ارضیاتی سائنس کی وزارت
پارلیمانی سوال: موسمی نگرانی اور آب و ہوا کی تحقیقاتی اسٹیشن
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 APR 2026 11:37AM by PIB Delhi
ارضیاتی سائنسز اور سائنس و ٹیکنالوجی (آزادانہ چارج) کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے یکم اپریل 2026 کو لوک سبھا میں بتایا کہ حکومت نے موسمیاتی تبدیلی اور اس سے جڑے شدید موسمی واقعات کی نگرانی اور پیش گوئی کو زیادہ درست بنانے کے لیے جدید اور اعلیٰ درجے کی ٹیکنالوجیز اپنائی ہیں، جن میں ہائی ریزولوشن موسمی و آب و ہوا کے ماڈلز، سیٹلائٹ پر مبنی مشاہداتی نظام، اور مصنوعی ذہانت سے لیس پیش گوئی کے آلات شامل ہیں۔اس وقت وزارتِ ارضیاتی سائنسز کے پاس ایک مضبوط موسمیاتی مشاہداتی نیٹ ورک موجود ہے، جس میں دستی مشاہدہ گاہیں، خودکار موسمی اسٹیشنز (اے ڈبلیو ایس)، خودکار بارش پیما (اے آر جیز)، زرعی اے ڈبلیو ایس، بالائی فضا کی مشاہدہ گاہیں، ڈوپلر موسمی ریڈار (ڈی ڈبلیو آرز) اور سیٹلائٹس شامل ہیں، جو ملک بھر میں موسمیاتی تبدیلی اور شدید موسمی حالات کی نگرانی کرتے ہیں۔
ارضیاتی سائنسزکی وزارت، مسلسل اس نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہے، جس میں موسمی نگرانی کے اسٹیشنز (اے ڈبلیو ایس ، اے آر جیز ، زرعی اے ڈبلیو ایس ، ڈی ڈبلیوآرز اور سیٹلائٹس) کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تحقیق اور ترقی کے ڈھانچے کو بھی وسعت دی جا رہی ہے، تاکہ موسمی پیش گوئی کی درستگی میں اضافہ ہو اور بروقت انتباہی نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔اسی مقصد کے تحت وزارت نے مشن موسم کا آغاز کیا ہے، جس کا ہدف بھارت کو ایک ‘‘موسمی طور پر تیار اور موسمیاتی لحاظ سے باشعور’’ ملک بنانا ہے۔
فی الحال ریاست ہریانہ میں روزانہ سطح کی موسمی ڈیٹا ریکارڈ کرنے کے لیے 8 سرکاری اور غیر سرکاری مشاہدہ گاہیں موجود ہیں، اس کے علاوہ 7 خودکار موسمی اسٹیشنز بھی قائم ہیں۔ مزید برآں، اس ریاست کو نئی دہلی، پٹیالہ اور جے پور میں واقع تین ڈوپلر موسمی ریڈارز کے ذریعے بھی کور کیا جا رہا ہے۔
خشک سالی سے متاثرہ بھیوانی–مہندر گڑھ علاقے کو بھی ایسی سہولیات کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات ہند (آئی ایم ڈی) نے پہلے ہی 2022 میں مہندر گڑھ میں ایک زرعی خودکار موسمی اسٹیشن نصب کر دیا ہے۔
***
ش ح۔ع ح۔ ن م۔
U-5213
(ریلیز آئی ڈی: 2247611)
وزیٹر کاؤنٹر : 8