خلا ء کا محکمہ
خلائی اسٹارٹ اپس کے لیے ہندوستان کے پہلے وقف وینچر کیپیٹل فنڈ میں تیزی؛ مالی سال 2027 سے سرمایہ کاری متوقع: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
انتریکش وینچر فنڈ 1005 کروڑ روپے کے فنڈ کے ساتھ کام کر رہا ہے؛ مالی سال 2027 سے سرمایہ کاری متوقع: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
اسپیس اسٹارٹ اپ فنڈ کے لیے سیبی (ایس ای بی آئی )کے بعد کی رسمی کارروائیاں مکمل؛ سرمایہ کاری کا سلسلہ جلد شروع ہوگا: ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے لوک سبھا میں تحریری جواب میں بتایا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 APR 2026 5:32PM by PIB Delhi
سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) نیز وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلا کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ خلائی شعبے کے لیے ہندوستان کا مخصوص وینچر کیپیٹل فنڈ مسلسل پیش رفت کر رہا ہے، اور منتخب اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی سے شروع ہونے کی توقع ہے۔
پارلیمنٹ کے جاری بجٹ اجلاس کے دوران لوک سبھا میں ایک غیر ستارہ سوال کے تحریری جواب میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بتایا کہ ہندوستان کے ابھرتے ہوئے اسپیس ٹیک ماحولیاتی نظام کو فروغ دینے کے لیے قائم کردہ "انترکش وینچر کیپیٹل فنڈ" کو اب کلیدی ادارہ جاتی میکانزم کے ساتھ فعال کر دیا گیا ہے۔
یہ سوال شری بستی پتی ناگا راجو نے خلائی شعبے کے لیے وینچر کیپیٹل فنڈ کی حیثیت، سرمایہ کاری، مستفیدین، منافع اور روزگار کے مواقع سے متعلق اٹھایا تھا۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بتایا کہ یہ فنڈ ایس آئی ڈی بی آئی وینچر کیپیٹل لمیٹڈ (ایس وی سی ایل) نے بطور سرمایہ کاری مینیجر قائم کیا ہے۔ فنڈ نے 31 اکتوبر 2025 کو سیبی سے رجسٹریشن حاصل کی اور 10 نومبر 2025 کو 1005 کروڑ روپے کے مقررہ حجم کے ساتھ اپنا ابتدائی اختتام حاصل کیا۔
اب تک کی پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر موصوف نے بتایا کہ رجسٹریشن کے بعد کی ضروری کارروائیاں، جن میں نگران کی تقرری، متبادل سرمایہ کاری فنڈ (اے آئی ایف ) یونٹس کے اجرا کے لیے ڈپازٹریز کے ساتھ رجسٹریشن، اور اسکریننگ و سرمایہ کاری کمیٹیوں کی تشکیل شامل ہیں، مکمل ہو چکی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسپیس ٹیک اسٹارٹ اپس کا جائزہ جاری ہے، اور چار تجاویز سرمایہ کاری سے قبل کمیٹی کی منظوری حاصل کرنے کے بعد پہلے ہی اعلیٰ مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کے اسپیس ٹیک اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کی نوخیز نوعیت کے پیش نظر بہت سے اسٹارٹ اپس کو ادارہ جاتی سرمایہ کاری کے عمل سے ہم آہنگ ہونے کے لیے منظم رہنمائی درکار ہوتی ہے۔
وزیر موصوف نے بتایا کہ اسٹارٹ اپس کو "ہینڈ ہولڈنگ سپورٹ" فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنے ڈیٹا کو منظم کرنے، دستاویزات کو بہتر بنانے اور مستعدی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے قابل ہو سکیں۔ ان کے مطابق اس سہولت کار نقطۂ نظر کا مقصد اسٹارٹ اپس کو مؤثر انداز میں فنڈنگ تک رسائی دلانا اور ان کی اختراعات کو فروغ دینا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ تفصیلی جانچ، تیسرے فریق کی مستعدی اور دستاویزات کی تکمیل کے بعد مالی سال 2027 کے اوائل میں فنڈنگ کی منظوری اور تقسیم کا پہلا مرحلہ متوقع ہے۔
آخر میں انہوں نے عالمی سطح پر مسابقتی خلائی ماحولیاتی نظام کو فروغ دینے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام نجی شعبے کی شمولیت کو مضبوط کرنے، اختراع کو فروغ دینے اور ہندوستان کو عالمی خلائی معیشت میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔


***
(ش ح۔اس ک )
UR-5256
(ریلیز آئی ڈی: 2248047)
وزیٹر کاؤنٹر : 9