ریلوے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بجٹ میں ریکارڈ مختص رقم اور جدیدکاری پر زور کے باعث مسافروں کوبہتر تجربہ اور ٹرینوں میں مسافروں کی تعداد  میں بھی  اضافہ


نئی ریلوے پٹریوں کی تعمیر، پٹریوں کی تجدید اور جدید سہولیات سے آراستہ اسٹیشنوں پر بھاری سرمایہ کاری کے نتیجے میں ہمارے ریل سفر زیادہ محفوظ، آرام دہ اور اخراجات میں کمی

وندے بھارت ٹرینیں پورے ملک میں مقبول ہو رہی ہیں اور ان میں تقریباً 100 فیصد نشستیں بھری رہتی ہیں

ملک میں1338 اسٹیشنوں میں سے 208 ’امرت بھارت اسٹیشنز‘ پر جدیدکاری کا کام مکمل ہو چکا ہے؛ 157 ’’امرت بھارت اسٹیشنز‘‘ والے امنگوں والے اضلاع میں ہمہ جہتی ترقی کو فروغ ملے گا

بھوپال کے رانی کملپتی اسٹیشن کے بعد، وجے واڑہ پی پی پی ماڈل کے تحت تیار ہونے والا ہندوستان کا دوسرا اسٹیشن بننے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے؛ اس ماڈل کے تحت مزید 14 اسٹیشنوں کی جدیدکاری کی جا رہی ہے

6,117 ریلوے اسٹیشنوں پر مفت وائی فائی خدمات دستیاب ہیں، جس سے مسافروں کا تجربہ مزید بہتر ہو رہا ہے

ریلوے کے دفاتر، اسٹیشنوں اور رہائشی کالونیوں میں 100 فیصد ایل ای ڈی لائٹنگ نصب کی

گئی ہے، جس سے توانائی کی بچت اور ماحول کو سرسبز بنانے میں مدد ملی ہے

لاتور میں واقع مراٹھواڑہ ریل کوچ فیکٹری میں 120 وندے بھارت ٹرین سیٹس کی تیاری شروع ہو چکی ہے؛ جدید ایم ای ایم یو کی تیاری کے لیے کازی پیٹ میں ایک نیا پیداواری یونٹ قائم کیا جائے گا

سال 26-2025میں ٹرین حادثات کی تعداد 89 فیصد کم ہو کر 16 رہ گئی ہے، جو  ہندوستانی ریلوے میں حفاظتی اقدامات کے مضبوط ہونے کی نشاندہی کرتی ہے: جناب اشونی ویشنو

پالیسی کے تحت 128 گتی شکتی ملٹی ماڈل کارگو ٹرمینلز کی ترقی کے لیے تقریباً 9183 کروڑ روپے کی نجی سرمایہ کاری حاصل کی گئی ہے؛ مزید 292 جی سی ٹی کے لیے اصولی منظوری دی گئی ہے

ہندوستانی ریلوے آؤٹ سورس ملازمین کی فلاح و بہبود کو یقینی بناتا ہے؛ مزدور فلاحی پورٹل، آگاہی کیمپوں اور شکایات کے ازالے کے نظام کے ذریعے سخت نگرانی کرتے ہوئے ان کی حفاظت کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 APR 2026 8:33PM by PIB Delhi

ریلوے میں سرمایہ جاتی سرمایہ کاری کے لیے مجموعی بجٹ معاونت (جی بی ایس) سال 14-2013 کے 29,055 کروڑ روپے سے بڑھ کر 27-2026 میں 2.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس اضافہ شدہ بجٹ معاونت کے باعث نیٹ ورک کی توسیع، حفاظتی بہتری، مسافروں کی سہولیات، سڑک کی حفاظت سے متعلق کاموں، ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن اور رولنگ اسٹاک میں اضافہ (جس میں وندے بھارت ٹرینوں کی تیاری بھی شامل ہے) جیسے شعبوں میں اہم سرمایہ کاری ممکن ہو سکی ہے۔

حکومت نے بجٹ تخمینہ 2026–27 میں 2,78,030 کروڑ روپے کی مجموعی بجٹ معاونت فراہم کی ہے، جس میں سے 79,072 کروڑ روپے نئی ریلوے پٹریوں کی تعمیر کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

