جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

زمینی پانی کی نگرانی  سے متعلق قومی بنیادی ڈھانچہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 APR 2026 4:22PM by PIB Delhi

ملک میں زمینی پانی کی سطح اور معیار کی نگرانی باقاعدگی سے سنٹرل گراؤنڈ واٹر بورڈ(سی جی ڈبلیو بی) اور متعلقہ ریاستی حکومتوں کے ذریعے کی جا تی ہے۔  سی جی ڈبلیو بی کے پاس اس وقت ملک بھر میں تقریباً 27,000 زمینی پانی کی سطح کی نگرانی کے مراکز اور تقریباً 20,000 پانی کے معیار کی نگرانی کے مراکز کا وسیع نیٹ ورک موجود ہے۔ اس کے علاوہ ریاستی حکومتوں کے اپنے علیحدہ نگرانی مراکز بھی ہیں۔

 اس کے علاوہ، وزارت نے ملک بھر میں زمینی پانی کے مؤثر مشاہدے کے لیے جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کو مرحلہ وار  طریقے سے اختیار کیا ہے۔ نیشنل ہائیڈرولوجی پروجیکٹ (این ایچ پی )اور اٹل بھوجل یوجنا (اے بی وائی) جیسے پروگراموں کے تحت تقریباً 22,000 ڈیجیٹل واٹر لیول ریکارڈرز (ڈی ڈبلیو ایل آر) ٹیلی میٹری کے ساتھ نصب کیے گئے ہیں، جو زمینی پانی کی سطح کا ڈیٹا حقیقی وقت میں مرکزی سرورز تک منتقل کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ، وزارت کے جل شکتی ابھیان کے تحت ملک بھر کے اضلاع میں 712 جل شکتی کیندر (جے ایس کے) قائم کیے گئے ہیں، جو پانی اور زمینی پانی سے متعلق مسائل پر آگاہی پھیلانے اور مقامی سطح پر مکالمے کو فروغ دینے کے لیے کمیونٹی مراکز کے طور پر کام کرتے ہیں۔

اگرچہ “پانی” کی فراہمی سرکاری ذمہ داری ہے، تاہم مرکزی حکومت مختلف اسکیموں اور منصوبوں کے ذریعے تکنیکی اور مالی معاونت فراہم کر کے ریاستی حکومتوں کی پانی کے تحفظ اور زمینی پانی کے پائیدار انتظام کی کوششوں میں مدد کرتی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے ایکویفر میپنگ کو وسعت دینے، زمینی پانی کے تحفظ اور ری چارج کو فروغ دینے اور کمیونٹی کی شمولیت کے ذریعے وسائل کی طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں:

