کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

حکومت نے مینوفیکچرنگ کی صلاحیت بڑھانے کے لیے خصوصی اقتصادی زونز میں تیار شدہ اشیاء کو گھریلو محصولاتی علاقے میں فروخت کے لیے مشروط کسٹمزڈیوٹی میں چھوٹ کا نوٹیفکیشن جاری کیا


اس اقدام سے تقریباً 1,200 خصوصی اقتصادی زون کی یونٹس کو فائدہ پہنچے گا؛ اس سے بڑے پیمانے پر پیداوار کرنے، لاگت کم کرنے اورلچک میں اضافہ ہوگا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 APR 2026 8:20PM by PIB Delhi

بجٹ 2026 کے اعلان کے مطابق عالمی تجارتی رکاوٹوں سے متاثرہ مینوفیکچرنگ یونٹس کی صلاحیت کے بہتر استعمال کو فروغ دینے کے لیے خصوصی اقتصادی زونز(ایس ای زیڈز) میں تیار شدہ اشیاء کو گھریلو محصولاتی علاقے(ڈی ٹی اے) میں فروخت کے لیے کسٹمز میں مشروط چوٹ کے لیے نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے۔ اس اقدام سے تقریباً 1,200 خصوصی اقتصادی زون کی مینوفیکچرنگ یونٹس کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ اس سے انہیں بڑے پیمانے پر پیداوارکوبڑھانے، لاگت کم کرنے اور اپنی لچک کو بڑھانے میں مدد ملے گی، ساتھ ہی خصوصی اقتصادی زونز کی برآمدی نوعیت بھی برقرار رہے گی۔

اس اقدام سے اہل خصوصی اقتصادی زون کی مینوفیکچرنگ یونٹس کو اشیاء کو  ڈی ٹی اے میں رعایتی کسٹمز شرحوں پر فروخت کرنے کی اجازت ملتی ہے، بشرطیکہ یہ حد پچھلے تین مالی سالوں میں سے کسی بھی سال میں حاصل شدہ سب سے زیادہ سالانہ فری آن بورڈ (ایف او بی) برآمدی قیمت کے 30 فیصد سے زیادہ نہ ہو۔ دوہرا فائدہ حاصل ہونے سے بچانے کے لیے ایسی مال کلیئرنس پر ان پٹ پر ڈیوٹی ریڈبیک جیسے برآمدی فوائد کی اجازت نہیں ہے۔

اس نوٹیفیکیشن میں اہلیت کی کلیدی شرائط مقرر کی گئی ہیں، جن میں خصوصی اقتصادی زون کے اندر کم از کم 20 فیصد قیمت میں اضافہ شامل ہے، جس کی گنتی قابل جائزہ قدر اور ان پٹ لاگت کی بنیاد پر متعین فارمولا استعمال کرتے ہوئے کی جاتی ہے۔

رعایتی فریم ورک میں معدنی مصنوعات؛ کیمیائی مصنوعات؛ پلاسٹک اور ربڑ؛ کھالیں اور چمڑا، چمڑے کی مصنوعات اور فر اسکن کی اشیاء؛ لکڑی، کارک (پرت)اور کاغذ؛ ٹیکسٹائل اور ٹیکسٹائل سے بنی اشیاء؛ جوتے اور سر کی پوشاک؛ پتھر، سیرامک اور شیشہ؛ بنیادی دھاتیں اور ان سے بنی اشیاء؛ مشینری اور برقی آلات؛ گاڑیاں، ہوائی جہاز اور نقل و حمل کے آلات؛ آپٹیکل، طبی اور سائنسی آلات؛ ہتھیار اور گولہ بارود؛ اور دیگر متفرق تیار شدہ اشیاءجیسے شعبے کی اشیا شامل ہیں۔ تاہم زراعت (سمندری اور پروسیس شدہ خوراک کی مصنوعات، تمباکو وغیرہ سمیت)، سنگ مرمر اور گرینائٹ، جواہرات اور زیورات، گاڑیاں، کھلونے اور پٹرولیم جیسےشعبے کی اشیااس میں شامل نہیں کی گئی ہیں۔

رعایتی ڈیوٹی کے فوائد حاصل کرنے کے لیے ایس ای زیڈیونٹس کو ضروری ہے کہ وہ ڈیولپمنٹ کمشنر کا سرٹیفیکیٹ فراہم کریں جو شرائط کی تعمیل کی تصدیق کرے، ساتھ ہی ایک  اعلامیہ(ڈکلیرنس) بھی دیں کہ شرائط پوری نہ ہونے کی صورت میں مکمل ڈیوٹی ادا کی جائے گی۔ ان یونٹس کا  ایس ای زیٹڈضابطہ، 2006 کے تحت آڈٹ بھی کیا جائے گا۔ نوٹیفیکیشن یکم اپریل 2026 سے 31 مارچ 2027 تک مؤثر ہے۔

مندرجہ بالا کو نوٹیفیکیشن نمبر 11/2026-کسٹمز مورخہ 31 مارچ 2026 کے ذریعے نافذ کیا گیا ہے، جو کسٹمز ایکٹ، 1962 کے سیکشن 25(1) کے تحت جاری کیا گیا تھا۔ اس نوٹیفیکیشن کے تحت ایس ای زیڈز میں تیار شدہ اور ڈی ٹی اے میں کلیئر کی جانے والی اشیاء پر مشروط کسٹمز ڈیوٹی میں چھوٹ دی گئی ہے، جس میں رعایتی ڈیوٹی کی شرحیں اور بعض صورتوں میں زرعی بنیادی ڈھانچوںاور ترقیاتی محصول سے جزوی چھوٹ شامل ہے۔ یہ ان یونٹس پرنافذ ہوتا ہے، جس نے 31 مارچ 2025 یا اس سے پہلے پیداوار کا آغاز کیا ہو اور متعین شدہ شرائط پوری کی ہوں، جبکہ فری ٹریڈ ویئر ہاؤسنگ زون (ایف ٹی ڈبلیو زیڈ) یونٹس اور وہ اشیاء جو  ایس ای زیڈز میں درآمد کی گئی ہوں اور مناسب مینوفیکچرنگ کے بغیر ڈی ٹی اے میں کلیئر کی گئی ہوں، اس میں شامل نہیں ہیں۔

اسپیشل اکنامک زونز ایکٹ، 2005 کے سیکشن 30 کے مطابق، ایس ای زیڈزسے  ڈی ٹی اے میں اشیاء کی کلیئرنس کو ہندوستان میں درآمدات کے طور پر شمار کیا جاتا ہے اور اس پر متعلقہ کسٹمز ڈیوٹیز عائد ہوتی ہیں، جس نے  ایس ای زیڈ مینوفیکچررز کی مسابقت کو متاثر کیا تھا۔ موجودہ اقدام اس مسئلے کو حل کرتا ہے ،جبکہ ڈی ٹی اے میں کام کرنے والے یونٹس کے لیے مساوی مواقع کو یقینی بناتا ہے۔

 

***

ش ح۔ م ع ن۔ ص ج

U.NO.5550


(ریلیز آئی ڈی: 2250052) وزیٹر کاؤنٹر : 29
یہ ریلیز پڑھیں: English , Marathi , हिन्दी