ٹریک کے بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری

ریلوے کے ٹریک انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا، جدید بنانا اور بہتری لانا ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے۔

ٹریک کی جدید کاری اور تجدید ایک مستقل اور جاری رہنے والا عمل ہے۔ ٹریک کی تجدید مقررہ معیار کے مطابق کی جاتی ہے، جو معیاد، چلائی جانے والی ٹریفک، حالت وغیرہ پر مبنی ہوتا ہے۔

ٹریک کی تجدید کے کام منصوبہ بندی کے تحت اور ترجیحات کے مطابق انجام دیے جاتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ٹریک ٹرینوں کی اجازت شدہ رفتار پر چلانے کے لیے محفوظ ہو۔

2014 سے 2026 (فروری 2026 تک) کے دوران مکمل ریلوے نیٹ ورک پر، بشمول جبالپور سے دامو تک کا راستہ کٹنی کے ذریعے کی جانے والی ٹریک تجدید کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

ٹریک کی تجدید شدہ

~ 54600 کلو میٹر

سال27-2026 کے لیے حفاظتی سرگرمیوں پر کل خرچ کا تخمینہ 1,20,389 کروڑ روپے لگایا گیا ہے، جس میں سے 46,189 کروڑ روپے ٹریک  کے بنیادی ڈھانچےکی حفاظت کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

وندے بھارت ٹرین سروسز کی توسیع اور مقبولیت

اس وقت ہندوستانی ریلوے نیٹ ورک پر 81 جوڑیاں وندے بھارت ٹرین سروسز (چیر کار) کے تحت چلائی جا رہی ہیں۔ وندے بھارت ٹرینوں کی ایک قسم طویل فاصلے کے سفر کے لیے بھی تیار کی گئی ہے۔ 25.03.2026 تک ہندوستانی ریلوے نیٹ ورک پر وندے بھارت سلیپر ایکسپریس کی 01 جوڑی چلائی جا رہی ہے۔

وندے بھارت سروسز پورے ملک میں وسیع پیمانے پر قبول کی گئی ہیں۔ سال 25-2024کے دوران وندے بھارت ٹرینوں  میں 100؍فیصد سیٹیں فل رہی ہیں۔

مسافروں کےلیے بہتر سہولیات

امرت بھارت اسٹیشن اسکیم: وزارت ریلوے نے طویل مدتی نقطہ نظر کے ساتھ اسٹیشنوں کی تعمیر نو کے لیے امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کا آغاز کیا ہے۔ اسٹیشنوں کی ترقی / جدید کاری / بہتری بشمول امرت بھارت اسٹیشن اسکیم عام طور پر پلان ہیڈ-53 ’کسٹمر سہولیات‘ کے تحت مالی معاونت کے ذریعے کی جاتی ہے۔ پلان ہیڈ-53 کے تحت مختص رقم اور خرچ کی تفصیلات زونل ریلوے کے حساب سے برقرار رکھی جاتی ہیں۔ گزشتہ تین سالوں اور موجودہ سال کے دوران اب تک 35,207 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ مالی سال26-2025 کے لیے پلان ہیڈ–53 کے تحت 12,120 کروڑ روپے (نظر ثانی شدہ تخمینہ) کی رقم مختص کی گئی ہے اور اب تک (فروری 2026 تک) 11,892 کروڑ روپے کا خرچ ہوا ہے۔

اب تک امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کے تحت ترقی کے لیے 1,338 اسٹیشنوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جس میں 157 اسٹیشن ایسے شامل ہیں جو امنگوں والے اضلاع میں واقع ہیں۔ امنگوں والے اضلاع میں واقع امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کے تحت ترقی کے لیے منتخب کیے گئے اسٹیشنوں کے نام درج ذیل ہیں:

امنگوںوالے اضلاع میں اسٹیشنوں کی تعداد

امنگوں والے اضلاع میں اسٹیشنوں کے نام

157

ابو روڈ، انوگراہ نرائن روڈ، آراکو، اراریایا کورٹ، بہرائچ، بالانگیر، بالرام پور، بالسیرنگ، بانکا، بنمانخی، بانو، باراگمدا جنکشن، باران، باراونی، بارگاوان، برہنی، برکاکانا، برسوئی جنکشن، باسوکیناتھ، بیگوسرائے،  بھدرچلم روڈ، بھانو پرتپ پور، بھاونی پٹنہ، بیاؤرا راج گڑھ، بوکارو اسٹیل سٹی، چائباسا، چکر دھر پور، چندولی مجھور، چندراپورہ، چھابرا گوگر، چتر کٹ دھام کروئی، چوپان، کڈڈاپا، دھوڑ، ڈالتون گنج، دمان جوڈی، ڈامو، ڈنگوپوسی، دھنکنال، ڈھولی، دھولپور، ڈھبری، ڈمکا، فتح پور، فیروز پور کینٹ، گنگا گھاٹ، گنجباسودا، گڑھوا روڈ، گڑھوا ٹاؤن، گاؤری پور، گیا، گھاٹسلا، گریدیہ، گوڈا، گووندو پور روڈ، گونا، گنو پور، گورا رو، حیدر نگر، ہریدوار جنکشن، ہری شنکر روڈ، ہردل پور، ہتیا، ہزاری باغ روڈ، ہنداون سٹی، جگدالپور، جیسلمیر، جاموئی، جانک پور روڈ، جپلا، جے پور، کانتابنجی، کارہاگولا روڈ، کاشی پور جنکشن، کٹہار جنکشن، کیسنگا، کھاگریہ جنکشن، کھجوراہو جنکشن، کھنڈوا، کھاریار روڈ، کیچھا، کوراپوٹ جنکشن، کوربا، لابھا، لاکھمینیا، لتہار، لمکھیڑا، لوہرداگا، مہا سمند، مہیش کھنٹ، ماجبت، مانیک پور جنکشن، منوہارپور، مانسی جنکشن، ایم سی ایس چھتر پور، میرا منڈالی، موگا، موٹی پور، محمد گنج، مونی گوڑا، موری جنکشن، مظفر پور جنکشن، نبی نگر روڈ، نگر انتاری، نامکوم، نندوربار، ناوا دہ، اورگا، عثمان آباد، پہاڑ پور، پاکور، پرماککوڈی، پارس ناتھ، پرلاکھیمندی، پروت پورم، پاتھشالا، پنڈوارا، پِسکا، پنڈت دین دیال اپادھیائے جنکشن، رفیع گنج، رائچور جنکشن، راجا پالایم، راجمحال، رام دیالو نگر، رام ناتھ پورم، رام دیورا، رمیسورم، رام گڑھ کینٹ، رانچی جنکشن، ریباگڑہ، رینوکوٹ، رورکی، روتھیائی، صاحب گنج، صاحب پور کمال، سالونا، سلماری، شری مہاویر جی، سدھارتھ نگر، سیلی، سیملٹالا، سنگرائولی، سیتامڑھی، سون بھدر، سری وللی پٹور، ٹانگلا، تٹن نگر، تٹی سیلوئی، ٹٹلگار جنکشن، تولسی پور، اڈلگوری، ویدیشا، ویرودھونگر، ویاس نگر، وادسا، وشم، یدگیر۔

امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کے تحت ریلوے اسٹیشنوں پر ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں۔ اب تک 208 اسٹیشنوں پر کام مکمل ہو چکا ہے۔ اب تک جن اسٹیشنوں پر کام مکمل ہوا ہے، ان کے نام درج ذیل ہیں:

عیش باغ جنکشن، الاناور، آمب اندورا، امبیکاپور، عام گاؤں، آنندپور صاحب، انارا، انگمالی فور کالڈی، ایودھیا دھام جنکشن، بادامی، بگل کوٹ، بہیری، بیجناتھ پاپرولا، بالاغاٹ، بلرام پور، بنتاوالا، بارا بھوم، بارامتی، بریلی سٹی، باریپڑا، باردمیر، بارپالی، بیگم پت، بیوہاری، بھانو پرتپ پور، بھلائی، بھِند، بیزناؤر، بمل گڑھ، بوممیڈی، بونڈی، بھایکھلا، چلاکودی، چمپا، چندا کلا، چنگناسری، چنائی پارک، چھندواڑہ، چدمبرم، چنچپوکلی، چنا سیلم، چیرائینکیز، چونار جنکشن، کننور، کمبم، کٹک، ڈاکور، دوسا، ڈیگ، دیروال، دیشنوک، دیوالالی، دھامپور، دھارواڑ، دھولے، ڈونگر گڑھ، ایلورو، فتح آباد، فتح پور، فتح پور شیخاواٹی، فیروک، گڑگ، گنگاپور سٹی، گوڈا، گو دھرا جنکشن، گوگامیری، گوکک روڈ، گولا گوکرناتھ، گومتی نگر، گوور دھن، گووند گڑھ، گووند پور روڈ، گووند پوری، حافظ پتہ، ہیبر گاؤں، ہلدیہ، ہلدی باری، ہاپا، ہرپل پور، ہاتھرس سٹی، ہائی ٹیک سٹی، ہمایت نگر، ہوڈل، ایڈگاہ آگرہ جنکشن، ایجّت نگر، جیسلمیر، جام جو دپور، جام وانتھلی، جوی چندی پہاڑ جنکشن، جننور دیو، کاکینادہ ٹاؤن جنکشن، کلیانی گھوشپارہ، کاما کھیا گڑی، کانالس جنکشن، کرائیکوڈی جنکشن، کرمسد، کریمنگر، کتنی ساؤتھ، کیڈ گاؤں، کیسنگا، خیرتھل، خلیل آباد، کھمبالیا، کوپل، کوسانبا جنکشن، کولیّتُرئی، کٹی پورم، لاسل گاؤں، لمبڈی، لوہرداگا، لونند جنکشن، مدھو پور جنکشن، ماہے، مہوا، میلانی جنکشن، مامبلم، ماناپرائی، منڈل گڑھ، منڈاور مہوا روڈ، منڈی ڈبوالی، منگلگیری، منار گڑی، ماتونگا، ایم سی ایس چھتر پور، میٹھا پور، مورپور، موربی، مُکتسر، منی رباد، مُری جنکشن، مرتیجا پور جنکشن، نین پور جنکشن، نمکل، نندورا، نرمداپورم، نروانا جنکشن، نیتاجی سبھاش چندر بوس اتواری جنکشن، نیدا دا وُلو جنکشن، نیلامبور روڈ، اوکھا، اورچھا، پالیٹانا، پاناغڑھ، پنکی دھام، پرپانگڈی، پرےل، پرلاکھیمندی، پیر پینتی، پسکا، پوکھرا یان، پولاچی جنکشن، پولور، پوربندر، راج گڑھ، راجمحال، راجولا جنکشن، راما گنڈم، رام گھاٹ ہالٹ، راین پادو، سابور، ساہارن پور جنکشن، صاحب گنج، صاحبزادہ اجیت سنگھ نگر موہالی، ساما کھیالی، سامل پٹی، سانچی، شنکرپور، سرو نا، ساودا، سیونی، شہاڑ، شاجا پور، شیونارائن پور، شولاونڈن، شوارنور جنکشن، شری دھام، سدھارتھ نگر، سیہور جنکشن، سملتلا، سیوری، سومے سر، شری بالا برہمیشور جوجل امبا، شری رنگم، شری ولّی پٹور، سینٹ تھامس ماؤنٹ، سُلّورپیٹا، سُرایمن پور، سوامی نارنن چھپیا، تالچیر، تاملوک، ٹنک پور، تھالاسّیری، تھاوے، تروورور جنکشن، ترووناملائی، تریپونیتھورا، تُنی، اُڈگم نڈلم، اُجھانی، اُرکورا، اُترن، وڈکارا، وڈالا روڈ، ویدیشا، وِنڌیا چَل، وِردھیا چلم جنکشن، وڈکنچیری اور وارنگل۔

دوسرے اسٹیشنوں پر بھی ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں اور اوپر بیان کیے گئے کچھ اسٹیشنوں کی پیش رفت درج ذیل ہے:

بوکارو اسٹیل سٹی اسٹیشن: اسٹیشن کی عمارت میں بہتری، پلیٹ فارم نمبر 1 کی سطح کی مرمت، نیا ویٹنگ ہال، ریٹائرنگ روم، پارکنگ، رسائی کے راستے، داخلہ/باہر نکلنےکےراستے، چار دیواری، پلیٹ فارم نمبر 1 پر معذور افراد کے لیے ٹچ سینسیٹیو راستہ، اور پلیٹ فارم نمبر 2 پر معذور افراد کے لیے بیت الخلاء میں بہتری کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ پلیٹ فارم نمبر 2/3 کی سطح کی مرمت اور ایسکیلیٹر لگانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔

واپی اسٹیشن: واپی اسٹیشن پر ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں۔ پلیٹ فارم نمبر 1 اور پلیٹ فارم نمبر 2/3 پر پلیٹ فارم شیلٹر کا اضافہ، اے سی ویٹنگ ہال میں نیا بیت الخلاء بلاک، سرکیولیٹنگ ایریا، پارکنگ، اور پرانے فٹ اوور برج کو ہٹانے کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ 12 میٹر لمبا فٹ اوور برج بنانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔

تن جاور جنکشن اسٹیشن: پورٹیکو، کانکورس میں بہتری، پلیٹ فارم شیلٹر، بکنگ آفس میں بہتری، متصل علاقے، ایگزٹ آرچ اور سائن ایج کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ پارکنگ، لفٹ، ایسکیلیٹر، کوچ انڈیکیشن بورڈ اور ٹرین انڈیکیشن بورڈ کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔

جالپائی گُڑھی اسٹیشن: پلیٹ فارم نمبر 1 کا اضافہ اور پلیٹ فارم کی سطح کا کام، پلیٹ فارم شیلٹر، باونڈری وال اور 12 میٹر لمبا فٹ اوور برج کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ متصل علاقے، لفٹ اور ایسکیلیٹر کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔

تروپتی اسٹیشن: جنوبی سمت میں نئے دوسرے داخلے والے اسٹیشن بلڈنگ کا ڈھانچہ، 2 ایئر کانکورس اور سیویج ٹریٹمنٹ پلانٹ کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ جنوبی سمت میں نئے دوسرے داخلے والے اسٹیشن بلڈنگ اور ایئر کانکورس کی فنیشنگ کا کام؛ شمالی سمت میں اسٹیشن بلڈنگ کا ڈھانچہ؛ پلیٹ فارم شیلٹر، لفٹ، ایسکیلیٹر وغیرہ کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔

بھونیشور اسٹیشن: مشرقی اور مغربی سمت میں نئی اسٹیشن بلڈنگ اور ایئر کانکورس کا ڈھانچہ مکمل ہو چکا ہے۔ اسٹیشن کے مشرقی اور مغربی سمت میں ایلیویٹڈ ڈرائیو وے کا ڈھانچہ، فٹ اوور برج کی توسیع اور پلیٹ فارم شیلٹر کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ مشرقی اور مغربی سمت میں نئی اسٹیشن بلڈنگ کی فنیشنگ؛ ایم ای پی (میکانیکل، الیکٹریکل اور پلمبنگ)، ایچ وی اے سی (ہیٹنگ، وینٹیلیشن اور ایئر کنڈیشننگ) اور ایسکیلیٹر کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔

پی پی پی ماڈل: مدھیہ پردیش میں رانی کملاپتی اسٹیشن کو پہلے ہی پی پی پی ماڈل کے تحت ترقی دی جا چکی ہے اور اسے فعال کر دیا گیا ہے۔ پی پی پی ماڈل کے تحت دوبارہ ترقی کے لیے منتخب کیے گئے 15 اسٹیشنوں میں سے، وِجئے واڑا اسٹیشن کی دوبارہ ترقی کے لیے بولی کی دعوت دی گئی ہے۔ باقی 14 اسٹیشن ماسٹر پلاننگ اور فنانشل ماڈلنگ کے مختلف مراحل میں ہیں۔

