کیمیکل اور پٹرو کیمیکل کا محکمہ
نئی دہلی میں پارلیمانی ’ کیمیا جات اور کھاد سے متعلق مشاورتی کمیٹی‘ کا اجلاس منعقد ہوا
وفاقی وزیر برائے کیمیکل اور کھاد جناب جگت پرکاش نڈا نے کیمیکل سیکٹر میں بنیادی ڈھانچے کے اقدامات کا جائزہ لیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 MAR 2026 11:28PM by PIB Delhi

کیمیاجات و کھاد اور صحت و خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر جناب جگت پرکاش نڈا کی صدارت میں کیمیاجات اور کھادوں سے متعلق پارلیمانی مشاورتی کمیٹی کا اجلاس آج منعقد ہوا ۔ اس میٹنگ میں کیمیاجات و کھاداور صحت و خاندانی بہبود کی وزیر مملکت محترمہ انوپریہ پٹیل کے علاوہ پارلیمنٹ کے معزز اراکین جناب شیر سنگھ گھوبیا ، جناب متھلیش کمار ، جناب بی پارتھاساردھی ریڈی ، جناب ہیمنت وشنو ساورا ، جناب بھیم سنگھ اور جناب میتیش رمیش بھائی پٹیل نے بھی شرکت کی ۔
کیمیکل اور پیٹرو کیمیکل سیکٹر کی موجودہ قدر تقریباً 220 ارب امریکی ڈالر ہے اور یہ ’وِکست بھارت @2047‘ کے ہدف کی جانب 2030 تک 300 بلین ڈالر، 2040 تک 1 ٹریلین ڈالر اور 2047 تک 2 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کا عزم رکھتا ہے۔ مالی سال 25-2024 کے لیے، اس شعبے سے ہونے والی برآمدات تقریباً 45 بلین امریکی ڈالر تھیں، جو بھارت کی مجموعی تجارتی برآمدات کے تقریباً 10.60 فیصد کے برابر ہیں۔ یہ عالمی سطح پر کیمیکلز کا چھٹا سب سے بڑا اور ایشیا میں چوتھا بڑا پیدا کار(پروڈیوسر) ہے، جبکہ رنگوں جیسے اہم حصوں میں مضبوط پوزیشن رکھتا ہے، دوسرا بڑا مینوفیکچرر اور ایکسپورٹر ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر زرعی کیمیکلز کا یہ تیسرا بڑا برآمد کنندہ ہے۔ کیمیکل انڈسٹری تقریباً 50 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے، جس میں تقریباً 13,000 بڑے پیمانے کے یونٹس کے ساتھ ساتھ تقریباً 4.45 لاکھ مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ایز) شامل ہیں، جو اسے مینوفیکچرنگ، روزگار اور معیشت کا ایک اہم ستون بناتے ہیں۔
محکمہ کے حکام نے کمیٹی کے سامنے ایک پریزنٹیشن دی جس میں اس شعبے کا جائزہ اور شعبے کے فروغ کے لیے محکمے کی جانب سے شروع کیے گئے مختلف اقدامات کی تفصیلات فراہم کی گئیں۔ آج ہونے والی مشاورت کا مرکز ’کیمیکل سیکٹر میں بنیادی ڈھانچے کے اقدامات‘ کا موضوع رہا۔ خاص طور پر، اس بجٹ میں حکومت کی جانب سے ریاستوں میں 3 کیمیکل پارکوں کے قیام میں تعاون کے لیے اعلان کردہ نئی اسکیم پر فعال طور پر غور و خوض کیا گیا۔ مذکورہ اعلان کے مطابق، ان پارکوں کا انتخاب ’چیلنج موڈ‘ کے ذریعے کیا جائے گا جہاں کلسٹر پر مبنی ماڈل کے تحت ’پلگ اینڈ پلے‘ (تیار شدہ) انفراسٹرکچر، مشترکہ سہولیات اور بنیادی ضروریات فراہم کی جائیں گی، جن میں خاص طور پر کیمیکل انڈسٹری کی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے گا۔ یہ پارک صنعت کو قیمتوں کے لحاظ سے مسابقتی بنائیں گے اور ساتھ ہی صنعتی اشتراک کے ذریعے پائیدار ترقی اور سرکلر اکانومی کو فروغ دیں گے۔ مذکورہ اسکیم کے لیے آنے والے مالی سال میں 600 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
زیرِ بحث آنے والے دیگر اقدامات میں پلاسٹک پارکوں کی موجودہ اسکیم اور ’سینٹرز آف ایکسی لینس‘اسکیم شامل ہیں جو اس شعبے میں تحقیق و ترقی کو فروغ دیتی ہیں۔ محکمہ اب تک 9 پلاسٹک پارک اور 18 سینٹرز آف ایکسی لینس قائم کر چکا ہے۔’سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف پیٹرو کیمیکلز انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی‘ (سی آئی پی ای ٹی) جو کہ محکمے کی سرپرستی میں کام کرنے والا ایک خودمختار ادارہ ہے، اس کے تحت مہارت کی فراہمی (اسکلنگ) کے اقدامات بھی زیرِ بحث آئے۔
کیمیاجات و کھاد کے مرکزی وزیر نے کمیٹی کے اراکین کو مختلف زیرِ بحث اقدامات پر اپنی آراء اور تجاویز پیش کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کمیٹی کے ارکان کی فعال شرکت اور مختلف اقدامات کے حوالے سے ان کی جانب سے دی گئی قیمتی تجاویز کو سراہا، تاکہ ان پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کیا جا سکے۔

******
(ش ح –م م–ص ج)
U. No. 5199
(ریلیز آئی ڈی: 2247512)
وزیٹر کاؤنٹر : 10