عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: سی پی جی آر اے ایم ایس میں بہتری

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 APR 2026 6:10PM by PIB Delhi

مرکزی عوامی شکایات کے ازالے اور نگرانی کے نظام ( سی پی جی آر اے ایم ایس)میں گزشتہ دس برسوں اور رواں سال کے دوران موصول ہونے والی، حل کی جانے والی اور زیرِ التوا شکایات کی وزارت وار/ محکمہ وار، ریاست وار/ مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ وار اور سالانہ تفصیلات بالترتیب ضمیمہ1، 2 اور 3 میں دی گئی ہیں۔

شکایات کے ازالے کے عمل کی تاثیر کی نگرانی شکایت کنندگان کی جانب سے حل پر دیے گئے فیڈ بیک کے ذریعے کی جاتی ہے۔ وزارتوں، محکموں، ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کے لیے ایک مخصوص ’فیڈ بیک پورٹل‘ دستیاب ہے تاکہ ہر شکایت پر شہریوں کے اطمینان کی نگرانی کی جا سکے۔ یکم جنوری 2025 سے 28 فروری 2026 تک کی مدت کے دوران، حل شدہ تقریباً 6 لاکھ شکایات میں سے 69.8 فیصد کو شکایت کنندگان نے اطمینان بخش قرار دیا ہے۔

محکمہ برائے انتظامی اصلاحات اور عوامی شکایات (ڈی اے آر پی جی ) ماہانہ جائزہ اجلاسوں کے ذریعے وزارتوں، محکموں، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں شکایات کے ازالے کی کارکردگی کا باقاعدگی سے معائنہ کرتا ہے۔ جن وزارتوں، محکموں یا ریاستوں میں شکایات زیادہ زیر التوا ہوں یا ان کے حل میں تاخیر ہو رہی ہو، انہیں اصلاحی اقدامات کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اس کےعلاوہ44 حکومت نےسی پی جی آر اے ایم ایس کے تحت شکایات کے ازالے کے طریقہ کار کی جوابدہی اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں’10-نکاتی اصلاحات‘ کا نفاذ بھی شامل ہے۔ اگست 2024 میں جاری کردہ ’عوامی شکایات کے مؤثر ازالے کے لیے جامع رہنما خطوط‘ کے تحت شکایات کے حل کی مدت کو 30 دن سے کم کر کے 21 دن کر دیا گیا ہے۔ ان خطوط میں مخصوص ’شکایت سیل‘ کے قیام، بنیادی وجوہات کے تجزیے، شہریوں کے فیڈ بیک پر کارروائی اور شکایات کی بالائی سطح تک رسائی کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

فروری 2025 میں سی پی جی آر اے ایم ایس کے اندر ایک’ریویو میٹنگ ماڈیول‘ (جائزہ اجلاس ماڈیول) بھی فعال کر دیا گیا ہے تاکہ اعلیٰ سطح پر عوامی شکایات کے جائزے کو آسان بنایا جا سکے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کے افسران کی شکایات کے ازالے کے طریقہ کار سے متعلق استعداد کاری کے لیے’سیو اتم اسکیم‘ کے تحت انتظامی تربیتی اداروںکو مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔

ضمیمہ I

وزارت وار/ محکمہ وار - گزشتہ دس برسوں اور رواں سال (01.01.2016 سے 28.02.2026 تک) کے دوران سی پی جی آر اے ایم ایس میں موصول ہونے والی، حل کی جانے والی اور زیرِ التوا شکایات کی تفصیلات:-

 

وزارت/محکمہ

آگے لایا

رسید

تصرف

زیر التواء

سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکس (انکم ٹیکس)

8135

510278

512330

6083

سنٹرل بورڈ آف بالواسطہ ٹیکس اور کسٹمز

940

155166

155900

206

شعبہ برائے فروغ صنعت اور داخلی تجارت

145

23307

23327

125

انتظامی اصلاحات کا محکمہ اورعوامی شکایات - PG ڈویژن

22

23910

23872

60

محکمہ زراعت اور کسانوں کی بہبود

1149

469979

468008

120

محکمہ زراعت تحقیق اور تعلیم

580

18956

19445

91

محکمہ حیوانات، ڈیری

264

17644

17814

94

محکمہ جوہری توانائی

219

15695

15856

58

بائیو ٹیکنالوجی کا شعبہ

177

3549

3717

9

کیمیکلز اور پیٹرو کیمیکل کا محکمہ

38

5918

5947

9

محکمہ تجارت

608

48519

48626

501

صارفین کے امور کا محکمہ

995

143236

143954

277

محکمہ دفاع

5468

153515

158643

340

محکمہ دفاعی خزانہ

399

177338

174654

3083

محکمہ دفاعی پیداوار

308

24785

24952

141

محکمہ دفاعی تحقیق اور ترقی

 

