سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

نئی تحقیق نے گنگا کے میدان میں  گھاس کے گل زیروں کے ذریعے بھارت کے زرعی ماضی کو سمجھنے میں مدد  دی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 06 APR 2026 3:16PM by PIB Delhi

ایک نئے طریقۂ کار کے ذریعے کھیتی  کی گئی فصلوں کے گل زیروں  اور جنگلی گھاس کے گل زیروں میں فرق کرنے کی سہولت حاصل ہوئی ہے، جو سائنس دانوں کو بھارت کے زرعی ماضی کی کہانی، بالخصوص گنگا کے وسطی میدان میں سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ  بتاتا ہے کہ انسانی معاشروں نے ہزاروں سالوں میں کس طرح زمین کی شکل تبدیل کی اوریہ  اس پر روشنی ڈالنے کا ایک طاقتور ذریعہ فراہم کرتا ہے۔

بھارت گندم اور چاول ، جو دنیا کے اہم غذائی اجزاء ہیں ، کا دوسرا سب سے بڑا پیداواری ملک ہے۔ مختلف خطوں کے لیے اناج اور غیر اناج گھاس کی بایومیٹرک حدیں قائم کرنا ضروری ہے تاکہ کھیتی شدہ اور جنگلی گھاس کے گل زیروں کی درست شناخت ممکن ہو سکے اور  جو بھارت میں ماضی کی انسانی آبادکاری اور زرعی عمل کی دوبارہ تعمیر میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

 گندم، چاول، جو، اور باجراجیسی اناج کی زیادہ تر فصلیں پوشی ( گھاس) خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، جن کے گل زیرے  جنگلی گھاس کے گل زیروں سے بہت مشابہ ہوتے ہیں۔ خوردبین  میں ، ان میں فرق کرنا طویل عرصے سے مشکل رہا ہے۔ چونکہ گل زیرہ  تلچھٹ میں محفوظ رہتا ہے، اس کے مجموعے ماضی کی زراعت، جنگلات کی کٹائی اور ہولوسین (گزشتہ 11700 سال) کے دوران آبادکاری کی معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔

گل زیرے  کی مائیکرو-مرفولوجی، خاص طور پر ذرات کا مجموعی سائز اور اینولس قطر (پورے کے گرد کا حلقہ)، ماضی میں انسانی اثرات اور پالیو ایکولوجی کی بحالی کے لیے کھیتی  کئے گئے  اناج کو جنگلی اناج سے الگ کرنے کا ایک اہم معیار ہے۔

تاہم، اب تک کوئی جامع مطالعہ نہیں کیا گیا ہے  ، جو بڑی غذائی فصلوں اور پوشی ( گھاس)  خاندان کی متعلقہ جنگلی انواع کےگل زیرے کی تفصیلی مائیکرو-مرفولوجیکل مماثلت تیار کرے۔ لہٰذا  ، فوسل انسانی نشان والے  گل زیرے  کی درست شناخت پچھلے چند ہزار سالوں کی انسانی سرگرمیوں کی دوبارہ تعمیر کے لیے انتہائی اہم ہے۔

بھارت میں اپنی نوعیت کے پہلے مطالعے میں، سائنس دانوں نے بیربل ساہنی انسٹی ٹیوٹ آف پیلیو سائنسز  ( بی ایس آئی پی ) ، جو محکمہ سائنس اور ٹیکنالوجی ( ڈی ایس ٹی  ) کا خودمختار ادارہ ہے، کے تعاون سے 22 اناج اور غیر اناج انواع کا تجزیہ کیا۔ انہوں نے لائٹ مائیکرو اسکوپی ( ایل ایم ) ، کنفوکل لیزر اسکیننگ مائیکرو اسکوپی  ( سی ایل ایس ایم ) اور فیلڈ ایمیشن اسکیننگ الیکٹران مائیکرو اسکوپی ( ایف ای ایس ای ایم ) کا استعمال کرتے ہوئے قابل اعتماد بایومیٹرک حدیں قائم کیں۔ اس مطالعے میں خاص توجہ گنگا  کے وسطی میدان پر مرکوز تھی۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف خطوں کے لیے اناج اور غیر اناج گھاس کی بایومیٹرک حدیں قائم کرنا ضروری ہے تاکہ کھیتی کی گئی اور جنگلی گھاس کو قابل اعتماد طریقے سے الگ کیا جا سکے، جس سے بھارت میں ماضی کی انسانی آبادکاری اور زرعی عمل کی درست تعمیر کے لیے ایک مضبوط وسیلہ فراہم ہوتا ہے۔ گنگا کے وسطی  میدان  ( سی جی پی  ) ، جو وسیع کھیتوں اور زرعی تنوع کا حامل ہے، اس مطالعے کے لیے موزوں علاقہ تھا۔

اس مطالعے نے محققین کو  ماضی کے ماحول کی دوبارہ تعمیر میں مدد دی اور اس بات کو جاننے میں معاونت کی کہ وہاں کون سے پودے اگتے تھے، زمین کی شکل کس طرح بدلی اور انسانی سرگرمیوں نے ماحولیاتی نظام پر کس طرح اثر ڈالا۔

یہ مطالعہ دی ہولوسین ( ایس اے جی ای پبلی کیشن ) جریدے میں شائع ہوا اور اس میں ایک واضح ‘‘ جوڑی والی  بایومیٹرک حد ’’ قائم کی گئی ہے، جہاں اناج کے  گل زیرے   کا قطر عام طور پر 46 µm سے زیادہ اور اینولس کا سائز 9 µm سے زیادہ ہوتا ہے (سوائے موتی باجرا کے، جو چھوٹا ہے)، جب کہ جنگلی گھاس ان قدروں سے کم ہوتی ہے۔

یہ فریم ورک گنگا کے وسطی میدان، بھارت کے غذائی ذخیرے، میں اناج اور غیر اناج گل زیروں کو الگ کرنے اور قدیم زرعی عمل کی ابتدا اور شدت کو درست طور پر معلوم کرنے کے لیے ایک مضبوط وسیلہ فراہم کرتا ہے۔

یہ پہلی بار ہے کہ گنگا میدان کے مقامی ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے ایسا اینالاگ تیار کیا گیا، جس سے سائنسدان مقامی شواہد کی بنیاد پر یوروپی گل زیروں کے  معیاری ڈیٹا بیس  کی بجائے علاقے کے زرعی ماضی پر انحصار  کرتے ہوئے اس کی دوبارہ تعمیر کر سکتے ہیں۔

 

image001DGYH.jpg

شکل 1: غیر اناج کے گل زیرے  کی مائیکرو-مرفولوجی

اس مطالعے کی قیادت سینئر سائنسدان ڈاکٹر سواتی ترپاٹھی نے بیربل ساہنی انسٹی ٹیوٹ آف پیلیو سائنسز  ( بی ایس آئی پی  ) ، لکھنؤ  نے کی، جس میں بوٹانیکل سروے آف انڈیا، پریاگ راج کے ڈاکٹر آرٹی گرگ ، بی ایس آئی پی کے آریہ پانڈے اور انوپم شرما، ممبئی کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف جیو میگنیٹزم  کی پرینکا سنگھ اور لکھنؤ یونیورسٹی کی انشیکا سنگھ نے تعاون کیا ۔

یہ دریافت قدیم زراعت، زمین کے استعمال اور ماحولیاتی نظام پر انسانی اثرات پر تحقیق کی درستگی میں نمایاں اضافہ کرے گی۔ یہ ماہر آثار قدیمہ اور ماحولیاتی مورخین کو یہ سمجھنے میں مدد دے گی کہ انسانوں نے کس طرح گنگا کے زرخیز میدانوں کو آہستہ آہستہ ایک بڑے زرعی مرکز میں تبدیل کیا۔

 

image002WQ03.png

شکل 2: اناج کے گل زیرے  کی مائیکرو-مرفولوجی

یہ مطالعہ بھارت کو ، خطے کے لحاظ سے پہلا واضح مخصوص سائنسی  وسیلہ فراہم کرتا ہے، جو زراعت اور انسانی آبادکاری کی ابتداء  کا بہت زیادہ درستگی کے ساتھ پتہ لگانے میں مدد دیتا ہے۔

اشاعت کا لنک: https://doi.org/10.1177/09596836251414010

 

*****

(ش ح۔  ض ر ۔ ع ا)

U.No. 5451


(ریلیز آئی ڈی: 2249411) وزیٹر کاؤنٹر : 15
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Telugu