ارضیاتی سائنس کی وزارت
پارلیمانی سوال: نایاب زمینی معدنی ذخائر اور مقناطیس کی تیاری
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
02 APR 2026 12:07PM by PIB Delhi
ارضیاتی علوم اور سائنس و ٹیکنالوجی کے (آزادانہ چارج) مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے 2 اپریل 2026 کو راجیہ سبھا میں بتایا کہ ایٹامک منرلز ڈائریکٹوریٹ فار ایکسپلوریشن اینڈ ریسرچ (اے ایم ڈی)، جو کہ محکمۂ جوہری توانائی (ڈی اے ای) کا ایک ذیلی ادارہ ہے، نے ملک میں نایاب زمینی عناصر (آر ای ای) کے درج ذیل ذخائر کی نشاندہی کی ہے:
- تقریباً 7.23 ملین ٹن (ایم ٹی) اِن-سِچو ٹوٹل ریئر ارتھ آکسائیڈ ایکویویلنٹ (ٹی آر ای او )، جو کہ 13.15 ملین ٹن مونازائٹ (تھوریم اور نایاب زمینی عناصر پر مشتمل معدنیات) میں موجود ہے، آندھرا پردیش، اوڈیشہ، تمل ناڈو، کیرالا، مغربی بنگال، جھارکھنڈ، گجرات اور مہاراشٹر کے بعض حصوں میں تیری، ساحلی ریت اور اندرونی دریائی تلچھٹ میں پایا جاتا ہے۔
- گجرات اور راجستھان کے بعض سخت چٹانی علاقوں میں تقریباً 1.29 ملین ٹن اِن-سِچو ریئر ارتھ عناصر (ٹی آر ای او ایکوائزیشن) کے ذخائر موجود ہیں۔
بھارت ریئر ارتھ معدنیات کے لیے دوسرے ممالک پر منحصر نہیں ہے، تاہم ریئر ارتھ مقناطیس اور متعلقہ مصنوعات کے لیے انحصار پایا جاتا ہے۔ اس کی وجوہات درج ذیل ہیں:
- بھارتی ذخائر کا معیار (گریڈ) کم ہے (0.056فیصد–0.058فیصد) اور یہ تابکاری سے جڑے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا استخراج طویل، پیچیدہ اور مہنگا ہو جاتا ہے۔
- سی آر زیڈ ضوابط، مینگرووز، جنگلات اور بے قابو آبادی کی وجہ سے کان کنی کے قابل ذخائر محدود ہیں، جس سے پیداوار کی مقدار پر پابندی لگتی ہے۔
- ریئر ارتھ ویلیو چین کے درمیانی مرحلےمیں صنعتوں کی کمی ہے، جیسے کہ خالص آکسائیڈ سے دھاتیں، الائے اور مقناطیس تیار کرنا، جس کے باعث ریفائن شدہ ریئر ارتھ کی مانگ کم رہتی ہے۔
مرکزی کابینہ نے 26 نومبر 2025 کو ‘‘سِنٹرڈ ریئر ارتھ پرمننٹ میگنیٹ کی تیاری کو فروغ دینے کی اسکیم’’ کی منظوری دی، جسے 15 دسمبر 2025 کو نوٹیفائی کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد بھارت میں سالانہ 6,000 میٹرک ٹن (ایم ٹی پی اے) سِنٹرڈ ریئر ارتھ پرمننٹ میگنیٹس (آرای پی ایم) کی مینوفیکچرنگ کا قیام ہے تاکہ خود انحصاری بڑھے اور بھارت عالمی مارکیٹ میں ایک اہم کردار ادا کر سکے۔
اس اسکیم کی کل مالی لاگت 7,280 کروڑ روپے ہے، جس میں6,450 کروڑ روپے سیلز سے منسلک مراعات (پانچ سال کے لیے)،730 کروڑ روپے سرمایہ جاتی سبسڈی شامل ہے، تاکہ 6,000 ایم ٹی پی اے کی پیداواری صلاحیت قائم کی جا سکے۔
ریئر ارتھ پرمننٹ میگنیٹس (آرای پی ایمز)، دنیا کے طاقتور ترین مقناطیس میں شمار ہوتے ہیں اور یہ درج ذیل شعبوں،الیکٹرک گاڑیاں،قابلِ تجدید توانائی،جدید الیکٹرانکس،فضائی و خلائی آلات اوردفاعی نظام میں نہایت اہم ہیں۔ یہ اسکیم ملک میں مکمل ویلیو چین قائم کرنے کا ہدف رکھتی ہے، جس میں ریئر ارتھ آکسائیڈ کی پروسیسنگ سے لے کر دھاتوں اور الائے کی تیاری اور آخر میں تیار مقناطیس کی پیداوار شامل ہے۔
بھارت کو میگنیٹس کی پیداوار میں عالمی سطح پر خاص بنانے کے لیے حکومتِ ہند نے درج ذیل اقدامات کیے ہیں:
- محکمۂ ایٹمی توانائی (ڈی اے ای) نے آندھرا پردیش کے ویزاگ میں ریئر ارتھ پرمننٹ میگنیٹ(آر ای پی ایم) پلانٹ قائم کیا ہے، جہاں سالانہ 3 ٹن سامیریم کوبالٹ (ایس ایم سی او) میگنیٹس تیار کیے جائیں گے۔ یہ اعلیٰ کارکردگی والے ریئر ارتھ میگنیٹس دفاعی اور ایٹمی توانائی جیسے اسٹریٹجک شعبوں میں استعمال ہوتے ہیں۔
- آر ای پی ایم اسکیم کی تکمیل کے لیے، مرکزی بجٹ 27-2026 میں اڈیشہ، کیرالہ، آندھرا پردیش اور تمل ناڈو میں مخصوص ‘‘ریئر ارتھ کوریڈورز’’ قائم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
*****
ش ح۔ع ح ۔ج ا
U-5296
(ریلیز آئی ڈی: 2248208)
وزیٹر کاؤنٹر : 11