  1. ملک میں پانی اور زمینی پانی کے وسائل میں اضافے کے لیے حکومت کی کوششیں بنیادی طور پر جل شکتی ابھیان(جے ایس اے) کے تحت کی جا رہی ہیں، جو ایک سالانہ مشن موڈ پروگرام ہے جس کا مقصد کمیونٹی کی فعال شمولیت کے ساتھ بارش کے پانی کے ذخیرہ کرنے اور مصنوعی ری چارج کے کاموں کو فروغ دینا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، جے ایس اے کے تحت ملک بھر میں اب تک 2 کروڑ سے زائد پانی کے تحفظ اور مصنوعی ری چارج کے کام مختلف پروگراموں کے اشتراک سے انجام دیے جا چکے ہیں، جس سے زمینی پانی کے وسائل کی پائیداری کو مضبوط بنانے میں اہم کام انجام دیا گیا ہے۔
  2.  جے ایس اےکی رفتار کو مزید تیز کرنے کے لیے، سال 2024 میں وزیر اعظم کی جانب سے جل سنچئے جن بھاگیداری (جے ایس جے بی)کا آغاز کیا گیاہے، جس کا مقصد بارش کے پانی کے ذخیرہ کو ایک عوامی تحریک میں تبدیل کرنا ہے۔ کمیونٹی کی ملکیت اور ذمہ داری کو فروغ دے کر، یہ اقدام مختلف علاقوں میں پانی کے مخصوص مسائل کے مطابق کم لاگت والے مقامی حل تیار کرنے پر زور دیتا ہے۔ اب تک اس اقدام کے تحت ملک بھر میں 49 لاکھ سے زائد بارش کے پانی کے ذخیرہ  کرنےاور مصنوعی ری چارج کے ڈھانچے تعمیر کیے جا چکے ہیں۔
  3.  اس کے علاوہ، نیشنل ایکویفر میپنگ اینڈ مینجمنٹ پروگرام(این اے کیو یو آئی ایم) کے تحت سنٹرل گراؤنڈ واٹر بورڈ(سی جی ڈبلیو بی) نے ملک بھر میں ایکویفرز کی نشاندہی اور ان کی خصوصیات کے تعین کے لیے مطالعات کیے ہیں اور زمینی پانی کے انتظام و انصرام کے منصوبے تیار کیے ہیں۔ اس کے پہلے مرحلے(فیز1.0) کے دوران تقریباً 25 لاکھ مربع کلومیٹر علاقہ نقشہ کے مطابق کور کیا گیا اور ضلع  کے حساب سے ایکویفر نقشے اور زمینی پانی کے انتظام کے منصوبے مقامی انتظامیہ کو فراہم کیے گئے۔اس کے بعد این اے کیو یو آئی ایم2.0 کا آغاز کیا گیا ہے، جس میں جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال سے ترجیحی علاقوں کے لیے انتہائی تفصیلی اور سائنسی بنیادوں پر ایکویفر ڈیٹا تیار کیا جا رہا ہے، تاکہ زمینی پانی کے مؤثر اور پائیدار انتظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
  4. مقامی سطح پر پانی کے وسائل کے بہتر انتظام کے لیے کمیونٹی کی صلاحیت سے مزید فائدہ اٹھاتے ہوئے، حکومت ہند نے مشن امرت سروور کا آغاز کیا، جس کا مقصد ملک کے ہر ضلع میں کم از کم 75 آبی ذخائر کی ترقی یا بحالی تھا۔ اس کے نتیجے میں ملک بھر میں تقریباً 69,000 امرت سروور تعمیر یا بحال کیے گئے ہیں، جس سے پانی کے ذخیرہ کرنےمیں اضافہ اور زمینی پانی کے ری چارج کو تقویت ملی ہے۔
  5. وزارتِ جل شکتی نے اٹل بھوجل یوجنا کے ذریعے کمیونٹی کی قیادت میں شراکت کے ساتھ زمینی پانی کے انتظام کی مؤثریت کو کامیابی سے ثابت کیا ہے۔ یہ اسکیم 7 ریاستوں (گجرات، ہریانہ، کرناٹک، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، راجستھان اور اتر پردیش) کے 229 بلاکس میں واقع 8,203 پانی کی قلت سے متاثرہ گرام پنچایتوں میں نافذ کی گئی ہے۔اس منفرد اسکیم کے تحت کمیونٹیز کو زمینی پانی کے سائنسی انتظام کے حوالے سے تعلیم اور بااختیار بنا کر ایک قابلِ توسیع اور غیر مرکزی زمینی پانی کے انتظامی ماڈل کو فروغ دیا گیا ہے۔ اس کے تحت 83,000 سے زائد بارش کے پانی کے ذخیرہ  کرنےاور ری چارج ڈھانچوں کی تعمیر اور بحالی مکمل کی گئی، جبکہ 9 لاکھ ہیکٹر سے زائد رقبہ کو مؤثر آبپاشی کے طریقوں کے تحت لایا گیا ہے۔اس کے نتیجے میں، 2023 سے 2025 کے دوران کیے گئے جائزوں میں 229 میں سے 180 بلاکس میں زمینی پانی کی سطح میں بہتری دیکھی گئی، جو اس پروگرام کی کامیابی اور پائیدار پانی کے انتظام میں اس کے مثبت اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔

ان مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں ملک میں سالانہ زمینی پانی کے ری چارج میں اضافہ ہوا ہے، جو 2017 میں 432 بی سی ایم سے بڑھ کر 2025 میں 448.52 بی سی ایم ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ، محفوظ  تشخیصی یونٹس کا تناسب 62.6 فیصد سے بڑھ کر 73.14 فیصد ہو گیا ہے، جبکہ حد سے زیادہ استعمال شدہ  یونٹس 17.2 فیصد سے کم ہو کر 10.8 فیصد رہ گئے ہیں، جو زمینی پانی کی مجموعی صورتحال میں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔

ریاستوں کو زمینی پانی کے وسائل کے مؤثر ضابطہ اور انتظام میں مدد فراہم کرنے کے لیے، وزارت نے ایک ماڈل قانون گراؤنڈ واٹر (ریگولیشن اینڈ کنٹرول آف ڈیولپمنٹ اینڈ مینجمنٹ) بل تیار کیا، جس میں بے جا پانی کے اخراج کو روکنے کے لیے ریگولیٹری فریم ورک فراہم کیا گیا ہے اور ساتھ ہی بارش کے پانی کے ذخیرہ کرنے اور مصنوعی ری چارج کے لیے بھی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ یہ ماڈل بل تمام ریاستوں اورمرکز کے زیر انتظام علاقوں کو بھیجا گیا ہے اور اب تک 21 ریاستوں اورمرکز کے زیر انتظام علاقوں نے اسےاختیار کیا ہے۔

 اس کے علاوہ، مرکزی سطح پر زمینی پانی کے اخراج کو منظم کرنے کے لیے سنٹرل گراؤنڈ واٹر اتھارٹی(سی جی ڈبلیو اے) قائم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 17 ریاستوں اورمرکز کے زیر انتظام علاقوں کے پاس اپنے ریگولیٹری نظام یا اتھارٹیز موجود ہیں۔ سی جی ڈبلیو اے،24 ستمبر2020  کی رہنما ہدایات کے مطابق، 19 ریاستوں اورمرکز کے زیر انتظام علاقوں میں صنعتی، بنیادی ڈھانچے اور کان کنی جیسے مقاصد کے لیے زمینی پانی کے استعمال کے لیے “نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ(این او سی) جاری کر کے نگرانی کرتی ہے۔ ان رہنما اصولوں میں غیر قانونی پانی کے اخراج پر ماحولیاتی معاوضہ (ای سی) اور جرمانوں جیسے سخت اقدامات بھی شامل ہیں۔

حکومتی پالیسیاں پائیدار ترقی کے اہداف(ایس ڈی جی) کے حصول کے مطابق ترتیب دی گئی ہیں۔ پانی کے تحفظ، زمینی پانی کے ری چارج اور ایکویفر کے تحفظ سے متعلق پروگراموں جیسے جل شکتی ابھیان، جل سنچئے جن بھاگیداری اور نیشنل ایکویفر میپنگ اینڈ مینجمنٹ پروگرام کے علاوہ، جل جیون مشن کے ذریعے ہر دیہی گھر کو محفوظ پینے کا پانی فراہم کرنا، سوچھ بھارت مشن کے ذریعے صفائی ستھرائی کو یقینی بنانا اور امرت مشن (اے ایم آر یو ٹی1.0) اور (اے ایم آر یو ٹی2.0) کے ذریعے پائیدار شہروں کی تعمیر جیسے اقدامات شامل ہیں۔ ان تمام کوششوں کے ذریعے حکومت ملک کے لیے ایک ماحولیاتی طور پر پائیدار اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مزاحم مستقبل کو یقینی بنا رہی ہے۔

یہ معلومات جل شکتی کے وزیر مملکت جناب راج بھوشن چودھری کی جانب سے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کی گئی۔

            ***

 

ش ح۔م م ع۔ش ب ن

U-5433

 


(ریلیز آئی ڈی: 2249239) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी