راجیہ سبھا سکریٹیریٹ
روسی فیڈریشن کے پارلیمانی وفد نے راجیہ سبھا کے معزز نائب چیئرمین ہری ونش سے ملاقات کی
ہندوستان اور روس کے درمیان پارلیمانی سطح پر بھرپور اور مفید تبادلوں کی ایک مضبوط روایت موجود ہے
دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی، تزویراتی، اقتصادی، توانائی، سلامتی، سائنس و ٹیکنالوجی اور ثقافتی شعبوں میں دو طرفہ تعاون مسلسل وسعت اختیار کر رہا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
02 APR 2026 6:23PM by PIB Delhi
روسی فیڈریشن کی فیڈریشن کونسل کے فرسٹ ڈپٹی اسپیکر ولادیمیر یاکوشیف کی قیادت میں ایک پارلیمانی وفد نے آج پارلیمنٹ میں راجیہ سبھا کے معزز نائب چیئرمین ہری ونش نارائن سنگھ سے ملاقات کی۔
وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے جناب ہری ونش نے جناب یاکوشیف کے ہندوستان کے پہلے دورے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ راجیہ سبھا کے ساتھ تعاون کے لیے فیڈریشن کونسل کے پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے سربراہ کے طور پر ان کی تقرری ہندوستان کے ساتھ روس کی جانب سے دی جانے والی پارلیمانی تعاون کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان اور روس کے درمیان پارلیمانی سطح پر بھرپور اور نتیجہ خیز تبادلوں کی ایک مضبوط روایت موجود ہے۔
حالیہ روابط کا ذکر کرتے ہوئے نائب چیئرمین نے بتایا کہ اسٹیٹ ڈوما کے چیئرمین ویاچیس لاو وولوڈن نے فروری 2025 میں ہندوستان کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے مئی 2025 میں کانیموزی کروناندھی کی قیادت میں کثیر جماعتی پارلیمانی وفد کے روس کے دورے کا بھی حوالہ دیا، جو پہلگام
دہشت گردانہ حملے اور ہندوستان کے آپریشن سندور کے تناظر میں ہوا تھا اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ عزم میں روس کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ وفد کا دورہ پارلیمانی تعاون کو مزید مضبوط کرے گا اور دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط میں مزید اضافہ کرے گا۔
میٹنگ کے دوران حالیہ پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے جناب ہری ونش نے دسمبر 2025 میں ولادیمیر پوتن کے دورۂ ہندوستان کے دوران منعقدہ 23ویں ہندوستان-روس سالانہ سربراہ اجلاس کی کامیابی کو سراہا اور کہا کہ مختلف شعبوں میں طے پانے والے معاہدوں اور یاد داشت کے مفاہمت ناموں نے تعاون کے نئے راستے ہموار کیے ہیں اور موجودہ تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزارتی اور سرکاری سطح پر روابط میں بھی مسلسل فروغ پا رہے ہیں۔
دوطرفہ تعاون پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تجارت اور اقتصادی تعاون دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک اہم ستون ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دوطرفہ تجارت تیزی سے بڑھ کر تقریباً 70 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو 2025 تک حاصل کیے جانے والے 30 ارب ڈالر کے ہدف سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ 2030 تک سالانہ 100 ارب ڈالر کی تجارت کا ہدف، جو 2024 میں دونوں رہنماؤں نے مقرر کیا تھا، ضرور حاصل کیا جائے گا۔
ثقافتی روابط کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اکتوبر میں کالمیکیا خطے میں نیشنل میوزیم آف انڈیا سے شاکیامنی بدھ کی مقدس باقیات کی نمائش کو عوام کی جانب سے غیر معمولی پذیرائی ملی، جو دونوں ممالک کے درمیان قدیم ثقافتی تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔
بات چیت کے دوران کثیرجہتی تعاون کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور روس کے مابین اقوام متحدہ، جی-20، برکس اور ایس سی او جیسے فورم پر مضبوط تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اس سال برکس کی صدارت کر رہا ہے اور اس سلسلے میں روس کی حمایت کو سراہا، ساتھ ہی بھارت میں منعقد کیے جانے والے مختلف برکس اجلاسوں خصوصاً برکس پارلیمانی فورم میں روسی وفود کے استقبال کرنےکی امید ظاہر کی۔
پارلیمانی تعاون پر زور دیتے ہوئے جناب ہری ونش نے کہا کہ دونوں ممالک کی پارلیمانوں کے درمیان تعاون کی سطح بہت اچھی رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بین پارلیمانی کمیشن نے اس تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ہندوستان کی جانب سے ہندوستان-روس پارلیمانی فرینڈشپ گروپ فروری 2026 میں تشکیل دیا گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ملکوں کی جانب سے نئے شریک چیئرمین اور اراکین جلد ہی ملاقات کریں گے اور مفید تبادلوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نوجوان اور خواتین ارکان پارلیمنٹ کے درمیان روابط کو فروغ دینا دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
ملاقات کے اختتام پر نائب چیئرمین نے کہا کہ ہندوستان اور روس کو پارلیمانی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور اپنے کثیر جہتی شراکت داری کو مزیدگہرا کرنے کی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔


***
ش ح۔م م ع۔ش ب ن
U-5426
(ریلیز آئی ڈی: 2249220)
وزیٹر کاؤنٹر : 7