PIB Headquarters
سادھنا سپتاہ 2026
عوام دوست حکمرانی کیلئےصلاحیت سازی کو مستحکم کرنا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
04 APR 2026 3:30PM by PIB Delhi
کلیدی نکات
-
سادھنا سپتاہ 2026 کا انعقاد 2 تا 8 اپریل 2026 تک ایک قومی سطح کی صلاحیت سازی کی مہم کے طور پر کیا جا رہا ہے۔
-
اس میں 100 سے زائد مرکزی وزارتیں/محکمے/ادارے، 36 ریاستیں/مرکزی زیرِ انتظام علاقے اور 250 سے زائد تربیتی اداروں کی فعال شرکت ہے۔
-
مشن کرم یوگی نے آئی جی او ٹی پلیٹ فارم پر 1.5 کروڑ سے زائد سیکھنے والوں کو جوڑا ہے، جنہوں نے 8 کروڑ سے زائد کورس مکمل کیے ہیں اور 4,600 سے زائد کورسز مختلف زبانوں میں دستیاب ہیں۔
-
یہ بنیادی طور پر تین موضوعات پر مرکوز ہے: ٹیکنالوجی، روایت اور ٹھوس نتائج۔
-
اس ہفتے کے دوران کرم یوگی صلاحیت کنیکٹ، اونتی پورٹل اور اے آئی سے معاون تدریسی آلات سمیت اہم پہلوں کا آغاز کیا جائے گا۔
|
تعارف

بھارت کی سب سے بڑی اشتراکی صلاحیت سازی کی پہل میں سے ایک کے طور پرقومی ترقی کیلئے ہم آہنگ پیش رفت اور انسانی استعداد کی مضبوطی (سادھنا) ہفتہ 2026، کا انعقاد 2 تا 8 اپریل 2026 تک کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد عوامی خدمت پر مبنی طرزِ حکمرانی کے لیے ضروری مہارتوں کو فروغ دینا ہے۔یہ پہل محکمہ عملہ و تربیت، صلاحیت سازی کمیشن اور کرم یوگی بھارت کی جانب سے منعقد کی گئی ہے، جس نے ذمہ دار اور شہری مرکوز حکمرانی کو فروغ دینے کے لیے مرکزی وزارتوں، ریاستوں و مرکزکے زیرِ انتظام علاقوں اور تربیتی اداروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔ “ہم بنیں کرم یوگی” کے ٹیگ لائن کے ساتھ یہ پہل صلاحیت سازی کمیشن کی یومِ تاسیس اور مشن کرم یوگی کے پانچ سال مکمل ہونے کی علامت بھی ہے۔
مشن کرم یوگی: عوام پر مرکوز حکمرانی کیلئے صلاحیت سازی
سادھنا ہفتہ، مشن کرم یوگی کے تحت ایک اہم اقدام ہے، جسے‘نیشنل پروگرام فار سول سروسز کیپیسٹی بلڈنگ’کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ایک مرکزی شعبے کی اسکیم ہے جس پر ‘محکمہ عملہ و تربیت’ عمل درآمد کر رہا ہے، جس کا مقصد ضوابط پر مبنی طرزِ عمل کے بجائے کردار پر مبنی اور صلاحیتوں کے حامل طریقہ کار کو اپنا کر ایک ایسی سول سروس تیار کرنا ہے جو مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ، شفاف اور عوام دوست ہو۔ یہ مشن وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد حکومت کی انسانی وسائل کی بنیادوں کو مضبوط بنا کر طرزِ حکمرانی کو تبدیل کرنا ہے۔ اس کی توجہ صلاحیت سازی اور قابلیت پر مبنی سیکھنے کے عمل پر مرکوز ہے تاکہ سرکاری اہلکار درست مہارتوں، مثبت ذہنیت اور جوابدہی کے ساتھ لیس ہوں اور شہریوں کے لیے بہتر نتائج اور خدمات کی فراہمی کو یقینی بنا سکیں۔
اس مشن کو دو اداروں کی معاونت حاصل ہے۔ کیپیسٹی بلڈنگ کمیشن، جو 2021 میں قائم کیا گیا، وزارتوں، محکموں اور تنظیموں کو ان کے صلاحیت سازی کے منصوبوں کی تیاری اور نفاذ میں مدد دیتا ہے، جبکہ کرم یوگی بھارت اسپیشل پرپز وہیکل، جو 2022 میں قائم کیا گیا، آئی جی او ٹیڈیجیٹل لرننگ پلیٹ فارم کے انتظام اور اسے چلانے کا ذمہ دار ہے۔ کیپیسٹی بلڈنگ کمیشن(سی بی سی)مشن کرم یوگی فریم ورک کا نگراں ہے، جس کا کام صلاحیت سازی اور قابلیت پر مبنی تعلیم کے ذریعے سول سروس اصلاحات کو آگے بڑھانا ہے۔ یہ انفرادی اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کو نکھارنے، عوام دوست طرزِ حکمرانی کو فروغ دینے اور عوامی انتظامیہ کے تمام طبقات میں تاحیات سیکھنے کے کلچر کو پروان چڑھا کر حکومت کی انسانی وسائل کی بنیادوں کو مضبوط بنانے کے لیے کام کرتا ہے۔ کمیشن ایسے فریم ورک ڈیزائن کرتا ہے اور معیار وضع کرتا ہے جو نظامِ حکومت کو زیادہ شفاف، جوابدہ اور مستقبل کے لیے تیار بناتے ہیں۔