39

 

10427

 

10325

 

141

محکمہ اقتصادی امور ACCڈویژن

754

45244

45538

460

معذور افراد کو بااختیار بنانے کا محکمہ

62

29337

29272

127

سابق فوجیوں کی بہبود کا محکمہ

1065

182106

182155

1016

محکمہ اخراجات

315

42241

42343

213

کھاد کا محکمہ

248

6729

6955

22

محکمہ مالیاتی خدمات (بینکنگ ڈویژن)

5106

1505438

1507252

3292

محکمہ مالیاتی خدمات (انشورنسڈویژن)

675

225633

225973

335

محکمہ مالیاتی خدمات (پنشن اصلاحات)

0

23777

23722

55

محکمہ ماہی پروری

0

2729

2702

27

محکمہ خوراک اور عوامی تقسیم

181

67701

65495

2387

محکمہ صحت اور خاندانی بہبود

3163

317372

318462

2073

محکمہ صحت تحقیق

110

16193

16255

48

محکمہ اعلیٰ تعلیم

6543

232352

237648

1247

سرمایہ کاری اور عوامی اثاثہ جات کا محکمہ

3

7760

7717

46

محکمہ انصاف

226

112980

113118

88

محکمہ زمینی وسائل

63

22663

22649

77

قانونی امور کا محکمہ

661

37120

37624

157

عسکری امور کا محکمہ

0

40414

39128

1286

دفتری زبان کا شعبہ

39

3262

3297

4

محکمہ عملہ اور تربیت

1230

269475

269693

1012

فارماسیوٹیکل ڈیپارٹمنٹ

391

15450

15796

45

محکمہ ڈاک

864

524549

523925

1488

محکمہ پبلک انٹرپرائزز

3

8128

8091

40

محکمہ محصولات

5213

179894

184762

345

محکمہ دیہی ترقی

1007

810606

810501

1112

محکمہ سکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی

5574

193402

197589

1387

سائنس اور ٹیکنالوجی کا شعبہ

1362

24890

26188

64

سائنسی اور صنعتی تحقیق کا شعبہ

141

12388

12497

32

سماجی انصاف اور بااختیار بنانے کا محکمہ

442

65521

65757

206

خلائی محکمہ

110

5640

5719

31

محکمہ کھیل

1183

15038

16131

90

ٹیلی کمیونیکیشن کا شعبہ

4672

680130

684068

734

محکمہ یوتھ افیئرز

53

9032

9045

40

قانون ساز محکمہ

267

11028

11257

38

وزارت کوئلہ

723

45182

45768

137

آیوش کی وزارت

370

31080

31343

107

شہری ہوا بازی کی وزارت

1371

94967

95929

409

تعاون کی وزارت

0

81955

81477

478

کارپوریٹ امور کی وزارت

1742

151377

152502

617

وزارت ثقافت

376

25913

26233

56

شمال مشرقی خطے کی ترقی کی وزارت

81

2585

2666

0

پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کی وزارت

293

48885

48564

614

ارتھ سائنسز کی وزارت

73

4875

4941

7

الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت

268

90246

90197

317

ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت

4240

61006

64889

357

وزارت خارجہ

514

171174

170524

1164

فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز کی وزارت

68

7200

7240

28

بھاری صنعتوں کی وزارت

437

14778

15192

23

وزارت داخلہ

5006

425960

428041

2925

ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت

2228

242109

242349

1988

وزارت اطلاعات و نشریات

5687

65686

71208

165

وزارت محنت اور روزگار

1028

1088078

1074670

14436

مائیکرو سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کی وزارت

213

78194

76213

2194

کانوں کی وزارت

230

14501

14659

72

وزارت اقلیتی امور

185

21888

21974

99

نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت

636

12260

12760

136

پنچایتی راج کی وزارت

30

55742

53510

2262

وزارت پارلیمانی امور

91

18490

18571

10

پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت

1415

190272

190197

1490

وزارت بجلی

432

45953

46296

89

وزارت ریلوے (ریلوے بورڈ)

9760

589480

595011

4229

روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کی وزارت

4523

210970

214269

1224

جہاز رانی کی وزارت

179

18052

18189

42

ہنر مندی کی ترقی اور انٹرپرینیورشپ کی وزارت

134

43933

43685

382

وزارت شماریات اور پروگرام کے نفاذ

65

5022

5067

20

وزارت اسٹیل

157

14835

14950

42

وزارت ٹیکسٹائل

119

13286

13376

29

وزارت سیاحت

666

20628

21168

126

قبائلی امور کی وزارت

89

16524

16566

47

آبی وسائل، دریا کی ترقی اور گنگا کی بحالی کی وزارت

805

35092

35716

181

خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت

254

65359

65254

359

نیتی آیوگ

1134

27470

28571

33

O/o کے کمپٹرولر اور آڈیٹر جنرلانڈیا

75

64268

64254

89

اسٹاف سلیکشن کمیشن

78

140024

139894

208

ہندوستان کی منفرد شناختی اتھارٹی

268

170332

168502

2098

ضمیمہ II

ریاست وار / مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ وارگزشتہ دس برسوں اور رواں سال (01.01.2016 سے 28.02.2026 تک) کے دوران سی پی جی آر اے ایم ایس میں موصول ہونے والی، حل کی جانے والی اور زیرِ التوا شکایات کی تفصیلات۔

ریاست/ مرکز کے زیر انتظام علاقے

آگے لایا

رسید

تصرف

زیر التواء

انڈمان اور نکوبار کی حکومت

593

9150

9684

59

حکومت آندھرا پردیش

15187

84726

94953

4960

اروناچل پردیش کی حکومت

283

4382

4394

271

حکومت آسام

4781

167755

169868

2668

حکومت بہار

9114

300734

297196

12652

چھتیس گڑھ کی حکومت

1078

97759

91533

7304

گوا کی حکومت

417

13568

13221

764

حکومت گجرات

6423

437007

438997

4433

حکومت ہریانہ

18135

308283

316051

10367

حکومت ہماچل پردیش

2905

42601

38355

7151

حکومت جموں و کشمیر

3148

57981

54433

6696

جھارکھنڈ حکومت

6365

154718

156393

4690

حکومت کرناٹک

12650

202007

205935

8722

کیرالہ حکومت

6287

83635

88870

1052

حکومت مدھیہ پردیش

13120

338483

339350

12253

مہاراشٹر کی حکومت

35027

429576

431545

33058

منی پور کی حکومت

378

9580

8578

1380

میگھالیہ حکومت

235

4738

4687

286

میزورم کی حکومت

83

2469

2511

41

حکومت ناگالینڈ

134

2901

1702

1333

دہلی کی این سی ٹی حکومت

13262

302071

310545

4788

حکومت اوڈیشہ

6627

116673

112165

11135

پڈوچیری کی حکومت

811

13474

14098

187

حکومت پنجاب

5913

161546

161270

6189

راجستھان حکومت

18171

317387

332091

3467

سکم کی حکومت

194

2094

2262

26

حکومت تمل ناڈو

3126

197844

192101

8869

حکومت تلنگانہ

3790

74831

78567

54

تریپورہ حکومت

383

12616

12853

146

چنڈی گڑھ کے UT کی حکومت

1577

35944

37357

164

دادرا اور نگر حویلی کے UT کی حکومت

169

3124

3094

199

دمن اور دیو کے UT کی حکومت

99

3091

2926

264

لداخ کے UT کی حکومت

0

1144

1102

42

لکشدیپ کے UT کی حکومت

69

1502

1554

17

حکومت اتر پردیش

61842

2058402

2095797

24447

حکومت اتراکھنڈ

5901

128687

132997

1591

مغربی بنگال کی حکومت

11293

136983

137042

11234

ضمیمہ III

سالانہ تفصیلات :گزشتہ دس برسوں اور رواں سال کے دوران CPGRAMS میں موصول ہونے والی، حل کی جانے والی اور زیرِ التوا شکایات کی تفصیلات

 

سال

آگے لایا

مدت کے دوران رسید

ٹوٹل ڈسپوزڈ

کل زیر التواء

2016

449626

1483166

1262213

670579

2017

670579

1866124

1773016

763687

2018

763687

1586415

1506405

843697

2019

843697

1867759

1639853

1071603

2020

1071603

2271270

2319569

1023304

2021

1023304

2000590

2135923

887971

2022

887971

1918238

2143468

662741

2023

662741

1953057

2307674

308124

2024

308124

2615321

2645869

277576

2025

277576

2278256

2279040

276792

2026 (28 فروری 2026 تک)

276792

423922

406799

293915

یہ معلومات آج بدھ یعنی یکم اپریل 2026 کو لوک سبھا میں ایک تحریری جواب کے دوران وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنس اور وزیراعظم  کےدفتر میں وزیر مملکت، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، ایٹمی توانائی اور خلا کے وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کی جانب سے فراہم کی گئیں۔

*****

 (ش ح –م ع۔ص ج)

U. No. 5289


(ریلیز آئی ڈی: 2248270) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी