتی مہم، رن سمواد پر دو روزہ قومی سمپوزیم کا بنگلورو میں افتتاح


ایم ڈی او کا مطلب چھ شعبوں میں بیک وقت کارروائی نہیں بلکہ ایک مسلسل اور متحرک باہمی تعامل ہے، جہاں اہمیت بدلتی رہتی ہے اور قیادت بھی تبدیل ہوتی رہتی ہے :بری فوج کے سربراہ

“ہم 2035 تک 200 سے زائد جہازوں پر مشتمل بحریہ بننے کی سمت میں مضبوطی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور ہر نئے شامل کیے جانے والے جہاز میں ہم آہنگی اور تکنیکی ترقی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے”: بحریہ کے سربراہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 09 APR 2026 9:17PM by PIB Delhi

تینوں افواج کی اسٹریٹجک سمپوزیم ‘‘رن سمواد’’ کا دوسرا ایڈیشن 9 اپریل 2026 کو بنگلورو میں ہیڈکوارٹر انٹیگریٹڈ ڈیفنس اسٹاف (آئی ڈی ایس) کے زیر اہتمام شروع ہوا۔ اس دو روزہ سمپوزیم کا انعقاد فضائیہ کی ٹریننگ کمان کے ذریعے کیا جا رہا ہے، جس کا افتتاح چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان نے کیا۔ سمپوزیم کا موضوع ہے: “کثیر شعبہ جاتی مہم: روایتی اور غیر روایتی خطرات سے نمٹنے کی ناگزیریت”۔ملٹی ڈومین آپریشنز (ایم ڈی او) کے تصور کا مقصد فوجی اور غیر فوجی اداروں کے مختلف شراکتداروں  کے درمیان ہم آہنگی قائم کرنا ہے، تاکہ بھارت کی مشترکہ جنگی صلاحیت کو تمام چھ شعبوں،بری، بحری، فضائی، خلائی، سائبر اورعلمی ادراک میں مضبوط بنایا جا سکے۔

چیف آف انٹیگریٹڈ ڈیفنس اسٹاف ٹو دی چیئرمین، چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی آئی ایس سی) ایئر مارشل آشوتوش دکشت نے اپنے کلیدی خطاب میں ملٹی ڈومین آپریشنز (ایم ڈی او) پر مبنی بھارت کے فوجی مستقبل کے لیے ایک انقلابی وژن پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کی نوعیت بنیادی طور پر بدل چکی ہے اور اب یہ سلسلہ وار نہیں رہی، بلکہ خلاء، سائبر اسپیس، برقی مقناطیسی میدان اور ادراکی دائرے میں بیک وقت لڑی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے لیے ملٹی ڈومین آپریشنز کوئی مستقبل کا تصور نہیں بلکہ موجودہ وقت کی ایک لازمی ضرورت ہے۔

جدید دور کو “ٹکڑوں میں بٹا ہوا، غیر اعلانیہ عالمی جنگ” قرار دیتے ہوئے بری فوج کے سربراہ (سی او اے ایس) جنرل اوپیندر دویدی نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ کا میدان اب صرف نقشوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ ایک کثیر سطحی اور پیچیدہ، خود کو ڈھالنے والا نظام بن چکا ہے۔انہوں نے “مسلسل تنازع” والی دنیا کی حقیقت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اب ایک زمینی فوج کے کمانڈر کو مختلف شعبوں میں پھیلی جنگ کو سمجھنا ہوگا اور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کارروائیوں کے دوران یہ شعبے آپس میں کس طرح تعامل کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ فوج ملٹی ڈومین آپریشنز (ایم ڈی او) کو محض ایک تصور سے آگے بڑھا کر حقیقی صلاحیت میں تبدیل کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، ایم ڈی او کا مطلب چھ شعبوں میں بیک وقت کارروائی نہیں، بلکہ یہ ایک مسلسل اور متحرک باہمی تعامل ہے، جہاں اہمیت بدلتی رہتی ہے اور قیادت بھی تبدیل ہوتی رہتی ہے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ فوج “ڈومین کی علیحدگی” سے آگے بڑھ کر مکمل “ڈومین فیوژن” کی طرف بڑھ رہی ہے، جس کے لیے انضمام، معلوماتی نظام اور ذہانت پر مبنی عمل  کو تیز کیا جا رہا ہے۔

آپریشنل کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے جنرل اوپیندر دویدی نے بتایا کہ بھارتی فوج نے انٹیگریٹڈ بیٹل گروپس (آئی بی جی)، دیوی استر ڈرون بیٹریز اور کمانڈ سائبر آپریشنز سیلز سمیت متعدد صلاحیتوں کو عملی شکل دی ہے۔ انہوں نے ایک نئی کمانڈ کلچر کی ضرورت پر زور دیا، جہاں قیادت کو “صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنے کے بجائے اس پر کمانڈ حاصل ہونی چاہیے”، تاکہ فیصلہ سازی میں برتری یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ آپریشن سندور نے بھارت کی یکجہتی کو ثابت کیا ہے، لیکن حتمی مقصد ایک ایسے بے مثال “مکمل قوم” کا قیام ہے، جہاں مختلف شعبوں کے درمیان حدیں مکمل طور پر ختم ہو جائیں۔

اپنے خطاب میں بحریہ کے سربراہ ایڈمرل دنیش کے ترپاٹھی نے ملٹی ڈومین آپریشنز کا ایک جامع بحری تصور پیش کیا، جس میں جدید بحری حکمت عملی کو ٹیکنالوجی کے امتزاج اور کوٹلیہ کی سوچ دونوں کی بنیاد پر واضح کیا گیا۔ انہوں نے جدید سمندری میدان کو سمندر کی گہرائیوں سے لے کر خلاء تک پھیلے ایک باہم مربوط نیٹ ورک کے طور پر بیان کیا۔ انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ کس طرح سمندری جنگ کا میدان اب ایک گنجان، شفاف اور گہرائی سے جڑا ہوا نظام بن چکا ہے، جو رفتار، پیمانے اور بیک وقت ہونے والی سرگرمیوں سے تشکیل پاتا ہے۔

بحریہ کے سربراہ نے کہا کہ بھارتی بحریہ 2035 تک 200 سے زائد جہازوں پر مشتمل بحریہ بننے کی سمت میں مضبوطی سے پیش قدمی کر رہی ہےاور شامل کیے جانے والے ہر نئے جہاز میں ہم آہنگی اور تکنیکی ترقی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس کے ساتھ ساتھ بحریہ “انڈین نیوی وژن فار ان مینڈ سسٹمز 30-2022” کے مطابق مختلف شعبوں میں بغیر عملے اور خودکار نظام کے ذریعے اپنی فلیٹ کی صلاحیتوں کو مزید بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

یہ دو روزہ قومی سمپوزیم تینوں افواج کے درمیان باری باری ہر سال منعقد کیا جاتا ہے۔ اس میں تینوں افواج کے سینئر افسران، ماہرینِ تعلیم، تھنک ٹینکس کے ماہرین، صنعت کے معروف نمائندے اور دوست ممالک کے سفارتی اہلکار شریک ہوتے ہیں اور مختلف موضوعات پر تبادلۂ خیال کے سیشنز میں حصہ لیتے ہیں۔یہ سمپوزیم 10 اپریل 2026 کو ایک مشترکہ اور تعاون پر مبنی روڈ میپ کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا، جس کا مقصد بھارتی مسلح افواج کو کثیر شعبہ جاتی جنگ کے لیے تیار کرنا ہے۔

*********

 ش ح۔ ع ح۔ ش ت

Urdu No-5648


(ریلیز آئی ڈی: 2250677) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Kannada