وائی فائی خدمات:  ہندوستانی ریلوے  کے تقریبًا تمام اسٹیشنوں پر ٹیلی کام سروس فراہم کنندگان کے دریعہ 4جی/5جی کوریج دستیاب ہے۔ مسافروں کے ڈیٹا کنیکٹوٹی کے لیے بھی ان نیٹ ورکس کا استعمال ہو رہا ہے، جس سے مسافروں کا تجربہ بہتر ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، 6,117 ریلوے اسٹیشنوں پر مفت وائی فائی خدمات بھی فراہم کی گئی ہیں۔

سبزاور ماحولیاتی طور پر دوستانہ ریلوے: ہندوستانی ریلوے اسٹیشنوں کے انتظام میں موثر فضلہ مینجمنٹ (جس میں اس کا تصرف اور الگ کرنا شامل ہے)، پانی کے تحفظ اور توانائی کی بچت کو اعلی ترجیح دی جاتی ہے۔

ریلوے پٹریوں پر فضلہ گرنے سے روکنے کے لیے تمام مسافر ڈبوں میں ’زیرو ڈسچارج بایو-ٹوائلٹ‘ نصب کیے گئے ہیں۔ بایو-ٹوائلٹ فراہم کرنے کی تفصیل درج ذیل ہے:

مدت

نصب کیے گئے ایو-ٹوائلٹ کی تعداد

2004-2014

9,587

2014- فروری 2026 تک

3,66,250

 

ہندوستانی کی ریلوے نے غیر ٹریکشن شعبے میں توانائی کی بچت کے اقدامات کو اپنانے کے لیے ہدایات جاری کی ہیں، جس میں توانائی کی بچت سے متعلق مختلف پہلو شامل ہیں، جیسے سینسر پر مبنی اور ٹائمر کنٹرولڈ لائٹنگ سسٹمز کا وسیع استعمال اور پلیٹ فارم کی روشنی کا خودکار 30 تا 70 ؍فیصد کنٹرول، جو ٹرین کی حرکات سے منسلک سرکٹ الگ کرنے کے ذریعے چلتی ہے۔ اس کے علاوہ،ہندوستانی ریلوے نے اپنے دفاتر، ریلوے اسٹیشنوں، سروس بلڈنگز اور رہائشی کالونیوں میں 100؍فیصد ایل ای ڈی لائٹنگ کا ہدف حاصل کرلیا ہے۔

کوچ مینوفیکچرنگ کی صلاحیت میں اضافہ

جدید ٹرینوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے مقامی کوچ مینوفیکچرنگ کی صلاحیت بڑھانے کے لیے ہندوستانی ریلوے نے مندرجہ ذیل اقدامات کیے ہیں:

  • مہاراشٹر کے لاتور میں مراٹھ واڑہ ریل کوچ فیکٹری(ایم آر  سی ایف) قائم کی گئی جس پر 685.79 کروڑ روپے لاگت آئی۔ ایمآر سی ایف لاتور میں ٹیکنالوجی پارٹنر کے ذریعے 120 وندے بھارت ٹرین سیٹ کی تیاری کی گئی ہے۔
  • ہندوستانی ریلوے نے تلنگانہ میں کازی پیٹ میں ایک ریلوے مینوفیکچرنگ یونٹ قائم کرنے کا کام شروع کیا ہے جس پر 521.36 کروڑ روپے لاگت آئے گی، جہاں جدید مین لائن الیکٹرک ملٹی پل یونٹس(ایم ای ایم یو) کی تیاری کی منصوبہ بندی ہے۔ کازی پیٹ ریلوے مینوفیکچرنگ یونٹ کا کام ترقی یافتہ مرحلے میں ہے اور سول و الیکٹریکل انفراسٹرکچر مکمل ہونے کے قریب ہے۔
  • ریلوے کی اپنی یونٹس کے علاوہ اس وقت پبلک سیکٹر یونٹس جیسے بی ای ایم ایل بھی وندے بھارت سلیپر اور ایل ایچ بی جنرل/سلیپر کلاس کوچز کی تیاری میں مصروف ہیں۔
  • حفاظتی کارکردگی میں اضافہ اور ٹرین حادثات میں کمی
  • ہندوستانی ریلوے میں حفاظت کو سب سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ سالوں کے دوران لیے گئے مختلف حفاظتی اقدامات کے نتیجے میں حادثات کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔
  • ذیل کی جدول میں ٹرین حادثات میں نمایاں کمی ظاہر کی گئی ہے:

سال

ٹرین حادثات میں  نمایاں کمی

2014-15

135

2025-26  تک)25.03.2026)

15 ؍(89؍فیصد تک کمی)

ٹرین کے آپریشن میں حفاظت میں بہتری ظاہر کرنے والا ایک اور اہم انڈیکس  حادثات میں نمایاں کمی کا اشاریہ ہے ، جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:-

نتیجہ خیز اثرات کے اشارے

سال

حادثات کے اشاریے

2014-15

0.11

2024-25

0.03 (73؍فیصد تک کمی)

2025-26(فروری 2026 تک)

0.01

 

یہ انڈیکس تمام ٹرینوں کے کل چلنے والے کلومیٹر کے تناسب سے ٹرین حادثات میں نمایاں کمی کا اندازہ لگاتا ہے۔

حادثات کا انڈیکس = حادثات  میں نمایاں کمی  کی تعداد / ٹرینوں کی تعداد × چلنے والے لاکھوں کلومیٹر

ان حادثات کی وجوہات جو ہندوستانی ریلوے میں پیش آئیں، عام طور پر ٹریک کی خرابی، لوکو/کوچ کی خرابی، ساز و سامان کی ناکامی، انسانی غلطیاں وغیرہ شامل ہیں۔

ہندوستانی ریلوے میں نتیجہ خیز ٹرین حادثات اور ان میں ہونے والے جانی نقصان (جس میں ریلوے مسافر اور ریلوے عملہ شامل ہیں) درج ذیل ہیں:

مدت

نمایاں ٹرین حادثات کی تعداد

حادثات

اموات کی تعداد

زخمیوں کی تعداد

2004-05 سے14-20213

1,711

904

3,155

15-2014-24-2023

678

748

2,087

2024-25

31

18

92

2025-26 ( 25 مارچ 2026 تک)

15

16

28

ریلوی آپریشنز کی حفاظت کے لیے روڈ اوور برج اور روڈ انڈر برج کی ترقی

ہندوستانی ریلوے میں روڈ اوور برج؍روڈ انڈر برج (آر او بیز؍ آر یو بی ایز) کے کام کی منظوری اور اس پر عمل درآمد ایک مسلسل اور جاری عمل ہے۔ ایسے کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر لیا جاتا ہے اور ان پر اس کی حفاظت اور ٹرین آپریشنز میں نقل و حرکت پر اثر اور سڑک استعمال کرنے والوں پر اثر کی بنیاد پر کام کیا جاتا ہے۔

ہندوستانی ریلوے میں14-2004 کے دوران اور26-2014 (جنوری 2026 تک) کے دوران تعمیر کیے گئے آر او بی ایز؍آر یو بیز کی تعداد درج ذیل ہے:

 

مدت

آر او بی ایز؍آر یو بی ایز کی تعمیر

2004-14

4,148عدد  

2014-26 (جنوری 26 تک)

14,024 عدد

یکم فروری 2026 تک ہندوستانی ریلوے پر 4,802 عدد آر او بی ایز؍ آر یو بی ایز کو 1,14,196 کروڑ روپےکی لاگت سے منظور کیا جا چکا ہے، جو مختلف مراحل میں منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے تحت ہیں۔

گتی شکتی ملٹی-ماڈل کارگو ٹرمینل کی توسیع

پرائیویٹ سرمایہ کاری کے ذریعے کارگو ٹرمینل قائم کرنے کی ترغیب دینے کے لیے دسمبر 2021 میں ‘گتی شکتی ملٹی-موڈل کارگو ٹرمینل (جی سی ٹی) پالیسی کا آغاز کیا گیا۔ اب تک 128 گتی شکتی ملٹی ماڈل کارگو ٹرمینلز(جی سی ٹی ایز) کو شروع  کیا جا چکا ہے اور مزید 292 مقامات کے لیے اصولی منظوری (آئی پی ایز) دی جا چکی ہے۔ زون وار صورتحال درج ذیل ہے:

ریلوے زون

جی سی ٹی ایز شروع کیا گیا

مزید آئی پی اے جاری کیے گئے

سی آر

07

18

ای آر

07

14

ای سی آر

12

11

ای سی او آر

06

22

این آر

12

22

این سی آر

05

11

این ای آر

04

4

این ایف آر

03

8

این ڈبلیو آر

08

15

ایس آر

03

09

ایس سی آر

14

24

ایس ای آر

09

19

ایس ای سی آر

12

69

ایس ڈبلیو آر

03

15

ڈبلیو آر

14

20

ڈبلیو سی آر

04

11

ڈی ایف سی

05

-

 

128

292

 

گتی شکتی ملٹی-ماڈل ٹرمینل(جی سی ٹی) اسکیم کے تحت اب تک 128  جی سی ٹیز کو شروع  کیا جا چکا ہے جن کی متوقع مال برداری کی گنجائش 204 ملین ٹن فی سال(ایم ٹی پی اے) ہے۔ ان 128 کمیشن شدہ جی سی ٹی ایز کے تحت تقریباً 9183 کروڑروپے کی نجی سرمایہ کاری اس پالیسی کے تحت متحرک کی گئی ہے۔

معاہداتی کارکنوں کی فلاح و بہبود

ہندوستانی ریلوے (آئی آر) اپنے مختلف اثاثوں جیسے اسٹیشنز، کوچز، ویگنز، کوچنگ ڈیپو، لوکوموٹوز، ٹریک وغیرہ کے قیام، مرمت اور دیکھ بھال کے لیے وسیع پیمانے پر کام انجام دیتا ہے، جو مختلف محکموں جیسے میکینیکل، کمرشل، الیکٹریکل، سول انجینئرنگ، سگنل اور ٹیلیکمیونیکیشن، میڈیکل وغیرہ سے متعلق ہیں۔ یہ کام محکماتی طور پر اور/یا آؤٹ سورسنگ کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں۔

ریلوے بطور پرنسپل ایمپلائر یہ یقینی بناتا ہے کہ آؤٹ سورس کیے گئے کارکنوں کو ایجنسیوں کے ذریعے لیبر قوانین کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں اور کنٹریکٹ لیبر (ریگولیشن اینڈ ابولیشن) ایکٹ 1970 اور مرکزی/ریاستی حکومتوں کی جانب سے نوٹیفائی کیے گئے کم از کم اجرت ایکٹ 1948، اور , 1952ای پی ایف اینڈ ایم پی ایکٹ کے تحت کم از کم اجرت کی تعمیل یقینی بنائی جائے ۔ قانونی دفعات کی تعمیل ریلوے کی جانب سے کیے گئے معاہدوں میں شامل شرائط کے ذریعے یقینی بنائی جاتی ہے۔ اگر کسی قانون کی خلاف ورزی ہو تو اس کے لیے مناسب رہنما اصول موجود ہیں۔ تنخواہوں کی تاخیر یا عدم ادائیگی کی شکایات پر معاہدے کی شرائط کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے اور ضرورت کے مطابق آؤٹ سورس کی گئی ایجنسی کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔

 اس کے علاوہ معاہداتی ذمہ داریوں کی مؤثر نگرانی کے لیے مختلف سطحوں پر جامع اقدامات کیے جاتے ہیں۔ ان میں شرا مک کالیان پورٹل پر کارکنوں کی تفصیلات کا لازمی اندراج، قانونی تعمیل کی سخت پابندی، معاہداتی کارکنوں کی بلاجواز برخاستگی سے تحفظ، کسی بھی خلاف ورزی پر جرمانے عائد کرنا، کارکنوں کے لیے آگاہی کیمپوں کا انعقاد اور شکایات کے بروقت حل کو یقینی بنانے کے لیے مخصوص شکایت نمٹانے کے نظام کا قیام شامل ہیں۔

یہ معلومات آج لوک سبھا میں سوالوں کے جواب میں ریلوے،اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکزی جناب اشونی وشنو نے فراہم کیں۔

 

****

 

(ش ح ۔م ن ع۔ ص ج)

U. No. 5290


(ریلیز آئی ڈی: 2248266) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी