وزارت خزانہ
سی بی ڈی ٹی نے مالی سال2025-26 میں ریکارڈ 219 ایڈوانس پرائسنگ ایگریمنٹس(اے پی ایز) پر دستخط کیے، جس کے ساتھ ہی قیام کے بعد سے اے پی اے کی مجموعی تعداد 1000 کے سنگ میل (یعنی 1034) کو عبور کر گئی
ایک سال میں اب تک کے سب سے زیادہ 84 دو طرفہ اے پی اے (بی اے پی اے) اور کلیدی معاہدہ شراکت داروں کے ساتھ حاصل کیے گئے نئے سنگ میل کے ساتھ اے پی اے پروگرام ٹیکس کی یقین دہانی کو مستحکم کرنے اور کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بنانے کے لیے جاری ہے
’سیف ہاربر ضابطہ‘ میں حالیہ اصلاحات کے ذریعے اس ڈھانچے کو مزید بہتر بنایا گیا ہے، جس سے کارکردگی، شفافیت اور تعمیل میں اضافہ ہوا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
31 MAR 2026 8:25PM by PIB Delhi
مرکزی بورڈ برائے براہ راست ٹیکس (سی بی ڈی ٹی) نے مالی سال 26-2025 میں ہندوستانی ٹیکس دہندگان کے ساتھ ریکارڈ 219 ایڈوانس پرائسنگ ایگریمنٹس (اے پی ایز) پر دستخط کیے۔ ان میں یک طرفہ اے پی ایز (یو اے پی اے) اور دوطرفہ اے پی اے (بی اے پی ایز) شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اے پی اے پروگرام کے آغاز سے اب تک کل اے پی اے کی تعداد 1000 کا ہندسہ عبور کرکے 1034 ہو گئی ہے، جن میں 750 یو اے پی اے اور 284 بی اے پی اے شامل ہیں۔
رواں برس سی بی ڈی ٹی نے اے پی اے پروگرام کے آغاز کے بعد کسی بھی مالی سال میں سب سے زیادہ اے پی اے پر دستخط کرنے کا ریکارڈ قائم کیا ہے، جس میں مجموعی طور پر 219 اے پی اے شامل ہیں۔ رواں بر س ہی سی بی ڈی ٹی نے 84 بی اے پی اے پر بھی دستخط کیے، جو مالی سال 25-2024میں دستخط کیے گئے 65 بی اے پی اے کے گزشتہ ریکارڈ سے زیادہ ہیں۔ یہ بی اے پی اے ہندوستان کے 13 معاہداتی شراکت دار ممالک، یعنی امریکہ، فن لینڈ، برطانیہ، سنگاپور، جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا، ڈنمارک، سویڈن، فرانس، انڈونیشیا، آئرلینڈ اور نیوزی لینڈ کے ساتھ باہمی معاہدوں کے تحت طے پائے ہیں۔خاص طور پررواں برس ہندوستان نے فرانس، آئرلینڈ، انڈونیشیا اور سویڈن کے ساتھ اپنے پہلے دوطرفہ اے پی اے پر دستخط کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ سی بی ڈی ٹی مسلسل بڑی تعداد میں اے پی اے پر دستخط کرتا رہا ہے، گزشتہ مالی سال میں 174 اے پی اے اور اس سے پہلے والے سال میں 125 اے پی اے پر دستخط کیے گئے تھے۔
’سیف ہاربر ضابطہ، ٹرانسفر پرائسنگ میں یقین دہانی حاصل کرنے کے لیے ایک تیز اور کم لاگت والا متبادل فراہم کرتے ہوئے ایڈوانس پرائسنگ ایگریمنٹ(اے پی اے) فریم ورک کی تکمیل کرتے ہیں۔ 2013 میں شروع کیے گئے سیف ہاربر فریم ورک میں بین الاقوامی لین دین کی مخصوص اقسام کے لیے مقررہ منافع کی حدیں طے کی گئی ہیں۔ اس وقت یہ نظام بارہ اقسام کے لین دین کا احاطہ کرتا ہے، جن میں آئی ٹی اور سافٹ ویئر خدمات، آئی ٹی سے متعلق خدمات، کے پی او، کنٹریکٹ ریسرچ و ڈیولپمنٹ، انٹر گروپ فنانسنگ، گارنٹیز، آٹو پرزہ جات، کم قدر میں اضافہ کرنے والی خدمات اور ہیرے کی صنعت سے متعلق کچھ لین دین شامل ہیں۔
مالیاتی ایکٹ 2026 نے سیف ہاربر ضابطہ میں اہم اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ مختلف ٹیکنالوجی خدمات کے شعبوں کو یکجا کرکے ایک ہی ’انفارمیشن ٹیکنالوجی سروسز‘ کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے، جس کے لیے 15.5 فیصد کی یکساں شرح مقرر کی گئی ہے۔ اہلیت کی حد کو 300 کروڑ روپے سے بڑھا کر 2,000 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ ان ترامیم کے ذریعے ایک زیادہ نظام پر مبنی اور خودکار فریم ورک بھی نافذ کیا گیا ہے، جس سے تفصیلی جانچ اور انتظامی مداخلت کی ضرورت کم ہو گئی ہے۔
اے پی اے اسکیم’کا مقصد سیف ہاربر ضابطے‘ کے ساتھ قیمتوں کے تعین کے طریقوں کی وضاحت کرتے ہوئے اور پانچ سال تک کے لیے بین الاقوامی لین دین کی آرمز لینتھ قیمت(بازار کے اصول کے مطابق قیمت) کو پیشگی طے کرکے، ٹیکس دہندگان کو ٹرانسفر پرائسنگ کے میدان میں یقین دہانی فراہم کرنا ہے۔ بی اے پی اے ممکنہ یا حقیقی دوہرے ٹیکس سے بچاؤ کا اضافی فائدہ بھی فراہم کرتے ہیں۔ سی بی ڈی ٹی ٹیکس دہندگان کے تعاون پر مبنی رویے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اے پی اے پروگرام کے کامیاب نفاذ میں انہیں کلیدی شراکت داروں کے طور پر اہمیت دیتا ہے۔
****
(ش ح ۔م ن ع۔ ص ج)
U. No. 5278
(ریلیز آئی ڈی: 2248161)
وزیٹر کاؤنٹر : 13