مشن کرم یوگی کا ایک اہم حصہ آئی جی او ٹی کرم یوگیڈیجیٹل لرننگ پلیٹ فارم ہے جو طرزِ عمل، فنکشنل اور ڈومین کے شعبوں میں آن لائن تربیت فراہم کرتا ہے، جس سے سرکاری ملازمین کسی بھی وقت اور کہیں سے بھی سیکھ سکتے ہیں۔ یہ مشن حکومت ہند کی تمام وزارتوں اور محکموں میں موجودہ سول سروس ٹریننگ اداروں اورآئی جی او ٹی پلیٹ فارم کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔ صلاحیت سازی کی کوششیں بنیادی طور پر اسی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے انجام دی جاتی ہیں، جبکہ انفرادی وزارتیں اور محکمے اپنی مخصوص ضروریات کے مطابق اپنے منصوبے تیار کرتے ہیں۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران، مشن کرم یوگی نے ضوابط پر مبنی طریقہ کار سے کردار پر مبنی فریم ورک کی طرف منتقلی کے ذریعے سول سروسز میں صلاحیت سازی کے عمل کو بدل دیا ہے، جہاں اب سیکھنے کا عمل مخصوص ذمہ داریوں کے لیے درکار قابلیتوں کے عین مطابق ہے۔
مشن کرم یوگی: صلاحیت سازی میں بڑے پیمانے پر یکسر تبدیلی
مشن کرم یوگی سے گزشتہ پانچ برسوں میں صلاحیت سازی کے شعبے میں بنیادی تبدیلیاں آئی ہے۔ 1.5 کروڑ سے زیادہ سیکھنے والوں نے آئی جی او ٹی پلیٹ فارم پر رجسٹر کیا ہے، جس میں 8 کروڑ سے زیادہ کورس کی تکمیل اور متعدد زبانوں میں دستیاب 4,600 سے زیادہ کورسز تک رسائی ہے۔ اس کے علاوہ، 130 سے زیادہ صلاحیت سازی کےمنصوبےتیارکیےگئےہیں اورسیکھنےکےنتائج کوکارکردگی کےتشخیصی نظام کےساتھ مربوط کیاگیاہے۔
یہ تبدیلی اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ مؤثر حکمرانی کا دارومدار نہ صرف انتظامی علم پر ہے، بلکہ اس کے لیے طرزِ عمل کی صلاحیتیں جیسے کہ مسائل کا حل، باہمی تعاون، اختراع اور ہمدردی بھی ناگزیر ہیں۔ یہ طریقہ کار وزارتوں، محکموں اور اداروں کو تربیتی مراکز کے ساتھ مل کر صلاحیت سازی کو تنظیمی ترجیحات اور خدمات کی فراہمی کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کے قابل بناتا ہے۔
سادھنا ہفتہ بڑے پیمانے پر قابلیت پر مبنی صلاحیت سازی کو مزید تقویت دے کر اسی بنیاد پر کام کرتا ہے۔ سادھنا ہفتہ منانے کا مقصد’کرم یوگیوں‘کی پرورش کے اسی فلسفے پر زور دینا اور اس کی تجدید کرنا ہے۔ بنیادی طور پر اس اقدام کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ سول سروسز کے اندر بہتر مہارتیں اور صلاحیتیں عملی طور پر عوامی خدمات کی بہتر فراہمی کی صورت میں نظر آئیں۔ یہ اس نظریے کو پختہ کرتا ہے کہ مضبوط طرزِ حکمرانی کی بنیاد ان قابل افراد اور اداروں پر ہے جو وِکست بھارت 2047 کے وژن کی تکمیل کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔
قومی سطح پر ایک تحریک
سادھنا ہفتہ ایک متحدہ قومی فریم ورک کے تحت 100 سے زائد مرکزی وزارتوں اور محکموں، 36 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں اور 250 سے زیادہ سول سروسز ٹریننگ اداروں کو ایک جگہ جمع کرتا ہے۔ پہلی بار، حکمرانی کے مختلف طبقات میں صلاحیت سازی کی کوششوں کو ایک مشترکہ ڈھانچے کے تحت لایا گیا ہے، جس نے سیکھنے کے عمل کو ایک مشترکہ قومی تحریک میں بدل دیا ہے۔ یہ انداز ہر سطح کے افسران کی شرکت کو ممکن بناتا ہے اور ملک بھر میں خیالات کے تبادلے، بہترین طریقہ کار کی ترویج اور باہمی تعاون سے مسائل کے حل کو فروغ دیتا ہے۔ سادھنا سپتاہ کا آغاز نئی دہلی میں مشن کرم یوگی پر ایک قومی کانفرنس (نیشنل کنکلیو) سے ہو رہا ہے، جس میں حکومت کی سینئر قیادت، تربیتی اداروں کے سربراہان اور پالیسی ماہرین شریک ہو رہے ہیں۔
سادھنا سپتاہ کے تین موضوعات
سادھنا سپتاہ تین ستونوں یا ’سوتروں‘یعنی ٹیکنالوجی، روایت اور ٹھوس نتائج کے گرد ترتیب دیا گیا ہے، جس کا محور وِکست بھارت 2047 کے وژن کے حصول کے لیے درکار مہارتوں کی تیاری ہے۔
ٹیکنالوجی:3اور4 اپریل کا مرکزی موضوع ٹیکنالوجی ہوگا، جس کے دوران اس بات پر زور دیا جائے گا کہ کس طرح جدید اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ذریعے طرزِ حکمرانی کو زیادہ فعال اور عوام دوست بنایا جا سکتا ہے۔ اس میں حکمرانی کے امور میں مصنوعی ذہانت(اے آئی)کے استعمال، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی اور ’پرامپٹ انجینئرنگ‘و آٹومیشن پلیٹ فارمز جیسے جدید ٹولز کے استعمال کا جائزہ لیا جائے گا۔
روایت:5 اور6 اپریل کو’روایت‘پر توجہ مرکوز کی جائےگی۔ اس میں ہندوستانی علمی نظام(آئی کے ایس)، ہندوستانی فلسفے کے اخلاقی ڈھانچے اور سماجی بنیادوں پر مبنی طرزِ حکمرانی کی ان تاریخی مثالوں پر زور دیا جائے گا جو عصری عوامی انتظامیہ کے لیے موزوں ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ ان روایات کو موجودہ دور کے نظامِ حکومت کا حصہ بنایا جائے تاکہ اسے شہریوں کی ضروریات کے مطابق مزید بہتر بنایا جا سکے۔
ٹھوس نتائج: 7 اور8 اپریل کا مرکزی موضوع ’ٹھوس نتائج‘ہوگا۔ اس میں عوامی مفاد کی پیمائش، نگرانی کے نظام کی مضبوطی، اور اس بات کو یقینی بنانے پر توجہ دی جائے گی کہ پالیسیاں شہریوں کی زندگیوں میں واضح بہتری کا سبب بنیں۔ شہریوں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لینا، عوامی مفاد کے لیے ترجیحی شعبوں کے نتائج کی واضح وضاحت اور ڈیش بورڈ پر مبنی نگرانی اس بحث کے اہم موضوعات ہوں گے۔
سادھنا سپتاہ کے متوقع نتائج
ہفتے کے اختتام پر ہر وزارت اور محکمے سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں دو ترجیحی اقدامات، اپنے شعبے سے متعلق دو دیسی یا روایتی ماڈلز اور مالی سال 27-2026 کے لیے تین قابلِ پیمائش نتائج کے امور پیش کریں۔ بعد ازاں ان تمام تجاویز کو دس متعین کردہ شعبوں یعنی انفراسٹرکچر، وسائل، سکیورٹی و خارجہ امور، گورننس، مالیات و معیشت، ویلفیئر، تجارت، انسانی ترقی، زراعت و دیہی ترقی اور ٹیکنالوجی کے تحت ایک بین شعبہ جاتی مجموعے کی شکل دی جائے گی۔
شروع کئے جانے والے اہم اقدامات
مشن کرم یوگی کو مزید مستحکم کرنے اور سول سروسز کے نظام میں صلاحیت سازی کو گہرا کرنے کے لیے ’سادھنا سپتاہ‘ کے دوران کئی اہم اقدامات شروع کیے جا رہے ہیں:
-
کرم یوگی شمتہ کنیکٹ:اس کا مقصد منظم لرننگ ماڈیولز کے ذریعے فرنٹ لائن اہلکاروں کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے، تاکہ وہ بہتر کارکردگی اور ڈیجیٹل آگاہی کے ساتھ عوامی خدمات فراہم کر سکیں۔
-
راشٹریہ جن سیوا پروگرام:یہ پروگرام نوجوان رضاکاروں اور عہدیداروں کو سہولت کار کے طور پر تربیت دے کر نچلی سطح پر 'سیوا بھاؤ' (خدمت کے جذبے) کو فروغ دیتا ہے اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مضبوط بناتا ہے۔
-
اُنتی پورٹل:یہ پورٹل تربیتی اداروں کے لیے ایک متحدہ ڈیجیٹل ڈھانچہ فراہم کرتا ہے، جس سے پورے نظام میں ریئل ٹائم مانیٹرنگ، باہمی تعاون اور ڈیٹا پر مبنی صلاحیت سازی ممکن ہو سکے گی۔
-
آئی گوٹ لرننگ اسیسمنٹ فریم ورک:یہ ایک بھروسے پر مبنی تشخیصی نظام متعارف کراتا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ سیکھے گئے اسباق کو کام کی جگہ پر عملی طور پر نافذ کیا جائے اور طرزِ حکمرانی پر اس کے بہتر اثرات مرتب ہوں۔
-
کرم یوگی گان:یہ نغمہ لگن، خدمت اور مسلسل سیکھنے کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے، جسے تربیتی پروگراموں کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ مشن کرم یوگی کے اخلاقی اقدار کو تقویت مل سکے۔
-
اے آئی سے لیس امرت گیان کوش سوٹ:یہ مصنوعی ذہانت کے ٹولز کے ذریعے گورننس کے کیس اسٹڈیز کی تیاری اور استعمال کو بہتر بناتا ہے، جو تجزیہ کاری اور تربیتی پروگراموں میں ان کے انضمام میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
-
وِکست پنچایت کیلئے صلاحیت سازی:اس کی توجہ ای-لرننگ ماڈیولز اور اے آئی ٹولز کے ذریعے نچلی سطح پر حکمرانی کو مضبوط بنانے پر ہے تاکہ بہتر فیصلہ سازی اور خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
-
سائنسدانوں کیلئے انتظامی صلاحیت سازی:یہ ایک خصوصی پروگرام ہے جو ان سائنسدانوں کو گورننس، قیادت اور فیصلہ سازی کی مہارتوں سے لیس کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے جو انتظامی عہدوں پر منتقل ہو رہے ہیں۔
مسلسل صلاحیت سازی کیلئے سیکھنےکےطورطریقے
سادھنا سپتاہ آئی گوٹ کرم یوگی پلیٹ فارم پر منتخب کورسز، اجتماعی مباحثہ سیشنز ، موضوعاتی ویبینارز اور تربیتی اداروں کے زیرِ اہتمام عملی ورکشاپس کے ذریعے سیکھنے کے متعدد مواقع فراہم کرتا ہے۔ ان سرگرمیوں کا محور قیادت، مواصلات، ڈیٹا کا تجزیہ، پروجیکٹ مینجمنٹ اور ڈیجیٹل گورننس جیسی بنیادی مہارتیں ہیں۔
یہ اقدام طرزِ حکمرانی میں مسلسل سیکھنے کے کلچر کو تقویت دیتا ہے اور بدلتے حالات کے مطابق ڈھلنے والے مستقبل کے حامل اداروں کی تعمیر کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ وِکست بھارت 2047 کے وژن کی تکمیل کے لیے انسانی وسائل کی ترقی میں مسلسل سرمایہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیتا ہے۔
نتیجہ
سادھنا سپتاہ 2026 بھارت میں مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ سول سروسز کے نظام کی تعمیر کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ مسلسل سیکھنے، باہمی تعاون اور اختراع کی حوصلہ افزائی کے ذریعے، یہ مؤثر طرزِ حکمرانی کی بنیاد کو مضبوط کرتا ہے۔
جیسے جیسے بھارت وِکست بھارت 2047 کے وژن کی جانب بڑھ رہا ہے، یہ اقدام سول سروس کے اہلکاروں کو ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے اور شہریوں کے لیے بہتر نتائج فراہم کرنے کے لیے درکار مہارتوں اور قابلیتوں سے لیس کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔
حوالہ جات:
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2247260®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2248331®=3&lang=2
پی آئی بی ریسرچ
پی ڈی ایف میں دیکھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔ک ا۔ ن م۔
U-5476
(ریلیز آئی ڈی: 2249605)
وزیٹر کاؤنٹر : 5