نیتی آیوگ
تحقیق کی منتقلی اور پیداوارکے لیے ادارہ جاتی ڈھانچے اور عمل پر قومی سطح کا مشاورتی اجلاس
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
08 APR 2026 4:03PM by PIB Delhi
نیتی آیوگ نے 6 اپریل 2026 کو نیتی آیوگ، نئی دہلی میں ڈاکٹر وی کے سرسوت ممبر (ایس اینڈ ٹی)، نیتی آیوگ کی صدارت میں ایک قومی سطح کی مشاورتی میٹنگ منعقدکی، جس کا موضوع’تحقیق کی منتقلی اور پیداوارکے لیے ادارہ جاتی ڈھانچے اور عمل‘‘تھا۔ اس میٹنگ میں ممتاز ریسرچ پارکس، اختراعی مراکز (انوویشن ہبز) اور ایس اینڈ ٹی کلسٹرز کے ڈائریکٹرز اور سی ای او حضرات کی ایک باوقار مجلس جمع ہوئی، تاکہ تحقیقی نتائج کی منتقلی اور پیداوارکے لیے مختلف ادارہ جاتی ماڈلز اور طریقہ کار پر اجتماعی طور پر غور و خوض کیا جا سکے۔ پروفیسر وویک کمار سنگھ، پروگرام ڈائریکٹر (ایس اینڈ ٹی) نے تمام شرکاء کا استقبال کیا اور میٹنگ کا پس منظر بیان کرتے ہوئے اس ضرورت پر زور دیا کہ ایسے مناسب ادارہ جاتی ڈھانچے اور سازگار عمل تیار کیے جائیں جو مختلف اداروں میں پیدا ہونے والے علم کو قابل استعمال ٹیکنالوجیز اور مصنوعات میں تبدیل کرنے میں آسانی پیدا کریں۔
ڈاکٹر وی کے سرسوت نے اپنے افتتاحی کلمات میں ہندوستانی سائنس اور ٹیکنالوجی کے ایکو سسٹم میں صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان موجود نمایاں خلیج کو اجاگر کیا اور صنعت و تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے اور اسے تیز کرنے کے لیے مددگار عوامل کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈاکٹر سرسوت نے مزید کہا کہ اس وقت ہندوستانی صنعت باہر سے ٹیکنالوجیز درآمد کرنا جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے نتیجے میں غیر ملکی فراہم کنندگان پر انحصار بڑھ رہا ہے اور اختراعی نظام کمزور ہو رہا ہے۔ انہوں نے نظامی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ایک مضبوط فریم ورک اور پیمائش کے قابل معیار تیار کرنے کی اپیل کی تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ ریسرچ پارکس اور انوویشن ہب کس حد تک مؤثر طریقے سے تحقیق کی منتقلی میں سہولت فراہم کر رہے ہیں اور ایسے ماڈلز کو ملک بھر میں کس طرح بڑے پیمانے پر پھیلایا جا سکتا ہے۔
میٹنگ دو تکنیکی سیشنز پر مشتمل تھا، جس میں مختلف ادارہ جاتی ڈھانچوں سے تعلق رکھنے والے ڈائریکٹرز اور سی ای اوز نے تفصیلی پیشکشیں دیں۔ ان میں آندھرا پردیش میڈ ٹیک زون(اے ایم ٹی زیڈ)، سینٹر فار سیلولر اینڈ مالیکیولر پلیٹ فارمز(سی سی اے ایم پی)، آرٹ پارک (اے آر ٹی پی اے آر ک) آئی آئی ایس سی بنگلور، آئی آئی ٹی مدراس ریسرچ پارک، ایسپائر (اے ایس پی آئی آر ای) آئی آئی ٹی بمبئی اور آئی آئی ٹی کانپور، رورکی، اندور، حیدرآباد، گاندھی نگر اور روپڑ کے ریسرچ پارکس اور ٹیکنالوجی کی ترقی و منتقلی کے ڈھانچے شامل تھے۔ میٹنگ میں دو ممتاز سی ایس آئی آر (سی ایس آئی آر) لیبارٹریز کے ڈائریکٹرز، یعنی سی ایس آئی آر-انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پیٹرولیم سے ڈاکٹر ایچ ایس بشٹ اور سی ایس آئی آر-انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کیمیکل ٹیکنالوجی سے ڈاکٹر سری نواس ریڈی کی پیشکشیں بھی شامل تھیں۔ بی آئی آر اے سی کے ایم ڈی ڈاکٹر جتیندر کمار نے بھی اس میٹنگ میں شرکت کی اور اختراع کے مختلف مراحل پر ضروری منتقلی اور منتقلی کے ڈھانچوں کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اجلاس میں پرنسپل سائنٹیفک ایڈوائزر (پی ایس اے) کے دفتر، سائنسی اور صنعتی تحقیق کے محکمے (ڈی ایس آئی آر) اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے محکمے(ڈی ایس ٹی) کے سینئر سائنسداں اور ڈویژن سربراہان نے بھی شرکت کی۔
معزز شرکاء نے تحقیق کی منتقلی کے نظام (ایکوسسٹم) کو مضبوط بنانے اور صنعت و تعلیمی اداروں کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ٹھوس تجاویز پیش کیں، جیسے کہ ریسرچ اور انوویشن پارکس میں جانچ (ٹیسٹنگ)، پروٹوٹائپنگ اور بینچ مارکنگ کی سہولیات کا قیام، آر اینڈ ڈی اداروں میں موثر بزنس ڈیولپمنٹ گروپس کی تشکیل، تعلیمی اداروں کے آر اینڈ ڈی دفاتر میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر آفس (ٹی ٹی او) کے موثر نظام کو شامل کرنا، صنعت کی ضروریات پر مبنی پی ایچ ڈی پروگراموں جیسے امکانات کا جائزہ لینا اور ٹیکنالوجیز کو’وادیِ مرگ‘ (ویلی آف دیتھ) کے مشکل مراحل سے نکالنے کے لیے بہتر مالی امداد کی فراہمی۔ اس کے علاوہ ٹیکنالوجی ریڈینیس لیول (ٹی آر ایل) کی تشخیص اور اس مقصد کے لیے باقاعدہ نامزد اداروں کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے ریسرچ ڈیولپمنٹ اینڈ انوویشن فنڈ(آر ڈی آئی ایف) کے آغاز کو سراہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ مختلف ٹیکنالوجی شعبوں میں اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ایز کے لیے ایک بہترین مالی معاونت کا نظام ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر سرسوت نے اپنے اختتامی کلمات میں تمام معزز شرکاء کے تعاون کو سراہا اور ملک میں تحقیق کی منتقلی کے نظام کی تشخیص اور اسے مضبوط بنانے کے لیے ایک ٹھوس فریم ورک کی تیاری کے حوالے سے گہری بصیرت اور عملی تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے شرکاء کو یقین دلایا کہ نیتی آیوگ اداروں، صنعت اور حکومت کے درمیان مربوط کوششوں کے لیے پرعزم ہے تاکہ ایک ایسا نظام تیار کیا جا سکے ،جو ملک کی ٹیکنالوجی سے متعلق ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اختراع، تحقیق کی منتقلی اور ٹیکنالوجی کی ترقی کو آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
**** *****
UR-5564
(ش ح۔ م ع ن ۔ص ج)
(ریلیز آئی ڈی: 2250095)
وزیٹر کاؤنٹر : 14