ارضیاتی سائنس کی وزارت
پارلیمانی سوال: پیشگی انتباہی نظام
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 APR 2026 11:41AM by PIB Delhi
ارضیاتی سائنسز کی وزارت کے تحت بھارتی محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے ایک مختلف قدرتی آفات کا پیشگی انتباہی نظام (ایم ایچای ڈبلیو ایس) تیار کیا ہے۔ اس نظام کا مقصد ایک موثر نظامِ ترسیل کے ذریعے، جس میں مختلف مواصلاتی ذرائع شامل ہیں مختلف شدید موسمی حالات جیسے سمندری طوفان، موسلا دھار بارش،شدید گرمی اور شدید سردی وغیرہ کے دوران درست اور اثرات پر مبنی پیش گوئی اور خطرے پر مبنی انتباہ بروقت جاری کرنا اور اسے عام کرنا ہے۔موسم کی پیش گوئیاں اور انتباہات قومی اور ریاستی سطح پر ڈیزاسٹر مینیجرز، مختلف اسٹیک ہولڈرز اور عوام تک پہنچائے جاتے ہیں۔ یہ معلومات واقعہ سے پہلے تیاری، واقعے کے دوران حفاظتی اقدامات اور واقعے کے بعد بحالی اور بچاؤ کے کاموں کے لیے فراہم کی جاتی ہیں۔
محکمۂ موسمیات 2020 سے مختلف کلر کوڈز کا استعمال کرتے ہوئے ضلع سطح پر اثرات پر مبنی پیشن گوئی(آئی بی ایف) اور خطرے پر مبنی وارننگ (آر بی ڈبلیو) فراہم کر رہا ہے۔ مختلف قدرتی آفات سے متعلق پیشگی انتباہ کے لیے ‘ڈیسیژن سپورٹ سسٹم’ (ڈی ایس ایس) کو محکمۂ موسمیات نے اندرون ملک تیار کیا ہے جو 2023 سے فعال ہے۔ یہ نظام جی آئی ایس پلیٹ فارم پر ضلع سطح پر آئی بی ایف اور آر بی ڈبلیو فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
فی الوقت، دنیا بھر میں ایسی کوئی سائنسی تکنیک دستیاب نہیں ہے جو وقت، مقام اور شدت کے لحاظ سے زلزلوں کی درست پیش گوئی کر سکے؛ اسی لیے ملک میں قبل از وقت زلزلے کی وارننگ دینے کا کوئی ثابت شدہ نظام موجود نہیں ہے۔ وزارت کے تحت نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی (این سی ایس) اپنے سیسمولوجیکل نیٹ ورک کے ذریعے ملک اور اس کے گردونواح میں آنے والے زلزلوں کی نگرانی کر رہا ہے۔ مزید برآں، یہ ادارہ زلزلے کے فوراً بعد اس کے مقام، تاریخ، وقت اور شدت سمیت درست معلومات فراہم کرتا ہے۔ ساتھ ہی، ایک شدت کا نقشہ بھی تیار کر کے عوامی پلیٹ فارم پر جاری کیا جاتا ہے، جو زلزلہ کے مرکز سے گردونواح کے علاقوں تک زمین کے ہلنے کی ممکنہ تبدیلیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ تفصیلات این سی ایس- ایم او ای ایس کی ویب سائٹ، ایپ، ایس ایم ایس، فیکس، ای میل، واٹس ایپ، ایکس اور فیس بک کے ذریعے تمام ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز، اسٹیک ہولڈرز اور عوام کو جلد از جلد دستیاب کرائی جاتی ہیں۔
جل شکتی کی وزارت (ایم او جے ایس) کے تحت سینٹرل واٹر کمیشن (سی بلیو سی) کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ متعلقہ ریاستی حکومتوں کو مقررہ مقامات پر 24 گھنٹے پہلے تک کی قلیل مدتی سیلاب کی پیش گوئی جاری کرے۔ جب پانی کی سطح ایک خاص حد تک پہنچ جاتی ہے، تو بروقت وارننگ جاری کی جاتی ہے۔ سی ڈبلیو سی اس وقت اپنے ویب پورٹل https://aff.india-water.gov.in/ کے ذریعے ملک کے بڑے دریاؤں کے طاس کے لیے بارش پر مبنی ریاضیاتی ماڈلنگ کا استعمال کرتے ہوئے سیلاب کی پیشین گوئی سے متعلق سات روزہ ایڈوائزری فراہم کر رہا ہے۔
سی ڈبلیو سی اپنی تیار کردہ سیلاب کی وارننگز کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے اہم اقدامات اور مختلف ذرائع استعمال کرتا ہے، تاکہ ریاستی حکومتیں، ایس ڈی ایم اے،این ڈی ایم اے اور عوام حفاظتی تدابیر اختیار کر سکیں۔ سیلاب کی یہ پیش گوئیاں فلڈ فورکاسٹنگ ویب سائٹ، فلڈ واچ انڈیا 2.0 ایپ، ای میل، واٹس ایپ، فیس بک، ایکس، یوٹیوب اور این ڈی ایم اے کے ‘سچیت’ پورٹل کے ذریعے تمام اسٹیک ہولڈرز تک پہنچائی جاتی ہیں۔ سی ڈبلیو سی نے ’’فلڈ واچ انڈیا‘‘ موبائل ایپ تیار کی جسے 17 اگست 2023 کو لانچ کیا گیا۔ مزید برآں، سی-فلڈ ایک ویب پر مبنی پلیٹ فارم ہے، جس کا افتتاح 2 جولائی 2025 کو کیا گیا، جو سیلاب کے نقشوں اور پانی کی سطح کی پیش گوئیوں کی شکل میں گاؤں کی سطح تک دو دن پہلے ڈوبنے کی پیش گوئی فراہم کرتا ہے۔
بھارتی محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے ملک کے مختلف حصوں میں شدید موسمی حالات کی نگرانی اور پیش گوئی کے لیے ایک تین سطحی (قومی، علاقائی اور ریاستی سطح) پیشگی انتباہی نظام قائم کر رکھا ہے۔ اسی مناسبت سے، ریاستی سطح پر آئی ایم ڈی اپنے نامزد کردہ ریجنل میٹرولوجیکل سینٹرز ( آر ایم سیز)) اور میٹرولوجیکل سینٹرز (ایم سیز) سے باقاعدگی کے ساتھ اثرات پر مبنی موسمی پیش گوئیاں اور خطرے پر مبنی انتباہات جاری کرتا ہے۔
وزارت نے سمندری طوفان، موسلا دھار بارش اور دیگر شدید موسمی واقعات کے لیے جدید ترین پیشگی انتباہی نظام تیار کیے ہیں۔ ان سسٹمز کو ایک جدید ترین مشاہداتی نیٹ ورک کی مدد حاصل ہے، جس میں سطحِ زمین اور بالائی فضا کے مشاہدات، ریموٹ سینسنگ، ہائی ریزولوشن ڈائنامیکل ماڈلز اور ارضیاتی سائنسز کی وزارت(ایم او ای ایس) کے اداروں کے ذریعے تیار کردہ مکمل طور پر جی آئی ایس پر مبنی ’ڈیسیژن سپورٹ سسٹم‘ (ڈی ایس ایس) شامل ہے۔ یہ نظام فوری انتباہ کے لیے ایک فرنٹ اینڈ کے طور پر کام کرتا ہے تاکہ ملک بھر میں موسمی خطرات کا بروقت پتہ لگایا جا سکے اور ان کی نگرانی کی جا سکے۔ معلومات کی بروقت ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے اس نظام کو جدید ٹیلی کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ ارضیاتی سائنسز کی وزارت (ایم او ای ایس) کی جانب سے موسمی معلومات اور الرٹس کی مؤثر ترسیل کے طریقے درج ذیل ہیں:
- عوامی الرٹس اور معلومات موبائل ایپس جیسے کہ‘موسم’ (ایم اے یو ایس اے ایم)، ‘میگھ دوت’ (ایم ای جی ایچ ڈی او او ٹی) ‘دامنی’ (ڈی اے ایم آئی این آئی) اور‘امنگ’(یو ایم اے این جی) کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں۔
- رجسٹرڈ صارفین کو ای میل اور ایس ایم ایس پر مبنی ناؤ کاسٹنگ اور پیشن گوئی کے الرٹس بھیجے جاتے ہیں۔
- الرٹس کامن الرٹنگ پروٹوکول (سی اے پی) اور سچیت ایپ کے ذریعے جاری کیے جاتے ہیں۔
- معلومات سوشل میڈیا اور ماس میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے شیئر کی جاتی ہیں۔
- ریاستی حکومتوں کے ساتھ تال میل کے ذریعے ڈسٹرکٹ کلکٹرز کو براہ راست ای میل اور واٹس ایپ گروپ نوٹیفیکیشنز کے ذریعے مطلع کیا جاتا ہے۔
- نشریاتی ترسیل کمیونٹی ریڈیو، پبلک براڈکاسٹنگ سسٹمز اور دیگر مقامی مواصلاتی نیٹ ورکس کے ذریعے کی جاتی ہے۔
- ترسیل کا عمل ریاستی حکومت کی موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے بھی کیا جاتا ہے۔
- گرام پنچایت کی سطح پر موسم کی پیش گوئی (جی پی ایل ڈبلیو ایف) کی سہولت پنچایتی راج کی وزارت کے تعاون سےای-گرام سوراج، میری پنچایت ایپ اور ای-مانچتر جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے۔
- دیہی ترقی کی وزارت کے تعاون سے بلاک اور پنچایت کی سطح پر پشو سکھی اور کرشی سکھی تک موسم کی معلومات پہنچائی جاتی ہیں۔
- پیش گوئیاں بھارتی محکمۂ موسمیات کے موسم گرام پورٹل کے ذریعے قابلِ رسائی ہیں۔
یہ معلومات ارضیاتی سائنسز اور سائنس و ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے یکم اپریل 2026 کو لوک سبھا میں پیش کیں۔
********
ش ح۔ک ح ۔ رض
U-5209
(ریلیز آئی ڈی: 2247609)
وزیٹر کاؤنٹر : 18